صیہونیوں کے خلاف بولنے والے بحرینی شہریوں کے ساتھ آل خلیفہ کا سلوک

بحرین کے مرکز برائے انسانی حقوق نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں صیہونی حکومت کے ساتھ سمجھوتہ اور تعلقات کو معمول پر لانے کے مخالفین کے خلاف آل خلیفہ حکومت کے اقدامات کا انکشاف کیا ہے۔

ولایت پورٹل:بحرین کے انسانی حقوق کے مرکز کے اطلاعاتی مرکز نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ اس نے ستمبر کے اواخر اور گزشتہ اکتوبر سے بحرینی شہریوں کے خلاف بحرینی حکومت کے اقدامات کو دستاویزی شکل دی ہے جو صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے اور معمول پر لانے کی مخالفت کرتے ہیں،رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ  30 ستمبر 2021 کو بحرین میں غاصب اسرائیلی حکومت کا سفارت خانہ کھولا گیا  جس کے بعد صیہونی حکومت اور آل خلیفہ حکومت کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی مخالفت میں مذمت اور عوامی سرگرمیوں کی ایک لہر سامنے آئی۔
 آل خلیفہ کے اس اقدام کے نتیجے میں بحرینی معاشرے کے مختلف طبقوں اور سیاسی دھاروں نے بحرین میں غاصب اسرائیلی حکومت کے سفارت خانے کے افتتاح کے خلاف پرامن مظاہروں یا عوامی مخالفت کی اپیل کی،مظاہروں کی کال ملک کے مختلف حصوں خصوصاً راس رومن کے علاقے میں دی گئی۔
 بحرین کے مرکز برائے انسانی حقوق نے کہاکہ  اسی دن (اسرائیلی سفارتخانے کے افتتاح کے دن) 14 بحرینی شہریوں کو گرفتار کیا گیا اور چھ دیگر کو طلب کیا گیا، تاہم پرامن مارچ اور احتجاجی ریلیاں قابض حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی مذمت کرتی رہیں، 29 ستمبر کو مظاہروں کے آغاز سے - منامہ میں اسرائیلی سفارت خانے کے کھلنے سے ایک دن پہلے - 22 اکتوبر تک بحرین کے متعدد علاقوں میں 34 ریلیاں اور احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں جنہیں آل خلیفہ نے بری طرح کچل دیا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین