آل سعود کے ہاتھوں ایک اور شیعہ نوجوان کا سر قلم

سعودی حکام کےاس ملک کے شیعہ جوانوں کے خلاف تازہ ترین اقدام میں منگل کو القطیف شہر کے ایک شیعہ نوجوان احمد علی سعید الجنبی کو پھانسی دے دی۔

ولایت پورٹل:العہد نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے ملک میں ایک اور شیعہ نوجوان کو پھانسی دے دی،رپورٹ کے مطابق سعودیوں نے منگل کو القطیف میں ایک شیعہ نوجوان احمد علی سعید الجنبی کو پھانسی دے دی، رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے اس سے قبل الجنبی کو پرامن احتجاج میں حصہ لینے پر حراست میں لیا تھا۔
 دریں اثنا ، سعودی وزارت داخلہ نے حال ہی میں مصطفی بن ہاشم بن عیسی الدرویش کو پھانسی دینے کا اعلان کیا جو ایک شیعہ نوجوان ہے جس پر 2012 کے مظاہروں کی تصاویر رکھنے کا الزام ہے۔
ادھر ایمنسٹی انٹرنیشنل اس سے قبل سعودی حکام کی جانب سے پھانسی کی پالیسی میں شدت کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کرچکی ہے،اس گروپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب نے جی 20 کی صدارت کے خاتمے کے بعد سےپھانسی کی سزا پر عملدرآمد کرنے کی اپنی پالیسی کو تیز کر دیا ہے۔
 رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یہ بھی کہاکہ سعودی حکام مسلسل لوگوں کا تعاقب کر رہے ہیں، وہ لوگ جنہوں نے آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا یا حکومت پر تنقید کی،واضح رہے کہ سعودی حکام نے نومبر 2020 کے آخر میں جی 20 کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے کم از کم 13 افراد کو غیر منصفانہ مقدمات میں مجرم قرار دیا ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2020 میں سعودی عرب میں پھانسیوں کی تعداد میں 85 فیصد کمی واقع ہوئی  لیکن جیسے ہی جی 20 کی صدارت ختم ہوئی  پھانسی کی سزاکی پالیسی کو تیزی سے دوبارہ شروع کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں سال  کےجنوری  سے جولائی کے مہینوں کےدرمیان سعودی عرب میں کم از کم 40 افراد کو پھانسی دی گئی، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یہ بھی کہا کہ یہاں تک کہ رہائی پانے والے انسانی حقوق کے کارکنوں کو اب بھی سفر کرنے سے روکا جارہا ہے نیز انھیں سوشل میڈیا تک رسائی کی اجازت نہیں ہے جبکہ 2021 میں خواتین انسانی حقوق کے محافظوں جیسے لجین الحزلول ، نسیمه الساده اور سمر بدوی کی رہائی بھی محدود کرنے والی شرائط پر ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین