الجزائر کے نومنتخب صدر کی حزب اختلاف کو سنجیدہ بات چیت کی دعوت

الیکشن جیتنے کے بعد الجزائر کے نومنتخب صدر نے اعلان کیا ہے کہ وہ حزب اختلاف کے ساتھ سنجیدہ بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں جنہوں نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے اور ابھی تک سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں۔

ولایت پورٹل:روسیا الیوم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق الجزائر کے نئے صدر عبدالمجید تبون نے انتخاب میں  کامیاب ہونے  کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ وہ سنجیدہ بات چیت کرنے اور اپنے ملک کے مفادات کی خاطر مظاہرین کی طرف ہاتھ بڑھا رہے ہیں،عبد المجیدنے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ وہ کچھ لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک  ،کچھ کو گوشہ نشین اور الگ تھلگ کرنے جیسے اقدامات کے بغیر کام کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ وہ الجزائر میں اتحاد اور یکجہتی کے خواہاں ہیں،الجزائر کے صدر کا کہنا تھا کہ انتخابی عمل نے ملک کو قانونی حیثیت کی طرف پلٹایا ہے،انہوں نے کہا کہ وہ ایک نیا جمہوریہ الجزائر تعمیر کرنا چاہتے ہیں اور الجزائر کے نوجوانوں کو سیاسی اور معاشی زندگی کی طرف راغب کرنا چاہتے ہیں،عبد المجید نے کہا کہ میں نے نوجوانوں سے جو وعدے کیے ہیں ان پر قائم ہوں،الجزائر کے صدر کا کہنا ہے کہ ملک  اور اس کےنظام کو تباہ کرنے کے منصوبوں کے باوجود احتجاج کے دوران ایک قطرہ بھی  خون نہیں گرا،تبون نے یہ بھی کہا کہ صدارت کی کرسی پر بیٹھنے کے بعد میں سب سے پہلے وہ آئینی اصلاحات کے بارے میں مشاورت کا آغاز کرنا چاہتا ہوں  اور پھر اس ملک کے عوام کو نئے قانون پر رائے شماری کی دعوت دوں گا،عبد المجید نے زور دے کر کہا کہ ہم تیزی سے تبدیلی کی طرف گامزن ہیں لہذا آئین کو ان تمام معاملات میں تبدیل کرنا ضروری ہے جو لوگوں کے لئے اہم ہوں ، اور جب قوم نئے آئین سے اتفاق کرے گی تو ہم واقعی یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم  نیا جمہوریہ الجزائر میں ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین