انصار اللہ کو دہشتگرد قرار دینے پر آل سعود کی جانب سے امریکہ کا شکریہ

سعودی حکومت نے امریکہ کی جانب سے یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ  کو دہشت گرد قرار دیے جانے کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔

ولایت پورٹل:سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی واس کی رپورٹ کے مطابق  سعودی وزارت خارجہ نے آج (پیر کو) ایک بیان میں امریکی حکومت کی جانب سے یمنی انصار اللہ تحریک کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، رپورٹ کے مطابق ریاض حکومت نے ایک بیان میں دعوی کیا ہے کہ امریکہ کے اس فیصلہ کے نتیجے میں یمنی  مذاکرات کی میز پر واپس آ جائیں گے اور اپنی کاروائیاں بند کر دیں گے،واضح رہے کہ سعودی وزارت خارجہ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ انصار اللہ تحریک نے ایران کی نیابت میں یمن میں انسانی صورتحال کو مزید خراب کردیا ہے اور امن ، سلامتی اور عالمی معیشت کو خطرہ لاحق کردیا ہے۔
بیان میں یہ امید بھی ظاہر کی گئی ہے کہ انصاراللہ تحریک اور اس کی کچھ شخصیات کو دہشت گرد قرار دینے سے یمنی فورسز کو جدید میزائل ، ڈرون اور اسلحہ حاصل کرنے سے روکا جاسکے گااور ساتھ ہی جنگ کو ختم کرنے اور انھیں مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے سیاسی عمل کو تقویت ملے گی،قابل ذکر ہے کہ امریکی  وزیرخارجہ پومپیو نے آج اپنے ایک بیان میں کہا کہ میں انصاراللہ کے تین رہنماؤں ، عبدالمالک الحوثی ، عبدالخالق بدرالدین الحوثی اور عبداللہ یحیی الحکیم کو عالمی دہشت گرد قرار دینے کا ارادہ رکھتا ہوں،درایں اثنا انصار اللہ کی  سیاسی کونسل کے ایک رکن ، محمد علی الحوثی نے واشنگٹن کے اس اقدام پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ، ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو فکر کا بحران قرار دیا اور کہا کہ یمن کے لیے بھی جواب مانگنے  کا حق محفوظ ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین