Code : 1381 52 Hit

روزہ دار کو امیرالمؤمنین(ع) کی نصیحتیں

روزہ دار اس بات میں غور کرے کہ اس کے اعضا و جوارح کیاکررہے ہیں اور کن کاموں میں مصروف ہیں؟ ہاتھ کیا کررہے ہیں؟پیر کیا کررہے ہیں؟ آنکھیں کیا کررہی ہیں؟کان کیا کررہے ہیں؟زبان کیا کررہی ہے؟دل اور دماغ کیا کررہے ہیں؟ہاتھ دعا کے لئے اٹھ رہے ہیں یا کسی کی ایذا رسانی کے لئے؟ پیر نیکیوں کی جانب بڑھ رہے ہیں یا گناہوں کی طرف؟آنکھیں حرام نظاروں میں مصروف ہیں یا وہ دیکھ رہی ہیں جو خدا انہیں دکھانا چاہتا ہے؟

ولایت پورٹل: قارئین کرام! رمضان المبارک کا پہلا عشرہ مکمل ہوچکا ہے اور ہم دوسرے عشرے میں داخل ہونے والے  ہیں ۔ہم ماہ  مبارک رمضان  اورروزوں کی حکمت و فلسفہ سے مکمل طور پر تو آشنا نہیں ہوسکتے لیکن ایک روزہ دار کو کیا کچھ کرنا چاہیئے یہ ہمیں محمد و آل محمد (ص) کے کلمات اور بیانات میں مل جائے گا۔ چنانچہ حضرت امیر علیہ السلام ایک روزہ دار کو  خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’أيها الصائم تدبر أمرك فإنك في شهرك هذا ضيف ربك انظر كيف تكون في ليلك ونهارك وكيف تحفظ جوارحك عن معاصي ربك، انظر أن لا تكون بالليل نائما وبالنهار غافلا فينقضي شهرك وقد بقي عليك وزرك فتكون عند استيفاء الصائمين أجورهم من الخاسرين وعند فوزهم بكرامة مليكهم من المحرومين وعند سعادتهم بمجاورة ربهم من المطرودين‘‘۔
اے روزہ دار! اس مہینے میں اپنے کاموں میں غور و فکر کرو کہ تم  خدا کے مہمان ہو۔غور کرو کہ تمہارے روز و شب کیسے گزر رہے ہیں اور تم کس طرح اپنے و اعضا ء و جوارح کو خدا کی نافرمانی سے روکتے ہو،دھیان رکھو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ راتیں سوتے ہوئے اور دن غفلت میں گزر جائیں اور مہینہ یوں ہی تمام ہوجائے اور گناہوں کا بوجھ یوں ہی تمہاری گردن پر باقی رہ جائے اور پھر جب روزہ دار وں کو اجر و ثواب دیا جارہا ہو  توتم گھاٹا  اٹھانے والوں میں نظر آؤ،اور جب وہ کامیاب ہوکر فرمانروائی کی کرامت سے نوازے جائیں تو تمہارا شمار محرومین میں ہواور جب خدا کی ہمسائگی کی سعادت انہیں نصیب ہو تو تم وہاں سے دور کئے جانے والوں  کی صف میں کھڑے کئے جاؤ۔
مولا کے اس فرمان میں روزہ داروں کو بعض اہم نکات  کی جانب متوجہ کیا جارہا ہے:
۱۔تمام امور میں غور و فکر
ایک مؤمن کو یوں بھی اپنے کاموں میں غور و فکر کرتے رہنے چاہیے اور زندگی غفلت اور لابالی پن  میں نہیں گزارنا  چاہیے لیکن ماہ مبارک میں بطور خاص غور و خوض کی دعوت دی جارہی ہے۔رمضان المبارک عبادت کا مہینہ ہے اور غور و فکر کو سب سے بڑی عبادت قرار دیا گیا ہے۔یہاں تک کہ روایات میں ایک گھنٹے غور و فکر کو ستر سال کی عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔اس لئے رمضان المبارک میں انسان کو اس کی طرف کافی حد تک توجہ دینے کی ضرورت ہے۔  اس مہینے میں انسان کو خدا کا مہمان بنایا گیا ہے۔انسان کو اس میں غورکرنا ہے کہ وہ کس کا مہمان بنا ہے؟اس نے دعوت کیوں دی ہے؟  وہ کیا چاہتا ہے؟اس کا مطالبہ کیا ہے اور بدلہ میں کیا  دینا چاہتا ہے؟مولاکے فرمان میں غور و فکر کی دعوت دینے کی بعد اس کی وضاحت بھی کی گئ ہے کہ انسان کو  کن چیزوں میں غور و فکر کرنا ہے۔
۲۔روز و شب میں غور و فکر
روز و شب میں غور و فکر سے مراد خود رات اور دن میں غور کرنا نہیں ہے کہ خدا نے دن رات کو کس طرح اور کس حکمت کے تحت بنایا ہے بلکہ یہاں مراد زندگی کے روز و شب ہیں کہ انسان کی زندگی کیسے کٹ رہی ہے۔اس کے دن کن  کاموں میں کٹتے ہیں اور راتیں کن امور میں بسر ہوتی ہے۔خدا کی مرضی  کے مطابق بسر ہورہے ہیں یا اس کی مرضی کے خلاف،اس کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق گزر رہے ہیں یا اپنے بنائے ہوئے اصولوں کے مطابق،رسول اور اہلبیتؑ کی پیروی میں بسر ہورہے ہیں یا خواہشات نفسانی کی پیروی میں۔مفید اور ضرروی کاموں میں وقت گزر رہا ہے یا بیہودہ اورعبث کاموں میں۔مؤمن اپنے کسی وقت کو  بیہودہ اور غفلت میں نہیں گزارتا اور ماہ رمضان تو اس کے لئے خدا کی طرف سے ایک خاص موقع ہے وہ اسے کیسے یوں ہی گنوا سکتا ہے؟
۳۔اعضاو جوارح پر  کنٹرول
روزہ دار اس بات میں غور کرے کہ اس کے اعضا و جوارح کیاکررہے ہیں اور کن کاموں میں مصروف ہیں؟ ہاتھ کیا کررہے ہیں؟پیر کیا کررہے ہیں؟ آنکھیں کیا کررہی ہیں؟کان کیا کررہے ہیں؟زبان کیا کررہی ہے؟دل اور دماغ کیا کررہے ہیں؟ہاتھ دعا کے لئے اٹھ رہے ہیں یا کسی کی ایذا رسانی کے لئے؟ پیر نیکیوں کی جانب بڑھ رہے ہیں یا  گناہوں کی طرف؟آنکھیں حرام  نظاروں  میں مصروف ہیں  یا  وہ دیکھ رہی ہیں جو خدا انہیں دکھانا چاہتا ہے؟کان  تلاوت اور دعا کی آوازیں سن رہے ہیں یا اب بھی  گانے اور  بیہودہ آوازیں سننے میں مصروف ہیں؟زبان سے قرآن کی تلاوت ہورہی ہے،دعائیں پڑھی جارہی ہیں یا بدگوئی،غیبت، اور زخم لگانے کا کام کررہی ہے؟ دل حسد،کینہ،نفرت،بدگمانی جیسی آلودگیوں میں مبتلا ہے یا محبت و مہربانی  میں مصروف عمل ہے۔نبی کریمؐ نے خطبہ شعبانیہ میں اس پر تأکید کی ہے۔آپ فرماتے ہیں:’’وَاحفَظوا ألسِنَتَکُم،وغُضّوا عَمّا لا یَحِلُّ النَّظَرُ إلَیهِ أبصارَکُم،وعَمّا لا یَحِلُّ الاِستِماعُ إلَیهِ أسماعَکُم‘‘۔اپنی زبانوں کی حفاظت کرو ،جن چیزوں کی طرف دیکھنا حلال نہیں ان سے نظروں کو بچاؤ اور جن ا ٓوازوں کو سننا جائز نہیں ہے ان آوازوں کو نہ سنو ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ  روزہ صرف بھوک پیاس کا نام نہیں ہے یا یوں کہا جائے کہ روزہ صرف پیٹ کا نہیں ہوتا بلکہ حقیقی روزہ دار وہی ہے جو پورے وجود سے روزہ رکھے۔روزہ  داری  حقیقت میں مکمل  امساک اور کنٹرول کا نام ہے۔روزہ کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی ہر چیز اس کے کنٹرول اور اختیار میں ہو۔زبان،آنکھیں ،کان،ناک،دماغ،دل،باقی اعضا ء و جوارح سب انسان کے کنٹرول میں ہوں۔
زبان سے غیبت نہ کرے،جھوٹ نہ بولے،گالی نہ دے،کسی پر تہمت نہ لگائے،جھوٹی گواہی نہ دے،جھوٹی قسم نہ کھائے،بلاوجہ گفتگو نہ کرے۔یہ زبان بظاہر چھوٹی ہے لیکن سب سے زیادہ گناہ انسان اسی زبان سے انجام دیتا ہے۔جب زبان کنٹرول سے باہر ہوجاتی ہے تو گناہ بڑی آسانی سے اس سے سرزد ہوجاتے ہیں۔ماہ رمضان المبارک میں انسان کو زبان پر  کنٹرول کی مشق کرنا ہے،اسے اپنے کنٹرول میں  رکھنا ہے،اگر اس کی لگام چھوٹ گئی تو انسان کا روزہ برباد ہوسکتا ہے۔
بہت سے گناہ انسان ان آنکھوں سے انجام دیتا ہے اور یہ(گناہ ) دل و روح کی آلودگی کا سبب بنتے ہیں۔  اگر نگاہوں پر کنٹرول نہیں ہوگا تو یہ روزہ کی حالت میں بھی نامحرم کی طرف  دیکھنے سے پرہیز نہیں کریں گی،برہنہ اور نیم برہنہ تصویروں اور ویڈیوز دیکھنے سے انسان نہیں بچ پائے گا۔انسان روزہ کی حالت میں بھی ممنوعہ نگاہوں کا استعمال کرے گا جنہیں بہت سی روایات میں شیطانی نگاہ کہا گیا ہے۔جب ایسا ہوگا تو  صبح سے شام تک وہ بھوکا پیاسا تو ہوگا لیکن وہ روزہ سے نہیں ہوگا۔
بہت سے گناہ انسان کانوں سے انجام دیتا ہے اس لئے ان پر بھی کنٹرول ضروری ہے اور ماہ رمضان اس کے لئے بہترین موقع ہے۔انسان ان کانوں سے گانے بھی سن سکتا ہے اور تلاوت قرآن بھی،مؤمنین کی اچھائیاں بھی سن سکتا ہے اور برائیاں بھی،لوگوں کی تعریف بھی سن سکتا ہے اور غیبت بھی،علما ء و دانشوروں کے علم سے بھی مستفید ہوسکتا ہے اور بےسر و پا باتیں کرنے والے افراد کی باتیں بھی سن سکتا ہے۔اختیار اس کے پاس ہے،کنٹرول اسے کرنا ہے،اور کانوں کو ان آوازوں سے بچانا ہے جن سے خدا نے اسے روکا ہے ۔
۴۔گناہوں کا بوجھ ہلکا کرنا
رمضان المبارک ایک بہترین فرصت ہے جس سے انسان ترقی و کمال کے لئے،راستےکی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے اور اپنے گناہوں کو کم کرنے کے لئے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔اس لئے امامؑ توجہ دلارہے ہیں کہ کہیں  روزہ دار اس مبارک مہینے کے دنوں کو غفلت اور راتیں  سوکر نہ گزار دے اور کہیں ایسا نہ ہو کہ وقت اس کے ہاتھوں سے نکل جائے اور وہ کچھ نہ کر پائے اور گناہوں کا بوجھ جیسے کا تیسا اس کی گردن پر رہ جائے۔اس لئے رمضان سو کر نہیں بلکہ جاگ کر گزارنا ہے اور دن غفلت کی نیند میں  نہیں بلکہ توجہ کے ساتھ بسر کرنا ہے۔توجہ  اپنے اعمال کی طرف،اپنے کردار کی طرف،اپنے گناہوں کی طرف،حساب و کتاب کی طرف، دوسروں کے حقوق کی طرف۔اور اس توجہ کے ساتھ توبہ و استغفار اور دعا  و مناجات کے ذریعہ خدا کا قرب پانے اور شیطان سے دور ہونے کوشش کے ساتھ۔
نبی کریم ؐ نےبھی  خطبہ شعبانیہ میں اس نکتہ کی جانب توجہ دلائی ہے۔آپ فرماتے ہیں: ’’یا أیُّهَا النّاسُ،إنَّ أنفُسَکُم مَرهونَةٌ بِأَعمالِکُم فَفُکّوها بِاستِغفارِکُم،وظُهورَکُم ثَقیلَةٌ مِن أوزارِکُم فَخَفِّفوا عَنها بِطولِ سُجودِکُم،وَاعلَموا أنَّ اللّهِ ـ تَعالى ذِکرُهُ ـ أقسَمَ بِعِزَّتِهِ ألاّ یُعَذِّبَ المُصَلّینَ وَالسّاجِدینَ،ولا یُرَوِّعَهُم بِالنّارِ یَومَ یَقومُ النّاسُ لِرَبِّ العالَمینَ ‘‘۔
اے لوگو! تمہارا نفس تمہارے اعمال کے پاس گروی ہے،اسے استغفار کے ذریعہ آزاد کرو اور چھڑاؤ،تمہاری  پیٹھ تمہارے گناہوں کے بوجھ سے سنگین ہوچکی ہے،طولانی سجدوں کے ذریعہ اس بوجھ کو ہلکا کرو،اور جان لو کہ  خداوند متعال نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ وہ نمازیوں اور سجدہ گزاروں  پر عذاب نہیں کرے گا اور اس دن انہیں جہنم سے بچائے  گا جب سب کو رب العالمین کی بارگاہ میں کھڑا ہونا ہے۔
نبی کریم ﷺ کے فرمان میں  گناہوں اور گنہکاروں کے لئے ایک لطیف تعبیر استعمال کی گئی ہے اور وہ تعبیر یہ ہے کہ گنہگار انسان کا نفس اس کے گناہوں اور برے اعمال کے پاس گروی  ہوتا ہے  اور وہ ان اعمال کی قید میں چلا جاتا ہے ،اب اگر اسے آزاد کرانا چاہتا تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ استغفار کرے،اپنی گناہوں کی بخشش طلب کرے،خاص کر اس مہینے میں جو کہ توبہ و استغفا ر اور مغفرت کا مہینہ ہے ’’شَهرُ الرَّحمَةِ،وَ شَهرُ المَغفِرَةِ،وَ شَهرُ العِتقِ مِنَ النَّارِ‘‘یہ رحمت کا مہینہ ہے،مغفرت کا مہینہ ہے،جہنم کی آگ سے نجات پانے کا مہینہ ہے۔ ماہ رمضان میں خدا نے  انسان کو سوچنے کا،اپنے اوپر غور کرنے کا ،اپنا جائزہ لینے کا،حساب  کرنے کا،اپنے گناہوں کی معافی مانگنے کا خاص موقع دیا ہے  اور اس سے بہتر اور کوئی موقع نہیں ہوسکتا کیونکہ اس میں انسان کا دل بھی آمادہ ہوتا ہے اور خدا کی رحمت کا سمندر بھی موجیں ماررہا ہوتا ہے۔البتہ  انسان  صرف زبان سے استغفر اللہ، استغفر اللہ، استغفر اللہ کہہ دے اور اس کا ذہن ادھر اُدھر ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ، یہ استغفار نہیں ہے۔ استغفار ایک دعا ہے، ایک خواہش ہے؛ انسان کو اسے  سچائی کے ساتھ  خدا سے طلب کرنا چاہئے اور  اس سے مغفرت اور بخشش کا تقاضہ کرنا چاہئے کہ اے پروردگار! میں نے یہ گناہ کیا ہے، مجھ پر رحم فرما، میرے اس گناہ سے درگذر فرما۔ ہر گناہ کے سلسلہ میں اس طرح استغفار کرنے سے یقینا ً مغفرت خدا شامل حال ہوگی ۔ خداوندعالم نے یہ راستہ کھول رکھا ہے۔
دوسری طرف جب انسان گناہ زیادہ کرتا ہے تو اس کا بوجھ بھی بڑھتا جاتا ہے،یہ بوجھ اس کے دل و روح پر بہت بھاری ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ خدا کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے،کمال کی جانب قدم نہیں بڑھاتا،نیکیوں کے لئے قدم نہیں اٹھاتا ہے  اس لئے گناہوں کے ان کالے دھبوں کو دھونے کےلئے جہاں آبِ توبہ کی ضرورت ہے وہیں اس کے بوجھ کو ہلکا  کرنے کے لئے خدا کی عبادت اور طولانی سجدے بھی درکار ہیں۔ماہ رمضان میں خدا نے انسان کے لئے یہ موقع بھی فراہم کیا ہے اور ہر مسلمان کی کوشش بھی یہی ہونا چاہیئے کہ اس مہینے میں پانچوں وقت کی نماز پابندی کے ساتھ ادا کرے،اس کے علاوہ اگر انسان کو موقع ملے تو اس میں مستحب نمازوں کا موقع بھی فراہم کیا گیا ہے تاکہ انسان اپنی واجب اور مستحب نمازوں میں ،یا نماز کے علاوہ جب تنہائی میں اسے وقت ملے سر سجدہ معبود میں رکھے،اپنے گناہوں کو یاد کرے،خدا سے ان کی معافی مانگے اور گناہوں کے بوجھ کو اپنے وجود سے کم کرے ۔
۵۔غفلت کا نقصان
 اگر انسان توبہ و استغفار اور طلب مغفرت کے تئیں سستی و کاہلی کا شکار ہوتا ہے اور اس اہم کام سے غفلت برتتا ہے تو اس کا نقصان کسی اور کوئی نہیں بلکہ خود اسی کو ہوتا ہے۔اس کا دنیاوی نقصان یہ ہے کہ انسان کی زندگی سے بہت سی برکتیں چلی جائیں گی یا وہ برکتیں جو اس کی زندگی میں شامل ہوسکتی ہیں وہ اسے نصیب نہیں ہو  پائیں گی۔لیکن اس کا اصلی نقصان یہ ہے کہ انسان خدا کی توجہ،اس کی عنایت اور اس کے لطف خاص سے محروم ہوجائے گا۔جب سب کو نوازا جارہا ہوگا اسے  محروم کیا جائے گا،جب سب کی بخشش کی جارہی ہوگی اسے سزا کا حقدار ٹھہرایا جائے گا،جب سب کو خدا کا قرب حاصل ہورہا ہوگا اسے خدا سے دور کردیا جائے گا۔اور  ایک انسان کے لئے اس سے بڑا خسارہ  اور کیا ہوسکتا ہے ؟
 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین