Code : 4149 25 Hit

علامہ مجلسی(رح) حیات اور کارنامے

علامہ مجلسی اسلامی علوم میں اس قدر شہرت رکھتے ہیں کہ ان کی علمی مرتبت ہرگز بیان اور توضیح کے محتاج نہیں ہے۔ وہ ان بزرگوں میں سے ہیں جو خاص جامعیت سے بہرہ مند ہیں۔ وہ تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، تاریخ، رجال اور درایہ جیسے علوم ميں سرآمد روزگار تھے۔ بحار الانوار نامی عظيم مجموعے پر اجمالی سی نظر سے اس نکتے کا بآسانی ادراک کیا جاسکتا ہے۔

ولایت پورٹل: محمد باقر بن محمد تقی (1037-1110 ھ) علامہ مجلسی و مجلسی ثانی کے نام سے معروف، عالم اسلام کے مشہور ترین فقہاء، محدثین اور صفویہ دور حکومت کے با اثر شیعہ علما میں شمار ہوتے تھے۔
علامہ مجلسی کا حدیث نگاری کی طرف زیادہ رجحان تھا اور عقیدے کے اعتبار سے اخباریوں کے زیادہ نزدیک تھے۔ آپ کی سب سے مشہور تالیف بحار الانوار، احادیث کا ایک بہت بڑا خزینہ ہے جس نے احادیث کی احیاء میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کے دیگر مشہور آثار میں مرآة العقول، حق الیقین، زاد المعاد، تحفۃ الزائر، عین الحیات، حیات القلوب، جلاء العیون، حلیۃ المتقین وغیرہ شامل ہیں۔
متعدد قلمی آثار اور شاگردوں کی تربیت کے ذریعہ انہوں نے شیعہ ثقافت اور اپنے بعد آنے والے علما کی علمی روش پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ صفویہ دور حکومت میں سیاسی اور اجتماعی سرگرمیوں کی وجہ سے آپ ہر خاص و عام میں نہایت مقبول تھے یہاں تک کہ شاہ سلیمان صفوی کے دور میں آپ شیخ الاسلامی کے مقام پر فائز ہوئے اور سلطان حسین صفوی کے دور کی با اثر شخصیات میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔
ولادت اور نسب
علامہ مجلسی سنہ 1037 ہجری میں اصفہان میں پیدا ہوئے۔(۱) ان کی ولادت صفویہ کے دور میں شاہ عباس اول کی بادشاہی کے آخری سال میں ہوئی۔ ان کے والد علامہ محمد تقی مجلسی (مجلسی اول)، اپنے زمانے کے نامور اکابرین اور مجتہدین میں سے تھے اور شیخ بہائی، ملا عبداللہ شوشتری اور میر داماد جیسے برجستہ علماء کے شاگرد رہے ہیں۔ آپ کی والدہ صدر الدین محمد عاشوری قمی کی بیٹی اور علم و فضیلت کے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔(۲) کہا جاتا ہے کہ آپ کی 3 زوجات تھیں جن سے آپ کے 4 بیٹے اور 5 بیٹیاں تھیں۔(۳)
مجلسی خاندان
علامہ مجلسی کا خاندان حالیہ صدیوں کے انتہائی شہرۂ آفاق شیعہ خاندانوں میں سے ہے اور اس خاندان میں آج تک 100 سے زیادہ جلیل القدر اور بزرگ علماء گذرے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ ان کے دادا ملا مقصود علی بڑی شاندار مجالس پڑھا کرتے تھے یا یہ کہ انھوں نے اپنے اشعار میں اپنا تخلص مجلسی رکھا تھا اسی وجہ سے ان کا خاندان مجلسی کہلانے لگااور اسی عنوان سے مشہور ہوا۔(۴) دوسری نقل یہ ہے کہ علامہ محمد باقر کے والد محمد تقی اصفہان میں مجلس نامی گاؤں میں رہتے تھے اس وجہ سے یہ خاندان مجلسی کے عنوان سے مشہور ہوا۔(۵)
ان کے جد امجد مشہور حافظ و محدث ابو نعیم اصفہانی ہیں۔ آپ کے دادا ملا مقصود علی ایک پرہیزگار شاعر اور عالم فاضل سمجھے جاتے ہیں۔(۶) ان کی دادی محدث بزرگوار شیخ کمال الدین درویش محمد بن شیخ حسن نطنزی اصفہانی کی بیٹی تھیں۔ ملا محمد باقر کے دو بھائی میرزا عزیز اللہ مجلسی اور ملا عبداللہ مجلسی تھے اور محدث نوری (میرزا حسین نوری) نے ان دونوں کی مدح کی ہے۔ آمنہ بیگم علامہ مجلسی کی نامی گرامی ہمشیرہ ہیں جو اپنے زمانے کی عالمہ خواتین میں سے تھیں اور ملا صالح مازندرانی کی شریک حیات تھیں۔(۷)
علمی مقام و منزلت
علامہ مجلسی اسلامی علوم میں اس قدر شہرت رکھتے ہیں کہ ان کی علمی مرتبت ہرگز بیان اور توضیح کے محتاج نہیں ہے۔ وہ ان بزرگوں میں سے ہیں جو خاص جامعیت سے بہرہ مند ہیں۔ وہ تفسیر، حدیث، فقہ، اصول، تاریخ، رجال اور درایہ جیسے علوم ميں سرآمد روزگار تھے۔ بحار الانوار نامی عظيم مجموعے پر اجمالی سی نظر سے اس نکتے کا بآسانی ادراک کیا جاسکتا ہے۔
ان علوم نے فلسفہ اور منطق اور ریاضیات جیسے عقلی علوم نیز ادب، لغت، جغرافیہ، طبّ، نجوم اور علوم غریبہ وغیرہ کے ساتھ مل کر علامہ مجلسی کو ممتاز اور بے مثل شخصیت میں تبدیل کردیا ہے۔
مشکل روایات اور احادیث کے سلسلے میں علامہ کی باریکی بینی اور نکتہ سنجی بہت عمدہ ہے؛ روایات، احادیث اور آیات کے ذیل میں علامہ کے بیانات و توضیحات بہت باریک بینانہ اور عمدہ ہیں اور ان میں خطا بہت کم پائی جاسکتی ہے۔ علامہ روایات اہل بیت(ع) کے علاوہ فقہ میں بھی خاص مہارت رکھتے تھے اگرچہ ان کے فقہی مجلدات ابھی تک قلمی مسودات کی صورت میں ہیں۔
اساتذہ اور مشائخ
میرزا حسین نوری نے اپنی کتاب الفیض القدسی فی ترجمۃ العلامۃ المجلسی میں لکھا ہے کہ علامہ مجلسی نے علماء کی ایک جماعت سے کسب فیض کیا ہے۔ انھوں نے 18 افراد کے نام ذکر کئے ہیں:
ان کے والد ماجد محمد تقی مجلسی متوفیٰ 1071ہجری۔
صاحبِ کتابِ شرح اصول کافی ملا صالح مازندرانی متوفیٰ 1081ہجری۔
تفسیر صافی، المحجۃ البیضاء اور الوافی کے مفسر، مؤلف و مصنف ملا محسن فیض کاشانی متوفیٰ 1081ہجری ۔
صحیفۂ سجادیہ کی شرح ریاض السالکین کے مؤلف، سید علی خان مدنی متوفیٰ 1118ہجری ۔
الصافی فی شرح الکافی کے مؤلف ملا خلیل قزوینی متوفیٰ 1018ہجری ۔
وسائل الشیعہ کے مؤلف شیخ حُرِّ عاملی متوفیٰ 1104 ہجری ۔
ملا محمد طاہر قمی متوفیٰ 1098 ہجری ۔
میرزا رفیع الدین نائینی متوفیٰ 1099 ہجری ۔
ملا حسن علی تستری (شوشتری) متوفیٰ 1029 ہجری ۔
امیر محمد قاسم قہپایی
محمد شریف رویدشتی اصفهانی متوفیٰ 1087 ہجری ۔
امیر شرف الدین حسینی شولستانی متوفیٰ 1060 ہجری ۔
علامہ شیخ علی متوفیٰ 1103 ہجری ۔
علامہ کے شاگرد اور راوی
بعض علماء نے کہا ہے کہ علامہ مجلسی کے مکتب میں 1000 سے افراد نے زانوئے تلمذ تہہ کیا۔ اور ان کے تمام شاگرد اپنے حلقوں کے نامور علماء اور اپنے زمانے کے أعلام اور اکابرین میں سے تھے۔ میرزا حسین نوری نے ان میں سے 49 افراد کے نام ذکر کئے ہیں۔
تألیفات
علامہ مجلسی نے مختلف موضوعات میں ستر عناوین کے تحت فارسی اور عربی زبانوں میں کتابیں تالیف کی ہیں۔ الذریعہ الی تصانیف الشیعہ کے مؤلف شیخ آقا بزرگ طہرانی نے لکھا ہے کہ علامہ کی تالیف کردہ کتب کی تعداد 169 مجلدات تک پہنچتی ہے۔
110 جلدوں پر مشتمل مجموعۂ حدیث بحار الانوار جس کو عظیم شیعہ دائرۃ المعارف کہا گیا ہے۔
26 جلدوں پر مشتمل مرآة العقول في شرح الکافی شیخ کلینی۔
16 مجلدات پر مشتمل شیخ طوسی کی کتاب تہذیب الاحکام کی شرح، ملاذ الاخیار في فهم تهذيب الاخبار 16 مجلدات۔
الوجیزة فی الرجال
عقائد کے موضوع پر فارسی زبان میں حق الیقین۔
فارسی زبان میں مہینوں اور ایام کی دعاؤں اور اعمال پر مشتمل کتاب زاد المعاد۔
شرح الاربعین۔
زیارات پر مشتمل فارسی زبان کی کتاب تحفۃ الزائر۔
فارسی زبان میں آیات و احادیث معصومینؑ سے مأخوذ مواعظ اور حکمتوں پر مشتمل کتاب عین الحیات۔
قرآن اور دعا اور ان کی تلاوت و قرائت کے فضائل اور ثواب کے سلسلے میں کتاب مشکاة الانوار۔
حیاة القلوب انبیاء کے حالات زندگی، رسول خداؐ کی حیات و سیرت کے سلسلے نیز امامت کے بارے میں۔
چودہ معصومین کی تاریخ و مصائب کے بارے میں کتاب جلاء العیون۔
آداب معاشرت، اور روزمرہ فردی اور معاشرتی زندگی کے آداب و مستحبات کے سلسلے میں فارسی زبان میں لکھی گئی کتاب حلیۃ المتقین۔
الفرائد الطریقیہ فی شرح الصحیفۃ السجادیۃ۔
ربیع الاسابیع۔
رسالۂ الدیات۔
رسالۃ الاعتقاد۔
رسالۃ الاوزان۔
رسالۃ الشکوک۔
مقباس المصابیح۔
المسائل الهندیہ۔
صراط النجاة۔
وفات
محمد باقر مجلسی 27 رمضان سنہ 1110 ھ میں 70 سال کی عمر میں شہر اصفہان میں دنیا سے رخصت ہوئے۔ علامہ اپنی وصیت کے مطابق اصفہان کی مسجد جامع کے ساتھ اپنے والد بزرگوار کے پہلو میں سپرد خاک کئے گئے۔ بعض شعراء نے ان کی تاریخ وفات کے بارے اشعار کہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات :
۱۔قصص العلماء، ص205.
۲۔ محسن امین العاملی، اعیان الشیعہ، ج9، ص183.
۳۔لؤلؤ البحرین، ص55.
۴۔الکنی و الالقاب، ج3، ص148. روضات الجنات، ص131.
۵۔اعیان الشیعہ، ج9، ص183.
۶۔ الذریعۃ، ج1، ص151. بحار الانوار، ج102، ص105.



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین