صحافت کے خلاف آل سعود کی ڈیجٹل ناکہ بندی

انسانی حقوق کی ایک یورپی تنظیم کا کہنا ہے کہ سعودی حکام سائبر کرائم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صحافیوں کے خلاف ڈیجٹل ناکہ بندی کا استعمال کرتے ہیں۔

ولایت پورٹل:یورپی سعودی آرگنائزیشن فار ہیومن رائٹس نے کہا کہ ڈیجیٹل ناکہ بندی سعودی عرب میں صحافیوں پر ہونے والی خلاف ورزیوں اور الیکٹرانک حملوں کی نگرانی کی حقیقت کی روشنی میں پریس کو دبانے کا ایک ذریعہ ہے۔
اپنے بیان میں تنظیم نے کہا کہ سعودی حکام سائبر کرائم قانون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صحافیوں، ٹویٹ کرنے والوں اور کارکنوں کو طرح طرح کی دھمکیاں دیتے ہیںجن میں ان کے خلاف ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل دنیا کا استعمال شامل ہے۔
تنظیم کے مطابق سعودی عرب ڈیجیٹل طور پر صحافیوں اور کارکنوں کا محاصرہ کر رہا ہےجبکہ پچھلے سالوں میں سعودی عرب نے ڈیجیٹل طور پر حاصل کردہ معلومات کو اندرون اور بیرون ملک ان کا پیچھا کرنے اور انہیں ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سعودی عرب میں پریس کی آزادی سے انکار کیا جاتا ہے اس ملک کی حکومت روایتی میڈیا کو کنٹرول کرتی ہے، سوشل میڈیا کی کڑی نگرانی کرتی ہے اور گرفتاریوں، پابندیوں، بھاری جرمانے ،یہاں تک کہ قتل کے ذریعے معلومات شیئر کرنے والے صحافیوں اور افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرتی ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب میڈیا کے ساتھ رابطے کو مجرم قرار دیتا ہے اور اسے افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے استعمال کرتا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین