Code : 1264 7 Hit

ایران اور مشرق وسطی سے متعلق امریکہ کی ناکام پالیسیاں(تجزیہ)

امریکہ نے حتی اپنی عزت اور بین الاقوامی وقار بھی داو پر لگاتے ہوئے تکفیری دہشت گرد عناصر کے ذریعے خطے میں اثرورسوخ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اس کی تمام تر کوششوں اور سازشوں کا نتیجہ خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کی طاقت اور اثرورسوخ میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔

ولایت پورٹل:کم از کم گذشتہ بیس برس کے دوران امریکہ نے عالمی سطح پر دنیا کے مختلف حصوں خاص طور پر مغربی ایشیا سے متعلق اپنی حکمت عملیوں کی تصویر پیش کرنے میں مختلف قسم کے ہتھکنڈوں کا سہارا لیا ہے،ان ہتھکنڈوں میں میڈیا کے ذریعے نفسیاتی پروپیگنڈا، اپنی طاقت اور اثرورسوخ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور دیگر نفسیاتی ہتھکنڈے شامل ہیں جو انتہائی کمزور اور ناقابل اعتماد بنیادوں پر استوار تھے، شاید یہ کہنا درست ہو گا کہ مشرق وسطی میں ایران کے مقابلے میں امریکہ کی اسٹریٹجیز کی ناکامی کی بڑی وجہ یہی تھی کہ انہیں مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کی بجائے مذکورہ بالا کمزور بنیادوں پر استوار کیا گیا تھا، یوں نہ صرف خطے سے متعلق امریکی پالیسیاں اور حکمت عملی ناکامی کا شکار ہو گئی بلکہ دوسری طرف ایران یا دیگر ذہین کھلاڑیوں کو اپنی اسٹریٹجیز آگے بڑھانے کیلئے سنہری موقع بھی ہاتھ آ گیا، اس بات کی تازہ ترین مثال امریکہ کی جانب سے شام اور عراق میں دہشت گرد گروہوں کو اپنے سیاسی اہداف کے حصول کیلئے استعمال کرنا تھا، امریکہ نے اس حکمت عملی کی بنیاد خطے کی کمزور اور عوامی حمایت سے عاری حکومتوں جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو قرار دیا۔
 دوسری طرف امریکہ نے دوسروں پر رعب ڈالنے والے نفسیاتی ہتھکنڈے اپنائے لیکن ان کا نتیجہ کیا نکلا؟ آج امریکہ مالی، لاجسٹک، انسانی قوت، فوجی، سکیورٹی اور سیاسی شعبوں میں وسیع مقدار میں بھاری اخراجات کرنے کے باوجود خالی ہاتھ کھڑا ہے۔ امریکہ نے حتی اپنی عزت اور بین الاقوامی وقار بھی داو پر لگاتے ہوئے تکفیری دہشت گرد عناصر کے ذریعے خطے میں اثرورسوخ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن اس کی تمام تر کوششوں اور سازشوں کا نتیجہ خطے میں اسلامی مزاحمتی بلاک کی طاقت اور اثرورسوخ میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوا ہے جبکہ وہ خود خفیہ طور پر سفارتکاری کے ذریعے اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے اسلامی مزاحمتی قوتوں کے پاوں پکڑنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ اگر ماضی میں امریکہ کے طیارہ بردار جہاز کے اپنے ساحل سے حرکت کرتے ہی دنیا میں حکومتیں گر جاتی تھیں تو آج اس کے طیارہ بردار جہازوں کا پورا فلیٹ جنگی کشتیوں کے ہمراہ انتہائی احتیاط اور بچتے بچاتے آبنائے ہرمز سے عبور کرتا دکھائی دیتا ہے جبکہ سنٹکام کے دہشت گرد آبنائے باب المندب میں بھی امن و امان کے خواہاں نظر آتے ہیں۔
 امریکہ کی ناکام حکمت عملیوں کی ایک اور مثال ایران کے خام تیل کی برآمدات کو زیرو کرنے کی کوشش ہے۔ ایران نے اس وقت ریاضتی معیشت اپنا رکھی ہے جس کی روشنی میں اس کی خام تیل کی برآمدات میں کمی نہ صرف ایران کے حق میں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے بلکہ مغربی ممالک حتی امریکہ میں انرجی کے شدید بحران کا باعث بن سکتی ہے۔ اس بار بھی ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی اس حکمت عملی کی بنیاد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ان وعدوں پر رکھی جو انہوں نے ایران کے خام تیل کی عدم موجودگی میں اپنی برآمدات کے ذریعے عالمی منڈی میں تیل کی کمی پورا کرنے کے بارے میں دے رکھے تھے۔ تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم "اوپیک" کا رکن ہونے کے ناطے سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات اس تنظیم کی جانب سے مقرر کردہ مقدار سے زیادہ تیل برآمد نہیں کر سکتے اور اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو ان کا یہ اقدام ایک غیر قانونی اقدام تصور کیا جائے گا۔ لہذا ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر ایران کے خلاف کمزور لڑکھڑاتے سہاروں کے ذریعے میدان میں اترے اور شدید ناکامی کا منہ دیکھنا پڑ گیا۔
 موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تمام تر اسٹریٹجیز سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر استوار ہوتی ہیں۔ فارسی میں ایک معروف کہاوت ہے کہ "کمزور اور پرانی رسی کے ذریعے کنویں میں نہیں اتریں۔" ڈونلڈ ٹرمپ کی اصلی غلطی یہی ہے کہ وہ کمزور اور پرانی رسی کے ذریعے کنویں میں اترتے ہیں۔ اگرچہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات خطے میں ایران کو اپنا حریف ملک تصور کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ خلیجی ریاستیں ایران سے موازنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ ایران میں ایک مضبوط سیاسی نظام حکمفرما ہے جسے عوام میں حد درجہ محبوبیت اور بھرپور عوامی حمایت حاصل ہے جبکہ سعودی عرب سمیت دیگر رجعت پسند عرب ریاستوں میں ایسے افراد حکمفرما ہیں جو صرف اور صرف طاقت کے زور پر اپنی عوام پر راج کر رہے ہیں۔ اگر ان ممالک میں عوام کو ذرہ برابر سیاسی آزادی حاصل ہو تو وہ سب سے پہلا کام یہ کریں گے کہ موجودہ حکمرانوں اور ان کے فرسودہ اور عصر حجر سے تعلق رکھنے والے سیاسی نظاموں کو اٹھا کر دور پھینک دیں گے۔
آج جب دنیا بھر میں عوام کی شعوری سطح اس حد تک بلند ہو چکی ہے کہ وہ اپنے جائز حقوق کے دفاع میں آواز اٹھانے کے قابل ہو گئے ہیں تو سعودی عرب میں بنیادی ترین انسانی حقوق کے مطالبے پر انسانوں کی گردنیں اڑا کر ان کے بدن شہروں میں لٹکا دیے جاتے ہیں،ایسی حکومتیں بیرونی حمایت کے سوا کہاں باقی رہ سکتی ہیں۔
تحریر: ہادی محمدی
اسلام ٹائمز


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम