Code : 3153 66 Hit

علی(ع)؛ہدایت کا تنہا وسیلہ

امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ہر کوشش ، کاوش اور آپ کے صبر و سکوت کا اصلی سبب اسلامی مصالح کی رعایت اور لوگوں کی ہدایت تھی۔چونکہ مشکل یہ نہیں تھی کہ علی(ع) کو موت سے ڈر لگتا تھا یا آپ جنگ کرنے سے گھبراتے تھے بلکہ شاید مخالفین اور یہاں تک کہ دوستوں اور حامیوں کی نظریں بھی اسی مقصد تک نہیں پہونچ پائی تھیں جس کے لئے علی(ع) یہ سب زحمتیں برداشت کررہے تھے اور وہ مقصد تھا کہ اسلام محفوظ ،کلمہ توحید سربلند رہیں اور لوگ ہدایت یافتہ بن جائیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام ! جس طرح قرآن مجید کے نازل ہونے کا مقصد لوگوں کی ہدایت ہے۔’’ هدی للناس‘‘۔ ویسے ہی تمام ہادیان برحق خصوصاً مولائے متقیان حضرت علی(ع)  کی تمام کاوشوں اور کوششوں کا خلاصہ لوگوں کو ہدایت یافتہ بنانے میں ہوتا ہے۔چنانچہ اس باب میں ہمارے پاس دو طرح کی روایات موجود ہیں کچھ ایسی روایات ہیں جن کی رو سے ہدایت کا محور و مرکز صرف حضرت امیر علیہ السلام کی ذات والا صفات ہے  اور دوسری کچھ وہ روایات جن کی روشنی میں امام علی علیہ السلام کی زندگی کا سب سے بڑا ہم و غم لوگوں کی ہدایت اور انہیں سیدھا راستہ دکھانا تھا لہذا ہم ذیل میں اس کے کچھ نمونے بیان کررہے ہیں:
۱۔علی(ع) لوگوں کو ہدایت کرنے والے
عبداللہ بن مسعود رسول اللہ(ص) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: معراج میں ، جب میرے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی بھی مقرب فرشتہ واسطہ نہیں تھا ، میں نے یہ ندا سنی :’’ إِنَّمَا أَنْتَ مُنْذِرٌ وَ لِکُلِّ قَوْمٍ هَادٍ. رعد/7‘‘۔ اے رسول ! آپ ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے لئے ایک ہادی ہوتا ہے۔ میں نے عرض کی : پروردگار ! میں  ڈرانے والا ہوں، ہادی( ہدایت کرنے والا) کون ہے ؟
اللہ تعالیٰ  نے فرمایا : اے محمد(ص)! علی بن ابی طالب آپ کی امت کے ہدایت یافتہ لوگوں کے رہبر اور متقی و پرہیزگاروں  کے پیشوا ہیں کہ جو میری رحمت کے سبب انہیں بہشت کی طرف ہدایت کریں گے۔(۱)
۲۔ علی(ع) ہدایت کا پرچم
ابن عساکر وغیرہ نے پیغمبر اکرم(ص) سے روایت کی ہے:’’علیّ رایة الهدى‘‘۔(2) على (ع) ہدایت کا  پرچم ہیں۔
ابن مغازلی شافعی نے اپنی سند کے ساتھ ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرم(ص) نے علی کے بارے میں فرمایا:’’وأنت العَلَم ما بینی وبین أمّتی من بعدی‘‘۔(3) اے علی(ع)! تم میرے اور میری امت کے درمیان ہدایت کا پرچم ہو۔
۳۔ علی(ع) ہدایت کا شہر
جناب قندوزی حنفی نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا:’’إنّ علیاً مدینة هدى فمن دخلها نجى ومن تخلّف عنها هلک‘‘۔(4) بے شک علی(ع) ہدایت کا شہر ہیں پس جو اس میں داخل ہوگیا اسے نجات مل گئی اور جو باہر رہ گیا ہلاکت اس کا مقدر بن گئی۔
۴۔علی(ع) کی ہدایت رسول اللہ(ص) کی ہدایت ہے
حاکم نیشاپوری نے پیغمبر اکرم(ص) سے نقل کیا ہے:’’من أراد أن یحیی حیاتی ویموت مماتی ویسکن جنّة الخلد الّتی وعدنی ربّی فلیتولّ علیّ بن أبی طالب، فإنّه لن یخرجکم من هدىً ولن یدخلکم ضلالة‘‘۔(5) جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ میری طرح جئے اور میری طرح مرے اور اس بہشت میں داخل ہو کہ جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے کیا ہے پس اسے چاہیئے کہ وہ علی کی ولایت سے منسلک ہوجائے چونکہ وہ کبھی تمہیں راہ ہدایت سے نہیں بھٹکائیں گے اور تمہیں گمراہی کی وادی میں داخل نہیں کریں گے۔
اسی طرح ایک دوسرے مقام پر حاکم نیشاپوری اپنی سند سے جناب ابوذر غفاری سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نے ارشاد فرمایا:’’من أطاعنی فقد أطاع الله ومن عصانی فقد عصى الله ومن أطاع علیّاً فقد أطاعنی ومن عصى علیّاً فقد عصانی‘‘۔(6) جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی اور جس نے علی کی پیروی کی اس نے میری پیروی کی اور جس نے علی کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی۔
۵۔علی کی ہدایت سے سرپیچی کفر ہے
ابن عساکر نے اپنی سند میں حذیفہ سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے علی(ع) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا :’’جعلتک عَلَماً فیما بینی وبین أمّتی فمن لم یتّبعک فقد کفر‘‘۔(7) میں نے تمہیں اپنے اور اپنی امت کے درمیان ہدایت کی نشانی قراد دیا ہے پس جس نے تمہاری پیروی نہیں کی وہ یقینی طور پر کافر ہوگیا۔
۶۔علی(ع) صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرنے والے
احمد بن حنبل نے اپنی سند کے ساتھ رسول اللہ(ص) سے نقل کیا ہے:’’إن تؤمّروا علیّاً (ولا أراکم فاعلین) تجدوه هادیاً مهدیّاً یأخذ بکم الطریق المستقیم‘‘۔(8) اور اگر تم علی(ع) کو اپنا امیر بناؤگے(کہ مجھے نہیں لگتا کہ تم ایسا کرو گے)
تو تم انہیں ہدایت یافتہ ہادی پاؤگے کہ جو تمہیں صراط مستقیم کی طرف لے کر جائیں گے۔
۷۔علی(ع) کی جنگ و صلح،ذریعہ ہدایت
جب جنگ صفین کا آغاز ہوا تو امیرالمؤمنین علی (ع) نے ابتداء میں جنگ کرنے سے گریز کیا اس امید کے ساتھ کہ شاید شامیوں کو ہوش آجائے اور وہ حق کی مخالفت کرنے سے باز آجائیں یہاں تک کہ خود آپ کے سپاہیوں میں سے کچھ یہ اعتراض کرنے لگے کہ ہم نے اس وجہ سے اپنے بیویوں اور بچوں کو کوفہ میں نہیں چھوڑا تھا کہ ہم یہاں شامیوں کے پڑوس میں آکر آباد ہوجائیں؟ہم یہاں ان سے مذاکرات کرنے نہیں بلکہ جنگ کرنے کے لئے آئے ہیں۔چنانچہ ان میں سے کچھ نے کہا: علی(ع) قتل ہوجانے کے خوف سے جنگ کرنے سے احتیاط کررہے ہیں۔ کچھ دیگر یہ کہتے تھے  کہ علی کو شامیوں سے جنگ کرنے میں تذبذب ہورہا ہے۔
امام علیہ السلام نے ان سب کے جواب میں فرمایا:’’أَمّا قَوْلُکُمْ أَ کُلَّ ذلِکَ کَراهِیَّةَ الْمَوْتِ فَوَاللّهِ ما أُبالِی دَخَلْتُ إِلَى الْمَوْتِ أَوْ خَرَجَ الْمَوْتُ إِلَیَّ‘‘۔ تم میں سے کچھ کا یہ کہنا کہ علی اس وجہ سے جنگ نہیں کررہے ہیں کہ وہ موت سے ڈرتے ہیں؟ خدا کی قسم! علی کو حق کی راہ میں موت سے یہ فرق نہیں پڑتا کہ وہ موت کی طرف جارہا ہے یا موت اس کی طرف آرہی ہے۔اور تم میں سے کچھ کا یہ کہنا:’’ وَ أَمَّا قَوْلُکُمْ شَکّاً فِی أَهْلِ الشَّامِ فَوَاللَّهِ مَا دَفَعْتُ الْحَرْبَ یَوْماً إِلَّا وَ أَنَا أَطْمَعُ أَنْ تَلْحَقَ بِی طَائِفَةٌ فَتَهْتَدِیَ بِی وَ تَعْشُوَ إِلى ضَوْئِی‘‘ کہ میں شامیوں کے مقابل شک و تردید کا شکار ہوں تو یاد رکھنا! میں ان سے خط و کتابت کررکے جنگ کو ٹال نہیں رہا ہوں اگرچہ مجھے ان لوگوں سے جنگ کرنے کا پورا حق ہے جنہوں نے اتحاد کو تفرقہ میں بدلا اور اسلامی حکومت میں بغاوت جیسا گھناؤنا جرم انجام دیا ۔لیکن میری منشأ یہ ہے کہ چاہے ایک آدمی ہی سہی وہ حق کی طرف آجائے۔اسی وجہ سے میں جنگ روک کر انہیں مہلت دے رہا ہوں کہ اگر ان کے لئے کیفیت مشتبہ ہے تو وہ بصیرت کے ناخن لیں اور شاید ان میں کچھ ایسے ہوں جنہوں نے حق کو صحیح طریقہ سے نہ پہچانا ہو اور ان پر حجت تمام نہ ہوئی ہو۔’’وَ ذَلِکَ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ أَنْ أَقْتُلَهَا عَلَى ضَلَالِهَا وَ إِنْ کَانَتْ تَبُوءُ بِاثامِها‘‘۔(9) میرے لئے یہ زیادہ پسندیدہ ہے کہ ان میں سے کوئی ایک شخص ہدایت پاجائے اس چیز سے کہ میں اسے گمراہی کے عالم میں قتل کردوں اگرچہ ان لوگوں کے گناہوں کا وزن بہت سنگین ہوچکا ہے اور وہ قتل کردیئے جانے کے مستحق ہیں۔
امام علی علیہ السلام کی اس مختصر مگر نہایت ہی جامع گفتگو میں ہر زاوئے سے ہدایت کے جلوے نظر آتے ہیں اور آپ نے بڑی صراحت کے ساتھ معترضین کو جواب دیدیا کہ علی کا مقصد قتل اور جنگ نہیں بلکہ آپ کا مقصد ہدایت ہے جس کی امید علی(ع) آخری لمحات تک بھی نہیں چھوڑسکتے۔
ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں ایک روایت نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ(ص) کی وفات کے بعد ایک دن حضرت فاطمہ زہرا(س) نے حضرت علی(ع) کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اس مسئلہ کو پیش کیا کہ کیا بہتر نہیں ہے کہ آپ اپنے سکوت کو توڑ دیں اور اپنے حق کی بازیابی کے لئے قیام کریں؟ اسی وقت گلدسہ آذان سے مؤذن کی ندا گوش اقدس سے ٹکرانے لگی اور مؤذن جب اس فقرہ پر پہونچا:’’اشهد ان محمداً رسول الله‘‘۔ امام علیہ السلام نے شہزادی(س) سے فرمایا: کیا تم یہ پسند کرتی ہو کہ یہ نام(محمد(ص)) اور یہ صدائے’’ اشهد ان محمداً رسول الله‘‘ کرہ زمین سے محو ہوجائے؟ حضرت فاطمہ(س) نے منفی جواب دیا ۔امام(ع) نے فرمایا: اگر تم یہ چاہتی ہو کہ یہ نام اور صدا باقی رہے تو ہمارے پاس صبر کرنے اور خون جگر پینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔(10)
قارئین ! یہ روایت صراحت کے ساتھ ہمارے مدعیٰ کو ثابت کرتی ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی ہر کوشش ، کاوش اور آپ کے صبر و سکوت کا اصلی سبب اسلامی مصالح کی رعایت اور لوگوں کی ہدایت تھی۔چونکہ مشکل یہ نہیں تھی کہ علی(ع) کو موت سے ڈر لگتا تھا یا آپ جنگ کرنے سے گھبراتے تھے بلکہ شاید مخالفین اور یہاں تک کہ دوستوں اور حامیوں کی نظریں بھی اسی مقصد تک نہیں پہونچ پائی تھیں جس کے لئے علی(ع) یہ سب زحمتیں برداشت کررہے تھے اور وہ مقصد تھا کہ اسلام محفوظ ،کلمہ توحید سربلند رہیں اور لوگ ہدایت یافتہ بن جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج35، ص400۔
2۔ابن عساکر، علی بن حسن،  تاریخ مدینه دمشق، ج42، ص330۔
3۔کوفی، محمد بن سلیمان، مناقب امیرالمؤمنین(علیه السلام)، ص50۔
4۔قندوزی، سلیمان بن ابراهیم، ینابیع الموده، ج1، ص220۔
5۔حاکم نیشابوری، محمد بن عبدالله، المستدرک علی الصحیحین، ج3، ص128۔
6۔سابق حوالہ،ص121۔
7۔ابن عساکر، علی بن حسن، همان،  ج2، ص489۔
8۔ابن حنبل، احمد بن محمد، مسند احمد، ج1، ص108۔
9۔نهج البلاغه/خطبه54۔
10۔ابن ابی الحدید، عبدالحمید بن هبة الله، شرح نهج البلاغه، ج11، ص113۔


1
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम