Code : 4014 3 Hit

بحرینی خاندانی آمریت کا مجالس عزا کے انعقاد پر پابندی عائد کرنے کااعلان

بحرین میں خاندانی آمر آل خلیفہ حکومت نے بحرین کے شیعوں کے خلاف اپنی امتیازی پالیسیوں کو جاری رکھتے ہوئے موجودہ کورونا وائرس پھیلاؤ کے حالات کا غلط استعمال کرتے ہوئے ماہ محرم کے دوران مذہبی تقاریب اور سوگ کی تقریبات کو روکنے کا اعلان کیا ہے۔

ولایت پورٹل:بحرین کی نیوز ویب سائٹ مرآه البحرین کی خبر کے مطابق بحرینی حکومت کی مذہبی تقریبات اور محرم میں سوگ کی تقریبات میں رکاوٹ مشکوک معلوم ہوتی ہے  اور اس کے پیچھے دوسری وجوہات بھی ہیں  جن میں سب سے اہم اس ملک کےشیعوں کے خلاف حکومت کی متعصبانہ پالیسیاں کارفرما ہیں، اس رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ  ایران میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے اوائل میں اس ملک میں تقریبا 2000 بحرینی شہری موجود تھے جس سے بحرینی حکومت کو شیعوں کے خلاف منظم میڈیا حملے اور ان پر بحرین میں کورونا وائرس پھیلانے  کا الزام عائد کرنے اور ساتھ ہی مسافروں کو ہراساں کرنے اور انہیں اپنے ملک واپس آنے سے روکنے کے لئے ایک اچھا موقع مل گیا تھاجبکہ اسی وقت متعدد بحرینی اٹلی میں موجود تھے جہاں کورونا وائرس پھیل چکا تھا ، اور حکومت نے ان کی واپسی کے لئے شرائط فراہم کیں اور انہیں بحرین واپس  بلالیا۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت بحرین کے بادشاہ نے ایک غیر معقول اقدام کے تحت بحرینی شہریوں کو ایران سے واپس لانے کی ذمہ داری وزارت داخلہ کے بجائے شیعہ اوقاف تنظیم کو سونپ دی اور حکم دیا کہ زائرین کے اخراجات اس تنظیم کے بجٹ سے ادا کیے جائیں، یہ اقدام فرقہ وارانہ اور مذہبی امتیاز کو ظاہر کرتا ہے جسے بحرین کے بادشاہ نے بھڑکایا ۔
آج بھی  مساجد اور سوگوار تنظیموں کی طرف سے بار بار باضابطہ درخواستوں کے باوجود حفظان صحت کے اصولوں اور معاشرتی فاصلے کے مطابق مذہبی رسومات ادا کرنے  اجازت دینے کی درخواست کی گئی ہے لیکن حکومت ان درخاستوں کو رد کر رہی ہے جبکہ اس نے عوامی مقامات کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین