Code : 4423 6 Hit

آل سعود کے یمن میں چھ سالہ کارنامے

یمنی قومی نجات حکومت کی انسانی حقوق کی وزارت نے مارچ 2015 سے اگست 2020 ء تک یمن کے خلاف سعودی اتحاد کے جرائم کے اعدادوشمار شائع کیے جن کے مطابق 16771 شہریوں کی شہادت اور 26359 دیگر کے زخمی ہونے کا اعلان کیا۔

ولایت پورٹل:المسیرہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق یمنی قومی نجات حکومت کی انسانی حقوق کی وزارت نے آج (بدھ) مارچ 2015 سے اگست 2020 تک یمن میں سعودی اتحاد کے جنگی جرائم کے بارے میں ایک پریس کانفرنس کی، کانفرنس میں پیش کردہ ان جرائم کے اعدادوشمار درج ذیل ہیں۔
۔16771 شہری شہید اور 26،359 زخمی ہوئے۔
 ۔5345 خواتین شہید اور زخمی ہوئیں
۔3747 بچے شہید اور 4000 دیگر زخمی ہوئے۔
۔حملوں کے نتیجے میں 4147000 سے زیادہ یمنی بے گھر ہوئے۔
۔اتحادیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں ایک ہزار سے زائدعام شہری اغوا اور گرفتار ہوئے۔
۔شہری علاقوں پر ہزاروں زمینی ، سمندری اور فضائی حملے۔
۔47 سے زیادہ میڈیا تنظیموں اور 28 ریڈیو اور ٹیلی ویژن اسٹیشنوں کو مسمار کیا گیا۔
۔41 سے زائد عدالتوں ، 131 کھیلوں کے مراکز ، 364 سیاحتی مراکز اور 2023 رفاہ عام مراکز کو تباہ کیا گیا۔
۔1324 مساجد اور 417 قدیم اور تاریخی یادگاروں کی تباہی۔
 ۔486 اسپتالوں اور صحت کے مراکز کو تباہ اور 92 ایمرجنسی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا
۔3722 سے زیادہ تعلیمی مراکز کو تباہ اور 40 لاکھ اور 435 ہزار طلبا کو تعلیم سے محروم کیا گیا۔
۔348 فیکٹریاں ، 5 گندم سیلوس اور 763 فیول اسٹیشن مسمار کیا گیا۔
۔14 بندرگاہوں ، 9 ہوائی اڈوں کو تباہ اور 4 سویلین طیاروں کو آگ لگائی گئی۔
۔ماہی گیری کے 4718 سے زیادہ مراکز کو مسمار کرنے اور 40 ماہی گیروں کو ماہی گیری سے محروم کر دیا گیا۔
۔2298 پانی کی فراہمی کے مراکز اور 538 بجلی کے اسٹیشنوں کو تباہ اور نقصان پہنچا گیا۔
۔یمن جنگ کے مخالف سیکڑوں شہریوں ، قانونی کارکنوں کا جبری اغوا۔
۔ممنوعہ ہتھیاروں اور کلسٹر اور تھرموبارک بموں کا وسیع استعمال۔
۔جنگ اور محاصرے کے نتیجے میں 24.3 ملین یمنی باشندے محتاج اور 7.27 ملین دیگر بے گھر ہیں۔
۔60 فیصد سے زیادہ یمنی بھوک سے دوچار ہیں۔
۔صنعا ایئر پورٹ بند ہونے کی وجہ سے 350000 یمنی طبی سفر سے محروم ہیں  جس کے نتیجے میں 42000 اموات ہوئیں۔
۔اوسط غربت کو 85٪ اور اوسط بے روزگاری کو 65٪ تک بڑھاوا ملا۔
12 لاکھ ملازمین اپنی تنخواہوں سے محروم ہوئے۔
۔13324 زرعی مراکز ، 11610 زرعی اراضی اور 41610 شہد کی مکھیوں کے کندوؤں کی تباہی۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 

 



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین