سلطان عمان کے سعودی عرب دورے کے اغراض و مقاصد (ایک تجزیہ)

سلطان عمان سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبد العزیز کی دعوت پر اپنے پہلے غیر ملکی سفر پر ریاض جارہے ہیں تاکہ کچھ اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے ۔

ولایت پورٹل:عمان کا دارالحکومت مسقط  ہے اور یہ ملک متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب اور یمن سے ملا ہوا گرم  ، صحرائی اور خشک آب و ہوا  کا مالک ہے (سوائے بارش کے موسم میں) نیز اس کی کرنسی  ریال ہے، عمان کی مجموعی آبادی 4.6 ملین (مقامی اور تارکین وطن کو ملا کر) ہے اور اس کی سرکاری زبان عربی ہے، اس مملکت کا سیاسی نظام ہیثم بن طارق کا سلطنتی نظام ہے،سیاسی طور پر  اس کے دنیا کے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں اور یہ دنیا کا سب سے زیادہ امن پسند ملک کے طور پر جانا جاتا ہے، ایران کے ساتھ بھی اس کی دیرینہ دوستی ہے جس کی مثال ایرانیوں کے ساتھ ان کا اچھا سلوک ہے ،خطے کی موجودہ صورتحال کے دوران آج اتوار کو  عمان کے سلطان ، ہیثم بن طارق  سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبد العزیز کی دعوت پر اپنے پہلے غیر ملکی سفر پر ریاض جائیں گے۔
یہ سفر عمان میں بے روزگاری کے خلاف بے مثال احتجاج  جو چیلینج عمان کے نئے سلطان کو درپیش ہے ،کے دو ماہ بعد ہورہاہے ، عمان کے ساتھ سعودی عرب کے تعلقات ہمسایہ ، مذہبی اور نسلی بنیاد پرہیں، اس کے علاوہ دونوں ممالک نے 1981 میں خلیج تعاون کونسل کے ساتھ مشترکہ بنیاد رکھی، یہ دونوں ممالک کھلے پانیوں میں اسٹریٹجک حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ سعودی عرب کے مغرب میں بحر احمر اور مشرق میں خلیج فارس جبکہ سلطان نشین عمان دنیا کی ایک اہم سمندری آبنائے اور دنیا کی توانائی شہ رگ حیات یعنی آبنائے ہرمز جو اس  ملک کے شمال میں واقع ہے،کا مالک ہے، عمان کے نئے سلطان کا یہ سعودی عرب کا پہلا دورہ ہے جس  نے مبصرین کی توجہ مبذول کرلی ہے، سلطان حیثم کے تخت پر بیٹھنےکے بعد سے عمان اور سعودی عرب کے درمیان قریبی رابطے ہیں ،سابق سلطان کی موت پر سلمان بن عبد العزیز  کی جانب سے پیش کی جانے والی تعزیت میں  انہوں نے نئے سلطان کوریاض کا سفر کرنے کی دعوت دی۔
واضح رہے کہ عمان کی عوام نے بےروزگاری کےخلاف  سحار شہر میں احتجاج کرنے کے کچھ دن بعد  سعودی عرب کے بادشاہ نے سلطان حیثم کو ٹیلیفون کیا اور الجہوری کے مطابق یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس ٹیلی فون پر بات کے بعد دونوں فریق ریاض کے مستقبل کے سفر پر متفق ہوگئے ، یادرہے کہ اس وقت عمان کی معیشت تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں اور کرونا کی وبا کے نتائج کی وجہ سے بڑھتے ہوئے قرضوں سے نبرد آزما ہے ، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے پیش گوئی کی ہے کہ عمان کا غیر ملکی قرض گذشتہ سال جی ڈی پی کے 127 فیصد سے گر کر 112 فیصد ہوجائے گا،عمان نے اقتصادی اصلاحات کے ایک حصے کے طور پر گذشتہ اپریل میں پہلی بار VAT قانون پاس کیا تھا۔
سعودی تجزیہ کار عبد الرحمن الملحم کا کہنا ہے کہ عمان کے موجودہ سلطان کی صورتحال پہلے سے بہت مختلف ہے، عمان کو بہت سے معاشی چیلنجز کا سامنا ہے اور وہ سعودی عرب کو ایک اقتصادی شراکت دار کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور پیش گوئی کی جاتی ہے کہ اس دورہ کے نتیجہ میں دونوں ممالک بڑے معاشی معاہدوں پر دستخط کریں گے، واضح رہے کہ گذشتہ سال سعودی عرب اور عمان کے درمیان تجارتی حجم 36 3.36 بلین ڈالر تک جا پہنچا جس میں  زیادہ تر آئرن ، اسٹیل اور کیمیائی مصنوعات شامل ہیں،تاہم اس وقت سعودی عرب اور عمان ایک ایسے منصوبے کی تکمیل کے خواہاں ہیں جو دونوں ممالک کو آپس میں جوڑتا ہے ، امید ہے کہ اس منصوبے کے افتتاح کے بعد دونوں ممالک کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کے حجم میں اضافہ ہوگا،اس منصوبے کے تحت سعودی سامان زمینی راستہ عمان جانے کے حالات پیدا ہوں گے دوسرے الفاظ میں ، سعودی عرب کے لئےاپنی مصنوعات دنیا کو برآمد کرنا آسان ہوگا، سعودی عرب اور سلطان عمان کے مابین زمینی سڑک کو کھولنا ہے جس سے مسقط اور ریاض کے مابین تعاون اور اقتصادی و تجارتی تعلقات کو وسعت ملے گی اور یہ سڑک اسٹریٹجک ہوگی اور یہ ایک سیدھی سڑک ہے جو ربیع الخالی  سے ہوتی ہوئی عمانی زمینوں تک پہنچے گی،یہ سڑک دونوں ممالک کے لئے اسٹریٹجک ترقی کا راستہ ہے۔
 الجہوری کا خیال ہے کہ اس سفر کے دوران چار معاملات پر غور کیا جائے گا؛ او ل ، دوطرفہ تعلقات اور دوم ، معاشی تعلقات ، دونوں ممالک کے عہدیدار معاشی تعلقات اور سہولیات اور بندرگاہوں کے آپریشن خصوصا عمانی بندرگاہوں اور عمان میں صنعتی اقتصادی زون کے قیام پر بھی تبادلہ خیال کریں گے، الجہوری نے سعودی عرب سے القدم خطے تک تیل پائپ لائن کے منصوبے کو بحال کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے مزید کہاکہ  عمان الدقم جو مسقط سے 550 کلومیٹر جنوب میں واقع کبھی ماہی گیری کا گاؤں تھا ،کو مشرق وسطی کی ایک اہم بندرگاہ اور صنعتی مرکز میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تیل پائپ لائن کے بارے میں ، انہوں نے کہاکہ یہ ایک پرانا منصوبہ ہے جواسّی کی دہائی میں ایران-عراق جنگ کے زمانے کا ہے ، جس میں کویت اور متحدہ عرب امارات کو شرکت کرنا تھی،الجہوری نے پیش گوئی کی کہ سعودی عرب آبنائے ہرمز میں حفاظتی خطرات سے بچنے کے لئے اس منصوبے پر غور کر رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریق پیٹرو کیمیکلز ، سیاحت اور شمسی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع اور 800 کلو میٹر طویل راستہ کی افتتاحی تاریخ کے اعلان پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
آخر میں الجہوری نے یہ نتیجہ اخذ کیاکہ سعودی عرب کے بادشاہ اور سلطان عمان ، خلیج تعاون کونسل ، خلیجی مشترکہ مارکیٹ ، ایک ویزا ، کسٹم تعاون ، افغانستان  سےامریکی کے انخلا کے بعدخلیج  تعاون کونسل ممالک کی سلامتی نیز یمن اور ایران کے معاملہ  پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
سلطنت عمان یمن کے بحران میں مثبت کردار ادا کررہی ہے،عمان دونوں فریقوں کے خیالات کو قریب لانے میں ثالثی کا کردار ادا کرتا ہے  اور مبصرین کے نقطہ نظر سے  اس سفر میں یہ  موضوع بھی بہت اہم ہے ، خاص طور پر چونکہ سعودی عرب یمن میں دلدل سے نکلنے کے لیے عمان کو ایک رسی کے طور پر دیکھ رہا ہے خاص طور پر جب حال ہی میں یمن میں ریاض اور متحدہ عرب امارات کے مابین کشیدگی بڑھ گئی ہے۔




0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین