تنہائی میں مرنے والا الجزائر کا انقلابی مجاہد

الجزائر کے سابق صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ جنہوں نے دو دہائیوں کے بعد عوامی احتجاج اور فوجی دباؤ کے نتیجہ میں اپریل 2019 میں استعفیٰ دے دیا تھا ، 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

ولایت پورٹل:عرب دنیا کی خبریں نشر والے  اخبار الساعہ کی رپورٹ کے مطابق  الجزائر کےمیڈیا نے جمعہ کی رات اس ملک کے سابق  اور1962 میں فرانس سے الجزائر کی آزادی کے بعد ساتویں صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی موت کی اطلاع دی، انہوں نے 27 اپریل 1999 سے 2 اپریل 2019 تک صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں  نیز آخری لمحات تک اقتدار میں رہنے کی کوشش کی، اخبارنے ہفتے کے روز لکھا کہ بوتفلیقہ استعفیٰ دینے کے بعد الجزائرکے مغربی مضافات میں واقع زرالدہ میں اپنی رہائش گاہ پر لوگوں سے الگ تھلگ رہ رہے تھے۔
 الحیات نجی ٹیلی ویژن نے جمعہ کی رات 10 بجے بوتفلیقہ کی موت کے وقت کا اعلان کیا، مصر کی مسراوی نیوز سائٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق بوتفلیقہ سب سے زیادہ عرصے تک صدارت کی کرسی پر رہے،یہ  الجزائر کے مجاہدین  آزادی میں سے ایک  شمار کیے جاتے ہیں جو 1958 اور 1960 میں الجزائر کی حکومت پانچویں کے عمومی مبصررہے ہیں۔
 بوتفلیقہ الجزائر کی جنگ کے دوران پیٹریاٹک لبریشن فرنٹ کا رکن تھےجنہیں الجزائر کی آزادی کی جنگ اور محب وطن آزادی کی جنگ کہا جاتا ہے  جو 1954 سے 1962 تک جاری رہی،اس کے علاوہ  وہ واجدہ گروپ کے رکن بھی تھےجس کے زیادہ تر اراکین مراکش میں رہنے والے الجزائرین تھے ، جو یا تو متوسط طبقے یا نچلے خاندانوں سے آئے تھے، ان میں سے بہت سے طلباء اور ملازمین تھے۔
واضح رہے کہ  1954 کی بغاوت کے آغاز سے واجدہ گروپ پیٹریاٹک لبریشن فرنٹ کی سب سے منظم ، مسلح اور سیاسی شاخ تھی  جس نے الجزائر مراکش کی سرحد کے پر جنگ کا اہتمام کیاجس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جنگ الجزائر میں ہوئی ، لیکن فرانس میں الجزائرین کی موجودگی کی وجہ سے اس ملک  میں بھی پھیل گئی۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین