سعودی عرب کا ایک اور سرگرم سماجی کارکن جیل میں قتل

سعودی عرب میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو برملا کرنے والا اس ملک کا ایک سماجی کارکن مہینوں قید کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد آخر کار جسمانی ایذاؤں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔

ولایت پورٹل:سعودی حکومت کی جانب سے ٹویٹر کمپنی کی جاسوسی کروانے کے مسئلہ کو منظر عام پر آئے ہوئے ابھی کچھ ہی دن نہیں گذرے  تھے کہ سوشل میڈیا کے اس ذریعہ ابلاغ پر سرگرم ایک سعودی شہری کے جیل میں جاں بحق ہونے کی خبر سامنے آگئی ہے،عربی 21 نیوز ویب سائٹ  نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ سعودی عرب کے نامہ نگار تقریبا نو مہینے سے    قید ترکی الجاسر  جیل کی ایذائیں برداشت نہ کر پاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا ہے ،الجاسر پر الزام تھا کہ وہ کشکول نامی اکاؤنٹ کے ذریعہ سعودی شاہی خاندان کے اسکینڈل فاش کر تاہے،رپورٹ کے مطابق  اس کو دبئی میں ٹویٹر کے دفتر سے سعودی حکومت کے لیے جاسوسی کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد اس کو گرفتار کیا گیا جس کے بعد ریاض حکام کو اس کی جنی معلومات حاصل ہوئیں،ترکی الجاسر نے ٹویٹر کے اپنے صفحہ پر سعودی عرب میں ہونے والی انسانی حقوق کی پایمالی کا پردہ فاش کیا تھا جس کی وجہ سے  وہ حکام کے عتاب کا شکار ہوگیا۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین