افغان صدر مستعفی؛جلالی کی سربراہی میں عبوری کے حکومت کا قیام

افغان وزارت داخلہ نے کہا کہ طالبان فورسز کابل میں داخل ہو رہی ہیں جبکہ صوبہ بامیان کے دارالحکومت پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔

ولایت پورٹل:افغان وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ طالبان فورسز ہر سمت سے کابل میں داخل ہو رہی ہیں جبکہ مشہور ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ طالبان مغربی کابل میں داخل ہو چکے ہیں،واضح رہے کہ طالبان اس وقت افغانستان کے 34 میں سے 26 صوبوں پر قابض ہیں، سابق وزیر داخلہ اور جرمنی میں سابق افغان سفیر علی احمد جلالی کابل پہنچ گئے ہیں اور عبوری حکومت کی سربراہی کے لیے تیار ہیں۔
 اشرف غنی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان سے چلے گئے ہیں اور سرکاری خبروں کا اعلان جلد کیا جائے گا، افغانستان کے لیے نیٹو کے مشیر نکولس ولیمز نے کہا کہ نیٹو کا کہنا ہے کہ طالبان کو افغان عوام کا احترام کرنا چاہیے اور یہ ثابت کرنا چاہیے کہ ان کا طرز عمل معقول ہے، روس نے کہا ہے کہ اس کا اپنا سفارتی مشن کابل سے منتقل کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہےجبکہ طالبان نے کابل میں ماسکو سفارت خانے اور دیگر سفارت خانوں کو محفوظ بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
یادرہے کہ  کابل میں طالبان افواج کی آمد کے بعدافغان صدر اشرف غنی نے نیٹو کے کئی اعلیٰ عہدیداروں اور افغانستان کے لیے امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد سے بات کی،درایں اثنا طالبان کے ترجمان نے بتایا کہ اس گروپ کی فورسز نے بگرام ائیرپورٹ جیل کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور تمام قیدیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہےجبکہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان طورخم بارڈر کراسنگ پر طالبان کا قبضہ ہونے کے بعداسے بند کر دیا گیا۔
 ڈنمارک نے اپنے سفارت خانے کے عملے کو افغان دارالحکومت کابل  سے ائر پورٹ پرمنتقل کردیا ہے، دریں اثنا  امریکہ نے کابل میں دیگر سفارت خانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ محفوظ جگہوں پر محدود عملے  کے ساتھ کام کریں۔
طالبان نے کہا ہے کہ چونکہ کابل ایک بڑا اور آبادی والا شہر ہے  اس لیےاس گروپ کی قوتیں طاقت یا جنگ کے ذریعے شہر میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتیں بلکہ پر امن طریقے سے افغان دارالحکومت میں داخل ہونا چاہتی ہیں، اس گروپ نے اپنی افواج کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ کابل کے دروازوں پر کھڑے رہیں اور شہر میں داخل ہونے کی کوشش نہ کریں، طالبان نے کہا ہے کہ ان کا کسی سے انتقام لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ تمام لوگ جنہوں نے افغان حکومت کے فوجی اور سویلین شعبوں میں خدمات انجام دی ہیں محفوظ ہیں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین