الجزائر کا مراکش کے ساتھ مفاہمت پر مبنی عرب لیگ کے منصوبے کو مسترد

الجزائر پچھلے مہینے مراکش کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کے بعد سے اس ملک کے ساتھ امن اور مفاہمت کے لیے کسی بھی عربی یا مغربی ثالثی کا سہارا لینے سے گریزاں ہے، اس حوالے سے الجزائر کا تازہ ترین فیصلہ عرب لیگ کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ایجنڈے میں دونوں ممالک کے درمیان امن منصوبے کو شامل کرنے کی اپنی مخالفت کا اعلان ہے۔

ولایت پورٹل:لندن سے شائع ہونے والے انٹر ریجنل اخبار رائے الیوم کی رپورٹ کے مطابق  الجزائر نے گزشتہ ماہ مراکش کے ساتھ سیاسی تعلقات منقطع کرنے کے اپنے فیصلے کے اعلان کی وجوہات کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ  مراکش نے اسرائیلی وزیر خارجہ کو اجازت دی  کہ وہ الجزائر کو دھکمی دیں نیز اسرائیلیوں کو اپنے کی سرحد پر الجزائر کی جاسوسی کی اجازت دی جس کے بعد انھوں  نے الجزائر کے حکام کے خلاف پیگاسس جاسوسی پروگرام استعمال کیا ہے۔
واضح رہے کہ فرانس جیسے یورپی ممالک نے مکمل رازداری میں امن منصوبے کا مسودہ تیار کرنے کی کوشش کی ، تاہم الجزائر نے اس سے اتفاق نہیں کیا  جبکہ مراکش نے اس اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اسے الجزائر کی امن اور مصالحت کی مخالفت کی اصل وجوہات کا علم نہیں ہے،الجزیرہ کے ذریعہ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق سعودی عرب سمیت خلیجی ریاستوں نے بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلاف کو کم کرنے کی کوشش کی، ان کی ثالثی 1980 کی دہائی میں کامیاب رہی اور دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات دوبارہ شروع ہوئے ،تاہم اس بار ان کی ثالثی کامیاب نہیں ہوئی۔
درایں اثنا الجزائر کے میڈیا خاص طور پر الشرق  آن لائن نے اپنے کل کے شمارے میں لکھا ہے کہ اس ملک کے وزیر خارجہ رمطان لعمامره نے عرب وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر اور عرب وزرائے خارجہ کی میٹنگ سے قبل اپنی مشاورتی ملاقاتوں کے دوران اس بات پر زور دیاکہ مراکش کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مراکش کے ساتھ عرب وزرائے خارجہ کی میٹنگ کے ایجنڈے میں نہیں ہے اور نہ ہی ہوگا اس لیے کہ  الجزائر کے فیصلے کو ایک خودمختار ، حتمی اور ناقابل واپسی فیصلے کے طور پر زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین