Code : 2235 137 Hit

ایران کے سلسلہ میں بن سلمان کے لہجے میں اچانک تبدیلی کی وجہ

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ان نے ایران کے سلسلے میں اچانک اپنے لہجے میں نرمی اختیار کی ہے جس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ یمن کی جنگ میں شکست کے بعد وہ ایران ہراسی کے ذریعے لگان وصول کرنے کے امریکی پروپگنڈہ کے کی طرف کسی حدتک متوجہ ہوگئے ہیں۔

ولایت پورٹل:رای  الیوم  بین المللی اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ اخبار نے لکھا ہےکہ امریکی چینل  سی بی سی کو کو دیے جانے والے انٹرویو میں بن سلمان نے اس سے سے پہلے ایران کے متعلق  اپنے بیانات سے ہٹ کر ذرا  نرم انداز میں بیان دیے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ سعودی عرب ایران کے ساتھ دشمنی کرکے پچھتا گیا ہے ۔
 اداریہ میں آگے چل کر کچھ سوال اٹھائے ہیں اور پھر ان کے جواب دیے ہیں
۱۔  بن سلمان نے سی بی سی امریکی چینل کو جو حالیا انٹرویو دیا ہے اس میں ایران اور ان کے اتحادیوں کے لیے کیا پیغام ہے؟
۲۔ آیا یا وہ اپنی ناکامی اور امریکہ کی طرف سے مایوسی نیز حوثیوں کی فوجی طاقت  کے نتیجہ میں سعودی عرب کو ہونے والےعظیم نقصانات کے بعد وہ جنگ بندی کرنے پر راضی ہوگئے ہیں؟
۳۔کیا جنیوا یا کویت میں عنقریب اس موضوع پر مذاکرات ہونے والے ہیں؟رای الیوم  اخبار میں بن سلمان ان کے سی بی ایس کو دیے جانے والے انٹرویو میں سے ان سوالوں کے کے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے, سب سے پہلے انہوں نے لکھا ہے کہبن سلمان اس چینل پر انٹر ویو دیتے ہوئے  اپنے ملک کے پہلا اور آخری فیصلہ کرنے والےشخص کس کی حیثیت سے گفتگو کر رہے تھے نہ کہ ایک ولی عہد کی حیثیت سے انہوں نے  شاید ہی کہیں اپنے باپ ملک سلمان کا نام بھی لیا ہو جیسا کہ ان کی اس بات سے واضح ہوتا ہے جب انہوں نے جمال خاشقجی کے قتل کی ذمہ داری اپنے سر لی اور کہا چونکہ میں ملک کو چلانے والا اور ملک کا ذمہ دار ہوں لہذا ذرا یہ قتل میرے سر آتا ہے۔
 دوسرے یہ کہ اس انٹرویو میں سعودی عرب کی پرانے اورطاقتور اور رقیب یعنی ایران کے سلسلے میں بن سلمان رجحان  جنگ کے بجائے صلح اور میل ملاپ کی طرف  دیکھنے کو ملا جبکہ اس سے پہلے وہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے بارے میں خاص طور پر یمن کے مسائل میں نہایت ہی  تند و تیز لہجے میں اور خشونت آمیز انداز میں گفتگو کیا کرتے تھے ۔
تیسرے یہ کہ سعودی عرب نے اپنے ملک کا حصہ سمجھتے ہوئے یمن کے اوپر حملہ کیا تھا لیکن اب بن سلمان کا کہنا ہے کہ وہ اس جنگ کے خاتمہ کے لیے ہرطرح کی صلح آمیز ک کوشش کرنے کے لیے تیار ہیں اور ہر کوشش کو قبول کرنے کے لیے بھی تیار ہیں نیز ان کا کہنا تھا کہ کہ فوجی راہ راحل کے مقابلہ میں  سیاسی راہ حل کو ترجیح دیں گے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम