Code : 2976 17 Hit

غیبت ،ظہور اور انتظار

مذکورہ بالا تین مقولات میں سے دو کا تعلق خود امام زمانہ(عج) سے ہے جبکہ ایک کا تعلق قوم سے ہے ۔ چنانچہ اس بات کو ایک جملہ میں اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ غیبت سے انتظار کا تصور پیدا ہوتا ہے اور انتظار کے بعد ظہور کے حالات کا فیصلہ ہوتا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! حضرت امام زمانہ(عج) کے مبارک وجود کے سلسلہ میں عام طور پر  تین اہم موضوعات پر بحث کی جاتی ہے:
۱۔آپ کی غیبت اور اس کا مطلب
۲۔آپ کا ظہور اور اس کا صحیح تصور
۳۔آپ کا انتظار اور اس کا صحیح طریقہ۔
قارئین ! مذکورہ بالا تین مقولات میں سے دو کا تعلق خود امام زمانہ(عج) سے ہے جبکہ ایک کا تعلق قوم سے ہے ۔ چنانچہ اس بات کو ایک جملہ میں اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ غیبت سے انتظار کا تصور پیدا ہوتا ہے اور انتظار کے بعد ظہور کے حالات کا فیصلہ ہوتا ہے۔
چنانچہ جن لوگوں نے انتظار کا فریضہ انجام دیا وہ ظہور کے بعد اس کے فوائد اور ثمرات دیکھیں گے اور جن لوگوں نے انتظار کرنے کے  بجائے مذاق اڑایا اور اس کا مسخرہ کیا انھیں اس کا بھی انجام دیکھنا ہوگا۔
قارئین کرام! اس مضون کے ذریعہ ہماری کوشش یہ ہے کہ ہم کسی حد تک ان تینوں عناوین کو اچھی طرح سمجھ لیں ۔اور اس کی ضرورت اس وجہ سے محسوس کی جارہی ہے چونکہ عام طور پر سامراجی طاقتوں نے اسلام کے خلاف سازشوں کا اتنا وسیع اور پیچیدہ جال بنایا کہ  انھوں نے دین اور شریعت کی ساری مثبت چیزوں کو منفی بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور دین اسلام کو سماج کا ایک ناکارہ حصہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔چنانچہ اسی سازش کا نتیجہ ہے کہ انتظار بھی ایک منفی عمل بن کر رہ گیا ہے جبکہ اسلام کا کوئی بھی تصور منفی اور ناکارہ نہیں ہے اس کا ہر عقیدہ اور عمل مثبت اور کارآمد ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ اس مقصد کے پیش نظر، ان تینوں عناوین کا صحیح مطلب سمجھنے اور سمجھانے کی اشد ضرورت ہے:
غیبت:
غیبت کے دو مطلب ہوسکتے ہیں: شخص کی غیبت اور شخصیت کی غیبت۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوتا ہے اور اسی بنا پر اسے غائب کہا جاتا ہے جیسے اللہ کا مبارک و پاک وجود ہماری نگاہوں سے غائب ہے ۔اسی طرح قیامت بھی ہمارے عقیدے کے مطابق ایک غیب چیز ہے۔
لیکن کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخص کا وجود تو ہماری نظروں کے سامنے ہوتا ہے لیکن اس کی شخصیت غائب ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ حال ہر قوم میں اس کے پیغمبر کے سلسلہ سے ایک عمر تک رہا ہے من جملہ، ہمارے نبی(ص) کا بھی یہی حال تھا کہ آپ جب سے تھے نبی تھے لیکن آپ کی نبوی شخصیت ۴۰ برس تک غائب رہی ۔آپ اس عرصہ میں ہمیشہ مکہ میں رہے لوگ آپ کو اس عنوان سے تو جانتے اور پہچانتے تھے کہ یہ محمد(ص) ابن عبداللہ ہیں ۔یا آپ کا تعلق قریش کے بنی ہاشم قبیلہ سے تھا وغیرہ وغیرہ لیکن آپ کی نبوت اور رسالت والی شخصیت غائب تھی۔
امام زمانہ (عج) کی حیثیت بھی حدیثوں کی روشنی میں ایسی ہی ہے کہ آپ کی غیبت کا تصور یہ بالکل نہیں ہے کہ (نعوذ باللہ) آپ حالات سے بے خبر کسی دور کے علاقہ میں ایک بند کمرے میں زندگی گذار رہے ہوں اور کسی بھی انسان کی آنکھیں آپ کو دیکھ نہیں سکتیں۔ بلکہ آپ کی غیبت حقیقت میں شخصیت کی غیبت ہے ۔ آپ معاشرہ میں رہتے ہیں اور وقتاً فوقتاً  لوگوں کے سامنے آتے رہتے ہیں لیکن چونکہ شخصیت کی معرفت نہیں ہوتی اور نگاہوں سے غائب ہونے کے بعد یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ شاید یہی امام زمانہ(عج) ہیں۔ اس لئے آپ کو غائب تصور کیا جاتا ہے اور آپ کے بارے میں غیبت کا عقیدہ رکھا جاتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اکثر لوگوں کے حساب سے آپ نگاہوں سے بھی غائب ہیں اور جان کی حفاظت اور دین کی ضرورت بھی یہی ہے کہ آپ ہر شخص کے سامنے نہ آئیں لیکن لاتعداد لوگ ایسے بھی ہیں جن کی نگاہ میں آپ کی غیبت صرف شخصیت کی غیبت ہے ورنہ آپ کا پاک اور مبارک وجود اکثر اوقات نظروں کے سامنے رہتا ہے جس کا اندازہ ان لاتعداد واقعات اور داستانوں سے لگایا جاسکتا ہے جو آپ کی ملاقات کے متعلق نقل کئے جاتے ہیں جن سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ آپ موجود ہیں اور بہت سے لوگوں سے جب چاہتے ہیں ملاقات کرتے ہیں۔
ظہور:
قارئین ہر چیز کا ظہور اور اس کا ہویدا ہونا اس کے حساب سے ہوتا ہے ۔ بعبارت دیگر، کسی چیز کی غیبت سے ہی اس کے ظاہر ہونے کا مطلب طئے پاتا ہے۔ اگر غیبت کا مطلب شخص کا غائب ہونا ہے تو جس دن آپ سب کے سامنے علی الاعلان آجائیں گے تو وہی دن ظہور کا دن کہلائے گا لیکن اگر غیبت شخص کی نہیں ،شخصیت کی ہے تو جس دن آپ اپنی شخصیت کے اعلان کے ساتھ کام شروع کردیں گے اور آپ اپنی انقلابی مہم کا آغاز کردیں گے تو وہی دن آپ کے ظہور کا دن ہوگا۔
انتظار:
قارئین کرام! ہمارے معاشرے میں انتظار کے تعلق سے ایک غلط تصور یہ پایا جاتا ہے کہ کچھ نہ کرنے کا نام انتظار ہے! چنانچہ اس لفظ کو اپنے کلچر کے حساب سے سمجھنا انصاف سے دور ہے ۔ جیسا کہ عام طور پر ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ جب تک خطیب اور مولانا نہ پہونچ جائیں میزبان مجلس شروع نہیں کرتا۔پیش نماز کا انتظار کرنے والا ان کے آنے سے پہلے نماز شروع نہیں کرتا  بارش کا انتظار کرنے والا کسان کھیت میں ٹیوب ویل سے پانی نہیں دیتا ۔ یہ انتظار کا عام مفہوم ہے کہ انتظار کرنے والا کام کا آغاز نہیں کرتا اور یہ امام زمانہ(عج) کے سلسلہ میں کئے جانے والے انتظار کے منافی و متضاد ہے جبکہ اگر غور کیا جائے مجلس منعقد کرنے والا میزبان تمام انتظام مولانا کے پہونچنے سے پہلے پورے کرلیتا ہے ۔ مسجد میں پیش نماز کا انتظار کرنے والے صفیں بچھا کر آمادہ رہتے ہیں کہ جیسے ہی مولانا آئیں گے ہم نماز شروع کردیں گے ۔ پس امام زمانہ(عج) کا انتظار کرنے والوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ ہم کچھ تیاری نہ کریں اور اپنے کو منتظر کہتے رہیں ۔لہذا ضروری ہے کہ حضرت کے تشریف لانے سے پہلے ہمیں کم از کم ماحول بنانا ہوگا چونکہ امام کے ظہور کا مقصد ظلم و ستم سے بھری کائنات کو عدل و انصاف سے بھر دینا ہے چنانچہ یہ انتظار کرنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ امر بالمعروف اور نہی از منکر کے ذریعہ ظلم کی طاقت کو کمزور بنائیں اور عدل و انصاف کو قائم و استوار کرنے کے لئے ماحول فراہم کریں۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम