Code : 3850 12 Hit

بجٹ میں بے حد خسارے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے آل سعود کا ریاض میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لانے کا ارادہ

سعودی عرب کے ایک اعلی عہدیدار نے بتایا کہ سعودی حکومت نے اس ملک کے دارالحکومت ریاض میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرنے کا ایک منصوبہ بنایا ہے۔

ولایت پورٹل:العربیہ چینل کی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق’’ ریاض کی ملکیت ‘‘تنظیم کے سربراہ فہد الرشید نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں معاشی کساد بازاری ، تیل کی قیمتوں میں کمی اور کورونا وائرس کے پھیلنے کی وجہ سے پیدا ہونے والےمعاشی بحران کے باوجود  سعودی حکومت مستقبل قریب میں ریاض اور اس کی آبادی کو ترقی دینے کے منصوبوں پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی حکومت نے موجودہ اور نئے منصوبوں کے لئے 266.6 بلین ڈالر مختص کیے ہیں اور شہر کو ترقی دینے کے لئے نجی شعبے کی شراکت سے اگلے 10 سالوں میں تقریبا$ 800 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔
فہد الرشید نے یہ بھی بتایا کہ اس خیال کے مطابق  ریاض 2030 تک 15 ملین آبادی والا شہر بن جائے گا جس کے بعد اس نمو اور ترقی سے متعلق حکام پر مزید ذمہ داریاں عائد ہوں گی۔
انہوں نے زور دے کر کہا: فی الحال ریاض سعودی عرب اور خطے میں معاشی نمو اور ترقی کا محور ہے، ہمارے پاس اب اگلے 10 سالوں میں معیشت کی ترقی اور بہتری نیز ریاض کی آبادی میں اضافے  خاص طور پر 2030 کے نقطہ نظر کے لئے ایک اونچی اڑان کا منصوبہ موجود ہے۔
فہد الرشید نے یہ بھی کہا کہ شہر کی ترقی کے بیشتر منصوبے 2023 سے 2025 کے درمیان مکمل ہونے والے ہیں ، میٹرو والے حصے اس سال کے آخر تک مکمل ہوجائیں گے۔




0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین