آل سعود کا شیعہ شہداء کی قبریں مسمار کرنے کا منصوبہ

سعودی حکومت نےاس ملک کے مشرق میں شیعہ   شہداء کے خاندانوں سے کہا ہے کہ وہ اپنےشہیدوں کے مقبروں کو تباہ کریں اور وہابی قوانین اور تعلیمات کے مطابق عمل کریں۔

ولایت پورٹل:سعودی لیکس کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکومت نےاس ملک کے مشرق میں رہنے والے افراد کی رائے عامہ کے خلاف ایک نئی جنگ شروع کی ہے اوران کے احتجاج کے تمام رنگوں اور خوشبوؤں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے ، سعودی حکام نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس میں شیعہ   شہداء کے خاندانوں سے شہیدوں کی قبروں کو تباہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
 سعودی لیکس کے مطابق  سعودی حکومت قطیف صوبے کے العوامیہ قصبے میں اس منصوبے کو نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے ، جہاں شہید نمر باقر النمر کا گھر واقع ہے کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ شیعہ   شہیدوں کی قبریں لوگوں کی مستقل موجودگی کے لیے ایک جگہ بن جائیں گی۔
منصوبے کے مطابق قبروں پر بنائی گئی عمارتیں ، بیٹھنے کی جگہیں، جھنڈے ، تلاوت قرآن کا سامان اور قبروں کے ساتھ لگائی گئی ہر چیز ایک ہفتے کے اندر ہٹا دی جائے صرف قبریں باقی رہیں ورنہ سعودی سیکورٹی فورسز طاقت کا استعمال کرنے پر مجبور ہو جائیں گی۔
درایں اثناالعوامیہ کے مقامی عہدیداروں نے کہا کہ شیعہ   شہداء کی قبریں ان اسلامی قوانین  کے مطابق ہونا چاہیے جن کاسعودی عرب کی حکومت دعوی کرتی ہے،سعودی لیکس نے مزیدلکھا کہ سعودی حکام کے فیصلے کا مقصد قطیف اور احساء کے لوگوں کی ورثہ اور اجتماعی رسوم کا مقابلہ کرنا ہے جبکہ ریاض حکومت ہر اس چیز کو مٹانے کی کوشش کر رہی ہے جس سے احتجاج کی بو آتی ہے۔
واضح رہے کہ سعودی حکام نے پچھلے سال امام حسین امامباڑے  کو تباہ کیا جہاں شیخ نمرتقریریں کرتے تھےنیز گزشتہ سال اپریل میں  بھی قطیف میں شیعہ   شہداء کی متعدد قبریں تباہ کی گئیں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین