افغانستان کا مالیاتی نظام تباہ ہونے والا ہے؛ اقوام متحدہ کی رپورٹ

اقوام متحدہ نے تین صفحات پر مشتمل  اپنی ایک رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ افغانستان کا مالیاتی نظام تباہ ہونے سے صرف چند ماہ دور ہے اور اس کے سماجی نتائج بہت دور رس ہوں گے۔

ولایت پورٹل:روئٹرز خبر رساں ادارے  کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے پیر کے روز ایک فوری انتباہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ اگر افغانستان کے بینکوں کی مدد کے لیے کوئی کاروائی نہیں کی گئی نیز قرضوں کی واپسی میں عوام کی نااہلی، ذخائر میں کمی کے ساتھ ساتھ لیکویڈیٹی سائیکل کی سست روی کی وجہ سے اس ملک کا مالیاتی نظام گرنے سے چند ماہ سے زیادہ دور نہیں رہے گا۔
 اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے افغانستان کے مالیاتی اور بینکاری نظام پر توجہ مرکوز کرنے والی تین صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ اس تباہی کے معاشی اخراجات اور منفی سماجی نتائج بہت زیادہ ہوں گے،یادرہے کہ  طالبان نے اگست کے وسط سے افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا ہےجس کے بعداس ملک کو دی جانے والی غیر ملکی مالی امداد عملی طور پر بند ہو گئی ہے جبکہ امریکہ نے افغانوں کے 10 ارب ڈالر کے اثاثے روک دیے ہیں۔
 اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کی محدود پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے اس ملک کے بینکنگ کے مسئلے کا فوری حل تلاش کرنا ہوگا، تاہم اقوام متحدہ نے کہا کہ ہمیں افغانستان کے بینکنگ سیکٹر کی حمایت کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ہم طالبان کی حمایت نہ کریں۔
یادرہے کہ  اس سے قبل روس کے خصوصی ایلچی ضمیر کابلوف نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ افغانستان کے اثاثے جاری نہیں کرے گاتو ہمیں اس ملک کی قومی کرنسی کی قدر میں کمی کا تسلسل دیکھنے کو ملے گا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین