Code : 4554 64 Hit

زیارت اربعین تاریخ کے آئینہ میں

جیسے ہی صدام ملعون پر زوال آیا عراقیوں نے سب سے پہلے شعائر حسینی کے احیاء کے اس عظیم کام کو انجام دینے کا بیڑا اٹھا کہ جو ایک سنت حسنہ کے طور پر ان کے درمیان پہلے سے موجود تھی۔ لہذا زیارت اربعین کے لئے پا پیادہ قافلوں اور کاروانوں نے کربلا کی سمت بڑھنا شروع کیا اور اس سنت نے اس قدر رواج حاصل کیا کہ صدام کے زوال کے بعد مستقل اس سفر میں عاشقان راہ حق میں اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ زائرین کربلا کی تعداد حج پر جانے والے افراد کی تعداد سے بھی عبور کر گئی۔ اور آج تقریباً ۲ کروڑ سے بھی زیادہ افراد مشی شرکت کرتے ہیں۔۔ دوسری طرف دشمنان دین نے بھی اس سنت کو روکنے کے بہت جتن کئے کبھی کھانے میں زہر ملا دیا جاتا ہے تو کبھی اس کے خلاف شدید قسم کا پروپیگنڈہ کرتے ہیں لیکن یہ حسین علیہ السلام کا راستہ ہے جو انشاء اللہ اب قیامت تک جاری وساری رہے گا ۔

ولایت پورٹل: اربعین کی زیارت کرنے کے لئے ہر سال عاشقان امام حسین علیہ السلام دنیا کے دور دراز اور نزدیک سے سفر کرکے عراق پہونچتے ہیں اور پا پیادہ صعوبتیں برداشت کرکے کربلا معلیٰ جاکر فرزند رسول(ص) کی زیارت کا شرف پاتے ہیں خاص طور پر کچھ سالوں سے اس سنت حسنہ نے اہل بیت علیہم السلام کے چاہنے والوں کے درمیان اپنا ایک الگ ہی مقام بنا لیا ہے۔مؤمنین پورے سال اربعین میں مشی اور پیادہ روی کے لئے منتظر رہتے ہیں لیکن ان میں بہت سے افراد سمجھتے ہیں کہ یہ سنت اور یہ روش ابھی کچھ سالوں سے ہی شروع ہوئی ہے اور اسکا کوئی تاریخی پس منظر نہیں ہے جبکہ زیارت اربعین کو اگرتاریخ کی نظر سے دیکھا جائے تو امام حسین علیہ السلام کی شہادت بعد ہی اس سنت حسنہ کی ابتداء ہو چکی تھی ۔
پہلا اربعین
جب امام حسین علیہ السلام کی شہادت ہوئی اور آپکی شہادت کی خبر اسلامی شھروں تک پہنچی تو لوگوں نے امام حسین(ع) کے غم میں عزادری برپا کی اور شھداء کربلا کا سوگ منایا آپ پر گریہ کیا اسی درمیان میں ایک شخص مدینہ سے امام حسین(ع) کی قبر کی زیارت کے قصد سے شھر سے  نکلے تاکہ اپنے آپ کو قبر امام حسیں علیہ السلام تک پہونچائے اس زمانے کے معمر ترین افراد میں جس کا شمار کیا  جائے تو بیجا نہ ہوگا۔ دنیائے اسلام کی بزرگ شخصیات میں سے ایک جسے تاریخ نے جابر ابن عبد اللہ انصاری کے نام سے یاد کیا ہے ۔صحابی رسول (ص) آنکھوں سے کچھ نظر نہیں آتا نابینا تنہا مدینہ سے نکلے تاکہ امام حسین علیہ السلام کی قبرکی زیارت کر سکیں لیکن ایک شخص جسکا نام عطیہ بتایا جاتا ہے ہمراہی کے لئے درخواست کرتا ہے اس طرح یہ دو افراد کا سب سے پہلا کاروان زیارت ابا عبدللہ الحسین علیہ السلام کے لئے کربلا کو روانہ ہوا ، ایک طولانی مسافت طے کر کے یہ لوگ ۲۰ سفر کو کربلا میں وارد ہوئے جابر نے نہر فرات میں غسل کیا اور غسل سے فارغ ہو کر عطیہ سے درخواست کی کہ مجھے قبر امام حسین(ع) تک پہنچا دے اور میرا ہاتھ قبر مبارک پر رکھ دے عطیہ نے جابر کو قبر تک پہنچایا اور آپکا ہاتھ قبر پر رکھا ،جابر قبر سے لپٹ گئے اور گریہ کرنا شروع کیا یہاں تک کہ آپ بے ہوش ہو گئے ،جب آپ ہوش میں آئے تو امام حسین(ع۹ کو مخاطب کرکے کہا ای دوست کیا بات کہ دوست کے سلام کا جواب نہیں دیتے امام حسین(ع) کی قبر سے جواب سلام آیا۔(۱)
اسیران اہل حرم کا کربلا میں ورود
اہل بیت علیہم السلام قید و اسیری سے آزاد ہو کر روز اربعین کربلا میں وارد ہوتے ہیں البتہ اس میں علماء و محققین کے درمیان اختلاف ہے کہ اہل بیت حرم کا یہ قافلہ پہلے اربعین میں کربلا واپس آیا یا دوسرے اربعین میں۔ اگرچہ اہل بیت(ع) کی کربلا واپسی کو  بعض محققین جیسا کہ شہید مطہری اور محمد ابراہیم آیتی رد کرتے ہیں اور محال سمجھتے ہیں لیکن بزرگ علماء جیسا کہ سید ابن طاوس ،شیخ صدوق،مرحوم قاضی طباطبائی اس بات کو اصرار کے ساتھ قبول کرتے ہیں کہ اہل بیت پہلے اربعین ہی میں کربلا واپس آئے  اور شیخ صدوق نے تو حارث بن کعب سے روایت بھی نقل کی ہے کہ فاطمہ امام علی علیہ السلام کی بیٹی فرماتی ہیں کہ ہم کربلا واپس آئے اور امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک کو آپکے جسد مطھر سے منسلک کیا۔(۲)
اسکا مطلب یہ ہے کہ اہل حرم پہلے اربعین کو  کربلا واپس آچکے تھے ۔البتہ محال نہیں ہے کہ یہ قافلہ پہلے اربعین ہی میں کربلا آگئے ہوں چونکہ اہل بیت اطھار(ع) ۱۸  دن کی مسافت طے کر کے ۲۸ محرم کو شام پہنچے جبکہ یہ سفر ظلم و ستم سے پُر تھا پیدل بھی چلایا گیا ،کوفہ میں بھی ٹہرایا  گیا تو اگر شام سے ۱۰ روز بعد بھی آپکو رہا کر دیا گیا اور مستقیم کربلا کی طرف روانہ ہوگئے تو پہنچنا ممکن ہے بہرحال پہلے اربعین ہو یا دوسرے اربعین کو اہل بیت (ع) کا یہ قافلہ وارد کربلا ہوا اور ان ہستیوں کا یہ سفر زیارت اربعین کے اس عظیم اجتماع کا سنگ میل شمار کیا جاتا ہے۔
اہل بیت علیہم السلام اور زیارت اربعین کی ترغیب
آئمہ علیہم السلام کی جانب سے تاکید کے ساتھ زیارت اربعین کی بے پناہ ترغیب ملتی ہے اور امام عسکری علیہ السلام نے تو زیارت اربعین کو مؤمن کی علامات میں سے ایک قرار دیا ہے فرماتے ہیں : عَلَامَاتُ الْمُؤْمِنِ خَمْسٌ؛ صَلَاةُ إِحْدَى وَ خَمْسِینَ وَ زِیَارَةُ الْأَرْبَعِینَ وَ التَّخَتُّمُ فِی الْیَمِینِ وَ تَعْفِیرُ الْجَبِینِ وَ الْجَهْرُ بِبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ۔(۳)
مؤمن کی پانچ علامتیں ہیں رات دن میں اکیاون رکعت نماز کا بجا لانا ،زیارت اربعین کا پڑھنا ،دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہننا ، خاک پر سجدہ کرنا ،اور نماز میں بلند اواز سے بسم اللہ پڑھنا ۔
امام صادق علیہ السلام زیارت امام حسین علیہ السلام پا پیادہ کا ثواب ذکر کرتے ہیں :جو امام حسین علیہ السلام کی پیدل زیارت کرنے کو نکلتا ہے اللہ اسکے ہر قدم پر ایک نیکی لکھتا ہے اور ہر قدم پر اسکا ایک گناہ معاف کیا جاتا ہے اور اسکا ایک درجہ بلند ہو جاتا ہے اور جب وہ زیارت کے لئے جاتا ہے تو اللہ دو فرشتوں کو اسکے لئے معین کرتا جو اس سے نیکی سرزد ہوتی ہے اسکو لکھتے ہیں اور جو بدی اس سے سرزد ہوتی ہے اسکو نہیں لکھتے اور جب وہ زیارت کر کے واپس آتا ہے تو اس سے کہتے ہیں ائے ولی خدا! تیرے تمام گناہ بخش دیئے گئے ہیں اور تو  اللہ ،رسول(ص) اور انکے اہل بیت کے لشکریوں میں سے ہے اور قسم خدا کی ہرگز جہنم کی آگ کو تیری آنکھ نہیں دیکھے گی اور نہ ہی جہنم تجھے دیکھے گی اور نہ ہی تجھے اپنا نوالہ نہیں بنائے گی۔(۴)
بہت سی روایات جو زیارت امام حسین(ع) کے لئے وارد ہوئی ان سے مراد اربیعن کی زیارت پر جانا ہے۔ آئمہ علیہم السلام نے تمام خطرات اور مشکلات کے با وجود اس سنت کو جاری کیا اور اپنے چاہنے والوں کو ترغیب دلائی  کہ وہ زیارت کے لئے جائیں تاکہ یہ ہدایت کا چراغ ماند نہ  پڑنے پائے ۔
زیارت اربعین اور  علماء کی سیرت  
علماء ہمیشہ کوشش کرتے تھے کہ پا پیادہ اربعین کے ایام میں زیارت کے لئے جائیں اور بہت سے افراد تو ہر مشکل اور خطرات کے باوجود پا پیادہ زیارت کے لئے جاتے تھے تاکہ یہ سنت حسنہ ہمیشہ برقرار رہے شیخ انصاری(رح) بہت سے خطرات کے با وجود مشی کرتے تھے اور مؤمنین کو تشویق کرتے تھے لیکن نواصب کے حملہ کرنے کی وجہ سے اور خطرات کی بنا پر لوگ رات کو یا مخفیانہ اس سنت کو  انجام دیتے تھے اسی وجہ سے یہ سنت کچھ کم رنگ ہوگئی لیکن مرزا حسین نوری نے اس سنت کو پھر زندہ کیا اور لوگ پورے طمطراق کے ساتھ دوبارہ مشی کرکے زیارت کے لئے جانے لگے۔
مخفی طور پر زائرین کی رہنمائی کرنے والے سر بکف لوگ
ظالم حکومتیں اور حکمراں ہمیشہ زائرین کے سد راہ رہتے تھے اور ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھاتے تھے کبھی ان  پر گولیاں چلائی جاتی تھی تو کبھی راستوں کو بند کردیا جاتا تھا اور کبھی اس راہ میں انہیں قتل تک کردیا جاتا تھا ۔اور کبھی کبھی پورے پورے قافلوں کو راستے میں لوٹ لیا جاتا تھا۔ لہذا حالات کے تقاضوں کے پیش نظر کچھ شیعیان حیدر کرار(ع) اس کام پر مامور ہوئے کہ وہ زائرین کو ان راستوں کی طرف راہنمائی کریں جن پر خطرات کم ہوں چنانچہ وہ مخفی طور پر زائرین کی راہنمائی کرتے تھے اور یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا رہا۔ ایک سفر نویس جسنے اربعین کے بہت سے سفر کو اپنی کتاب میں لکھا ہے وہ نقل کرتا ہے کہ میں نے ایک شخص ابو محمد کہ جسکی عمر ۶۰ سال تھی اسنے اپے بدن پر گولی کا نشان دکھاتے ہوئے بیان کیا کہ صدام ملعون نے نخلستانوں میں نشانہ بازوں کو مامور کر رکھا تھا تاکہ وہ جو زائرین مخفی طور پر مشی کر کے زیارت کے لئے جاتے ہیں ان پر گولیاں چلائیں  اور چونکہ میں راہنمائی کہ لئے مامور تھا مجھے بھی گولی لگی لیکن میں امام حسین علیہ السلام کے کرم سے زندہ بچ گیا ۔
زوال صدام کے بعد زیارت اربعین کا رنگ
جیسے ہی صدام ملعون پر زوال آیا عراقیوں نے سب سے پہلے شعائر حسینی کے احیاء کے اس عظیم  کام کو  انجام دینے کا بیڑا اٹھا کہ جو  ایک سنت حسنہ کے طور پر ان کے درمیان پہلے سے موجود تھی۔ لہذا  زیارت اربعین  کے لئے پا پیادہ قافلوں اور کاروانوں نے کربلا کی سمت بڑھنا شروع کیا اور اس سنت نے اس قدر رواج حاصل کیا کہ صدام کے زوال کے بعد مستقل اس سفر میں عاشقان راہ حق میں اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ  زائرین کربلا کی تعداد حج پر جانے والے افراد کی تعداد سے بھی عبور کر گئی۔ اور آج تقریباً ۲ کروڑ سے بھی زیادہ افراد مشی  شرکت کرتے ہیں۔۔ دوسری طرف  دشمنان دین نے بھی  اس سنت کو روکنے کے  بہت جتن کئے  کبھی کھانے میں زہر ملا دیا جاتا ہے تو کبھی اس کے خلاف شدید قسم کا  پروپیگنڈہ  کرتے ہیں لیکن یہ حسین علیہ السلام کا راستہ ہے جو انشاء اللہ اب قیامت تک جاری وساری رہے گا ۔
رہبر معظم حضرت آیت اللہ خامنہ ای(مدظلہ) : زیارت اربعین حسینی مقناطیسی جاذبیت رکھتی ہے جسے جابر ابن عبد اللہ انصاری نے مدینہ سے بلند کیا اور آج تک مؤمنین کے دلوں کو اپنی طرف جذب کر رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ حَبیبٌ لا یُجیبُ حَبیبَهُ... مقتل الحسین خوارزمی؛ ج ٢ ص ١۶٧۔
۲۔ امالی الصدوق، ص142۔
۳۔  تهذیب الأحکام (تحقیق خرسان)، ج‏ 6 ، ص: 52۔
۴۔ کامل الزیارات ص۱۳۴۔

 
     

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین