Code : 676 71 Hit

ابو عمارہ خزیمہ بن ثابت انصاری

ابو عمارہ خزیمہ بن ثابت نے اپنی زندگی میں بت پرستی سے مقابلہ کیا اور اس کے آثار کو محو کرنے میں تعاون کیا،قرآن مجید کی جمع آوری حدیث غدیر کی روایت اور صدر اسلام سے لیکر حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن معرکہ(بدر سے لیکر صفین تک وغیرہ)میں شرکت کی اور اپنے اشعار اور خطابات سے اسلام کی شایان شأن خدمت کی اور آخر کار امیرالمؤمنین(ع) کے پرچم حق کے سائے میں لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام ! دین اسلام کی حقیقی معرفت حاصل کرنے کے لئے ایک بہترین راستہ یہ ہے کہ ہم پیغمبر اکرم(ص) اور آئمہ علیہم السلام  کے باوفا اصحاب کو پہچانیں چنانچہ ہماری کوشش یہ رہتی ہے کہ ہم ہر کالم میں کسی نہ کسی گرانقدر صحابی کا تذکرہ کریں کہ جس نے اپنی زندگی اسلام کے حیات بخش قانون کے سائے میں گذاری اور کمال و سعادت تک پہونچے۔
ابو عمارہ خزیمہ بن ثابت انصاری،بنی خطمہ(قبیلہ اوس کی ایک شاخ اور گروہ انصار میں) سے ہیں۔وہ اپنے قبلہ کے سب سے شجاع انسان تھے  اور اپنی پاک طینت و فطرت کے سبب اسلام کے گرویدہ ہوئے اور الہی اقدار کے متعلق اپنے محکم عقیدہ کی بنیاد پر پیغمبر اکرم(ص) کے اصحاب کے درمیان ممتاز حیثیت رکھتے تھے اور تاریخ اصحاب میں ابوعمارہ ہی ایسے شخص ہیں جس اکیلے کی گواہی کو رسول اسلام(ص) نے دو گواہوں کے مترادف قرار دیا تھا اور ان کو ’’ذو الشھادتین‘‘ کے لقب سے نوازا تھا۔
اور حضرت علی علیہ السلام  نے خزیمہ بن ثابت کی تجلیل میں ان کی شہادت کے بعد یہ جملات ارشاد فرمائے تھے:’’أَیْنَ عَمَّارٌ وَأَینَ ابْنُ التَّیِّهانِ وَأَیْنَ ذُو الشَّهادَتَیْنِ وَاَیْنَ نُظَراؤُهُمْ مِنْ اِخْوانِهِمُ الَّذِینَ تَعاقَدُوا عَلَی الْمَنِیَّةِ وَاُبْرِدَ بِرُؤُوسِهِمْ اِلَی الْفَجَرَة‘‘۔
اور عمار کہاں گئے؟ ابن تیہان کہاں ہیں؟ ذو الشھادتین کہاں ہیں؟اور وہ افراد کہاں ہیں جنہوں نے اپنے بھائی(علی(ع) سے جانثاری کا عہد کیا تھا اور جنہوں نے اپنے عہد کو پورا کرتے ہوئے اپنے سروں کو ستمگروں کے واسطے ہدیہ کے طور پر بھیجا تھا؟
یہ جملات ارشاد فرمانے کے بعد امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اپنے دست مبارک کو اپنے محاسن پر پھیرا اور کچھ دیر اپنے ان وفادار اصحاب کے فراق و جدائی پر اشک بہاتے رہے اور پھر ان کی نیکیوں کو اس طرح یاد کرنے لگے:’’ أوِّهِ عَلَی اِخْوانِیَ الَّذِینَ تَلَوُا الْقُرْآنَ فَاَحْکَمُوهُ وَتَدَبَّرُوا الْفَرْضَ فَاَقَامُوهُ اُحْیَوُا السُّنَّةَ وَاَماتُوا الْبِدْعَةَ دُعُوا لِلْجِهادِ فَاَجَابُوا وَوَثِقُوا بِالْقَائِدِ فَاتَّبَعُوهُ‘‘۔ہائے افسوس ہے مجھے اپنے ان بھائیوں پر کہ جنہوں نے قرآن کی تلاوت کی اور اس کے مطابق عمل کیا اور جنہوں نے واجبات الہی میں غور و خوض کیا اور انہیں قائم کیا، سنتوں کو زندہ کیا اور بدعتوں کا خاتمہ کیا انہیں جب جہاد کے لئے پکارا گیا تو انہوں نے لبیک کہا ان لوگوں نے اپنے قائد و رہبر پر اعتماد کیا اور صدق دل سے اس کی اطاعت کی۔
ابو عمارہ خزیمہ بن ثابت نے اپنی زندگی میں بت پرستی سے مقابلہ کیا اور اس کے آثار کو محو کرنے میں تعاون کیا،قرآن مجید کی جمع آوری حدیث غدیر کی روایت اور صدر اسلام سے لیکر حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن معرکہ(بدر سے لیکر صفین تک وغیرہ)میں شرکت کی اور اپنے اشعار اور خطابات سے اسلام کی شایان شأن خدمت کی اور آخر کار امیرالمؤمنین(ع) کے پرچم حق کے سائے میں لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔
یہ ابوعمارہ خزیمہ بن ثابت کی تاریخ زندگی کے کچھ زرین عناوین ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम