آل سعود کی صیہونی جاسوس کمپنیوں میں بھاری سرمایہ کاری

سعودی باخبر ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ سعودی حکام نےصیہونیوں کے ساتھ ایسے معاہدے کیے ہیں جن میں اسرائیلی جاسوس کمپنیوں میں بڑی سرمایہ کاری شامل ہے۔

ولایت پورٹل:سعودی لیکس نیوز سائٹ نے اپنے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ جاسوسی آلات کے میدان میں سعودی عرب کے حکام کے ساتھ عبوری صیہونی حکومت کے تعاون میں توسیع ہوئی ہے،سعودی لیکس کا کہنا ہے کہ سعودی حکام نے صیہونیوں کے ساتھ ایسے معاہدے کیے ہیں جن میں اسرائیلی جاسوس کمپنیوں میں بڑی سرمایہ کاری شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ تعاون سعودی عرب کے سائبر سکیورٹی سیکٹر کو ترقی دینے کے میدان میں سائبرک پروگرام کے مطابق کیا گیا ہے،ان ذرائع کے مطابق ان معاہدوں میں سعودی عرب کو جدید ترین صہیونی جاسوسی آلات درآمد کرنے کے لیے ماہانہ بنیادوں پر لاکھوں ڈالر خرچ کرنا شامل ہے تاکہ یہ ملک اس میدان میں اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ سعودی عرب کے اسرائیلی جاسوسی کمپنیوں کے ساتھ خفیہ اور بڑھتے ہوئے تعلقات  سائبر سکیورٹی کے شعبے کو ترقی دینے  میں سائبرک پروگرام ایک آغاز ہے،جاسوسی کے میدان میں صیہونیوں کے ساتھ اپنے تعاون کو جواز پیش کرتے ہوئے سعودی نیشنل سائبر سکیورٹی آرگنائزیشن نے دعویٰ کیا کہ سائبرک پروگرام کا آغاز سائبر سکیورٹی کے میدان میں اسٹریٹجک اہداف کے حصول کے لیے ایک اہم معاون ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین