Code : 2272 70 Hit

آل سعود کا غیر شرعی قانون

سعودی عرب میں سیاحت کے لیے آنے والی غیر ملکی خواتین کے لیے برقع پہننا لازمی ہے لیکن وہ ہوٹل میں کسی بھی غیر مرد کے ساتھ کمرہ لے کر رہ سکتیں ہیں۔

ولایت پورٹل:سعودی عرب میں سیاحت کے لیے آنے والے غیر ملکی مرد اور خاتون جوڑوں کو شادی کی سند پیش کرنے کی شرط ختم کردی گئی ہے جس کے بعد غیر شادی شدہ سیاح جوڑے ہوٹل کے ایک ہی کمرے میں رہ سکتے ہیں،بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے وژن 2023 کے تحت سعودی عرب میں غیر شرعی، غیر انسانی، غیر قانونی اور غیر روایتی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ملک کو تاجروں اور سیاحوں کے لیے پُرکشش بنایا جا سکے اور اس طرح ڈوبتی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جا سکے،سعودی عرب میں پہلی بار سیاحوں کے لیے ویزہ پالیسی کا اعلان کیا گیا جس کے ساتھ ہی خواتین سیاحوں کے لیے برقع کی لازمی شرط کر دی گئی اور اب بیرون ملک سے آنے والے غیرشادی شدہ سیاح جوڑوں کو ایک ہی کمرے میں ٹھہرنے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے،واضح رہے کہ سعودی ولیعہد امریکی اور صیہونی دباو میں آکر غیرشرعی،غیرانسانی،غیرقانونی اورغیر روایتی اقدامات کر رہے ہیں۔
سحر

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम