Code : 2492 31 Hit

ہم نے عراقی مظاہرین کے خلاف کسی بھی کاروائی میں حصہ نہیں لیا: الحشد الشعبی

عراقی تنظیم الحشد الشعبی کا کہنا ہے کہ اس نے مظاہرین کے خلاف کسی بھی فیلڈ آپریشن میں حصہ نہیں لیا ہے۔

ولایت پورٹل:بغداد الیوم نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق  الحشد الشعبی نے جمعہ کے روز ایک بیانیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی شہروں کے اندر ہونے والے تشدد کے دوران مظاہرین کے خلاف کسی بھی کارروائی یا سرگرمیوں میں اس کی افواج شامل نہیں تھیں،بیانیہ میں مزیدآیا ہے کہ الحشد الشعبی نے آج تک  شہروں کے اندر مظاہرین کی جانوں کی حفاظت یا پرتشدد کارروائیوں کے انسداد کے لئے کوئی سکیورٹی آپریشن نہیں کیا ہے،تاہم نجف اشرف کے کچھ سیاسی عہدہ داروں کے بیانات میں کہا گیا ہے کہ اس شہر میں تازہ ترین واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد  سرایا عاشوراء تنظیم سے منسلک تھے جن کے اور الحشد الشعبی کے درمیان جھڑپ ہوئی  جس کے نتیجہ میں ہلاکتیں ہوئی ہیں،الحشد الشعبی کا کہنا ہے کہ  یہ بیانات بالکل بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد اپنی ذمہ داری سے جان چھڑانا ہے،اس تنظیم نے سیاسی عہدہ داروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی کوشش کریں اور سکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے سے پرہیز کریں،نجف کے گورنر فواد الیاسری نے جمعہ کے روز محمد باقر الحکیم کے مقبرے کی حفاظت  پر مأمور اسپیشل فورسز پر الزام عائد کیا کہ انھوں نے  مظاہرین پر فائرنگ کرکے درجنوں افراد کو ہلاک یا زخمی کردیا،کچھ سوشل نیٹ ورک بھی الحدید الشعبی کے خلاف افواہوں کا بازار گرم کر رہے ہیں تا کہ ان پر مظاہروں کو کچلنے کا الزام عائد کیا جاسکے،ادھر عراقی وزیر اعظم عادل عبد المہدی نے جمعہ کو ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ وہ اپنا استعفی پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں،انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے اور مسلسل تشدد کو روکنے کے لئے پارلیمنٹ حکومت سازی کے بارے میں فیصلہ کرے اس لیے کہ وہ  صورتحال کو کنٹرول کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम