Code : 2317 75 Hit

امریکہ اعتماد کے لائق نہیں،کردوں کے انجام سے سبق سیکھے عرب ممالک: عطوان

عرب کے مشہور سیاسی و خغرافیائی تجزیہ نگار عبد الباری عطوان نے خلیج فارس کے عربی ممالک کو آگاہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہیں امریکہ کے جھانسے میں نہیں آنا چاہیئے اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر اس پر اعتماد کرنے کی پالیسی کو ترک کردینا چاہیئے چونکہ امریکہ کا جب بھی خزانہ خالی ہوتا ہے وہ عرب ممالک سے وصول ہونے والے ٹیکس کی دروں میں اضافہ کردیتا ہے نیز خطے میں ایران کا خوف پھیلا کر اپنے گودام کے پرانے ہتھیار بھاری رقموں سے فروخت کردیتا ہے۔

ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق آج بحرین میں تقریباً 60 ممالک سر جوڑ کر بیٹھے ہیں اور جن کی سرپرستی حسب دستور امریکہ کررہا ہے اور اس کانفرنس کا مقصد ایران کا خوف پھیلا کر عرب ممالک سے زیادہ سے زیادہ ٹیکس وصولنا اور انہیں اپنے گوداموں میں پڑے ایکسپائر ہتھیار فروخت کرنا ہے۔
عرب کے مشہور سیاسی و خغرافیائی تجزیہ نگار عبد الباری عطوان نے خلیج فارس کے عربی ممالک کو آگاہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہیں امریکہ کے جھانسے میں نہیں آنا چاہیئے اور آنکھوں پر پٹی باندھ کر اس پر اعتماد کرنے کی پالیسی کو ترک کردینا چاہیئے چونکہ امریکہ کا جب بھی خزانہ خالی ہوتا ہے وہ عرب ممالک سے وصول ہونے والے ٹیکس کی دروں میں اضافہ کردیتا ہے نیز خطے میں ایران کا خوف پھیلا کر اپنے گودام کے پرانے ہتھیار بھاری رقموں سے فروخت کردیتا ہے۔
رأی الیوم کے اس تجزیہ نگار نے لکھا کہ منامہ کانفرنس کا ایک مقصد غاصب صہیونی حکومت کو خلیج فارس کے پانیوں کی حفاظت میں شریک کرنا ہے جب کہ جو لوگ بھی حقیقت کو دیکھنے اور سننے کے عادی ہیں وہ یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ نہ تو اسرائیل دریائے خلیج فارس کے ساحل پر واقع ہے اور نہ ہی اس کے پاس کوئی طاقتور دریائی فوج ہے اور خاص طور پر 2006 میں جب حزب اللہ نے اس کی ایک کشتی کو تباہ کیا تھا اس وقت سے اسرائیل کی دریائی فوج لبنان کے ساحل تک بھی جانے کی ہمت نہیں کرتی۔
عرب کے اس مشہور تجزیہ نگار نے خلیجی ممالک کے پانیوں کی حفاظت میں اسرائیل کو سہیم و شریک بنانے پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا کہ جب 60 ممالک، جن میں سرفہرست امریکہ کے اس خطے میں کئی جنگی بیڑے اور بڑی بڑی چھاونیاں موجود ہیں تو پھر دریائی حفاظتی انتظام میں اسرائیل کی کیا ضرورت محسوس ہوئی؟
عبد الباری عطوان نے امریکہ کے ذریعہ ایران فوبیا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا: امریکہ اور دیگر تمام عرب ممالک کو یہ بات سمجھ لینا چاہیئے کہ اسرائیل کے سبب ہی اس خطے کے حالات خراب ہوئے ہیں ایران کی وجہ سے نہیں، ایران تو اس خطے میں ہزاروں برس سے موجود ہے ۔ بس اس سے یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ جب امریکہ عربوں سے زیادہ دولت وصولنا چاہتا ہے تو اس کے پاس ایران فوبیا کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہوتا۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम