امریکی پولیس نے ایک اور شہری کا گلا دبا کر قتل کر دیا

امریکی ریاست کیلیفورنیا کی پولیس نے ذہنی بیماری میں مبتلا ایک 30 سالہ شخص کو اسی طرح ہلاک کیا جس طرح اس نے جارج فلائیڈ کو ہلاک کیا تھا۔

ولایت پورٹل: امریکی ریاست کیلیفورنیا کا ایک تیس سالہ شخص جو ذہنی بیماری میں مبتلا تھا پولیس افسران کے ذریعہ اس کا گلا دبائے جانے کے کچھ دن بعد ہی وہ اسپتال میں دم توڑ گیا،انجیلو کوئٹو  کے خاندانی وکیل کی طرف سے 18 فروری کو دائر شکایت  میں  اس کو اضطراب ، افسردگی اور تشویش کا شکار  بتایا گیا ہے،ان کے وکیل جان ایل بورس نے بتایا کہ اس کی بہن نے 23 کو پولیس کو طلب کیا تھا تاکہ اس خوف سے کہ وہ ان کی ماں کو نقصان پہنچا سکتا ہے،بورس کے مطابق  جب کیلیفورنیا کے دو پولیس افسران ان کے گھر پہنچے تو انہوں نے صورتحال کو سمجھنے کی کوئی کوشش نہیں کی اور اس کے بجائے فوری طور پر اس لڑکے کو اپنی ماں کی باہوں سے کھینچ لیا جس نے اسے پرسکون کرنے کے لئے پکڑا ہو تھا، اس کے بعدکوئنٹو بے ہوش  ہوجاتا ہے اور اسے مقامی اسپتال لے جایا جاتا ہےجہاں وہ تین دن بعد دم توڑ دیتا ہے۔
سی این این  کے مطابق  اس کی والدہ نے اس واقعے کا کچھ حصہ اپنے موبائل فون سے ریکارڈ کیا جس میں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ اس کی ماں نے جب اسے بے ہوش دیکھا تو پوچھا کہ اس کو کیا ہوا ہے،پولیس نے جب اس کو اٹھایا تو اس کا چہرہ خون سے بھرا ہوا تھا،اس کی والدہ کے ذریعہ ریکارڈ کردہ ویڈیو میں  یہ واضح نہیں ہے کہ دونوں پولیس افسران کی وردی میں کیمرے تھے یا نہیں جبکہ متاثرہ خاندان کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کیمرہ نہیں تھا،رپورٹ کے مطابق ، اس شخص کی موت کے تقریبا دو ماہ بعد ، پولیس نے اس سلسلے میں کوئی پریس بیان جاری نہیں کیا ہے۔
ان کے خاندانی وکیل نے یہ بھی کہا کہ  پولیس افسران نے اس کو ہتھکڑیاں لگائیں  لیکن انہوں نے اس نوجوان پر حملہ کرنا بند نہیں کیا اور بلاجواز ایسے ہی اس کی گرد پر اپنا گھٹنا رکھ دیا جیسے جارج فلائیڈ کے ساتھ کیا تھا اور اس کو قتل کر دیا ۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین