Code : 4400 6 Hit

محمود عباس پر امریکہ سے مذاکرات کرنے کے لیے عربی امریکی دباؤ

تحریک فتح کے نائب صدر نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ پر امریکی حکومت سے مذاکرات کے لئے بہت دباؤ ہے ، واضح کیا کہ رام اللہ دباؤ کا مقابلہ کرے گا اور حماس کے ساتھ اپنے مذاکرات جاری رکھے گا۔

ولایت پورٹل:فلسطینی تحریک فتح کے نائب سربراہ ، " محمود العالول" نے فلسطین ٹیلی ویژن کو دیے جانے والے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ  محمود عباس امریکی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لئے عرب اور بین الاقوامی دباؤ کا شکا رہیں  لیکن وہ اس دباؤ کے سامنے جھکے نہیں ہیں۔
انھوں نے مزید کہا ہے اس مرحلے پر فلسطین کا آپشن اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہے کیونکہ سب جانتے ہیں کہ وہ (کسی خاص پہلو کا نام لئے بغیر) فلسطین کے مسئلے کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
العالول نے مزید کہاکہ ہم قابض حکومت کے ساتھ سکیورٹی کوآرڈینیشن سے پہلے کی صورتحال میں واپس نہیں جائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ فلسطینی عوام قومی تنظیموں میں اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لئے رائے شماری میں جانا چاہتے ہیں، ہمیں ریاستی اور قانون ساز انتخابات کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فتح کے رہنما دو طرفہ مذاکرات کے ایک حصے کے طور پر آئندہ دنوں میں حماس کے ممبروں سے ملاقات کریں گے اور دونوں فریق متعدد امور پر متفق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ فلسطین میں امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین کا فلسطینی عوام کو الگ تھلگ کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکے گا کیونکہ عرب اقوام فلسطین کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور فلسطین زمینی قبضے اور تعلقات کو معمول پر لانے کے خلاف اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گا۔
العالول نے کہا کہ رام اللہ کچھ ممالک اور صیہونی حکومت کے مابین تعلقات معمول پر لانے سے غمگین ہے لیکن اس کے باوجود اس کو ان عرب ریاستوں سے امید ہے جو سمجھوتہ  کی پیش کش کو مسترد کررہی ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین