Code : 2553 159 Hit

بی بی معصومہ قم(س) کی تاریخ حیات کا ایک سنہرا ورق

کچھ بزرگ لکھتے ہیں کہ جب سن 200 ہجری میں امام رضا علیہ السلام کو خراسان بلوالیا گیا اس کے ایک برس کے بعد یعنی سن 201 ہجری میں آپ کی خواہر گرامی ایران پہونچیں لیکن جیسے ہی آپ کا قافلہ قم سے دس فرسخ کے فاصلہ پر واقع ایک چھوٹے سے قصبہ ساوہ میں پہونچا تو آپ کی طبیعت خراب ہوگئی آپ نے وہاں کے لوگوں سے دریافت کیا:’’قم یہاں سے کتنی دور ہے؟‘‘ ۔ بتلایا گیا: کہ بی بی قم یہاں سے 10 فرسخ کے فاصلے پر ہے چنانچہ آپ نے اپنے خادم کو حکم دیا کہ مجھے قم لے چلو۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آئمہ طاہرین علیہم السلام کی اولاد کرام میں سے بہت سی معروف ہستیاں ایسی گذریں ہیں کہ جو ظاہر میں معصوم نہیں تھں اور ان کے پاس کوئی الہی منصب نہیں تھا لیکن وہ حضرات اتنے محفوظ و پاکدامن عالم اور با عمل و تقوا تھے کہ خود معصومین(ع) ان پر بھروسہ کرتے تھے جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام کی اولاد میں حضرت زینب(س) ام کلثوم(س) حضرت ابو الفضل العباس(ع) وغیرہ۔اسی طرح دیگر آئمہ(ع) کی اولاد کے درمیان بھی کچھ بزرگ اور معتبر ہستیاں پائی جاتی ہیں جن میں حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیہا کا نام خاص طور پر لیا جاسکتا ہے چنانچہ آپ ہمارے ساتویں امام حضرت موسیٰ کاظم علیہ السلام کی بیٹی، امام علی رضا علیہ اللسلام کی سگی بہن اور امام محمد تقی علیہ السلام کی پھوپی ہیں۔
’’مستدرک سفینۃ البحار‘‘ کے مصنف شیخ عباس قمی(رح) بی بی معصومہ(س) کی تارخ ولادت کے متعلق رقمطراز ہیں’’فاطمة المعصومة المولودة فی غرة ذی القعدة سنة 173‘‘۔ حضرت فاطمہ معصومہ(س) یکم ذیقعدہ سن 173 ہجری میں متولد ہوئیں۔
اسی درمیان تاریخ قم کے مصنف نے بی بی کی تاریخ ولادت کا تذکرہ تو نہیں کیا لیکن آپ کے سال وفات کی طرف  ضرور اشارہ کیا ہے۔ چنانچہ وہ رقمطراز ہیں کہ بی بی معصومہ(س) نے 10 ربیع الثانی سن 201 ہجری میں وفات پائی۔
قم کی طرف حضرت معصومہ(س) کی ہجرت
جب مامون نے بجبر و اکراہ امام علی رضا علیہ السلام کو خراسان بلوالیا تو اس کے مکمل ایک برس کے بعد آپ نے بھائی سے ملاقات کی خاطر رخت سفر باندھ کر ایران کا رخ کیا چنانچہ حسن بن محمد بن حسن قمی(رح) رقم کرتے ہیں:’’امام موسیٰ بن جعفر علیہما السلام کی اولاد میں سے سب سے پہلے قم میں جناب فاطمہ معصومہ(س) شہر قم تشریف لائیں چنانچہ کچھ بزرگ لکھتے ہیں کہ جب سن 200 ہجری میں امام رضا علیہ السلام کو خراسان بلوالیا گیا اس کے ایک برس کے بعد یعنی سن 201 ہجری میں آپ کی خواہر گرامی ایران پہونچیں لیکن جیسے ہی آپ کا قافلہ قم سے دس فرسخ کے فاصلہ پر واقع ایک چھوٹے سے قصبہ ساوہ میں پہونچا تو آپ کی طبیعت خراب ہوگئی آپ نے وہاں  کے لوگوں سے دریافت کیا:’’قم یہاں سے کتنی دور ہے؟‘‘ ۔ بتلایا گیا: کہ بی بی قم یہاں سے 10 فرسخ کے فاصلے پر ہے چنانچہ آپ نے اپنے خادم کو حکم دیا کہ مجھے قم لے چلو۔
قم میں بی بی(س) کا قیام
جب بی بی معصومہ(س) شہر قم تشریف لائیں تو مؤمنین کی ایک بڑی تعداد نے آپ کو والہانہ انداز میں خوش آمدید کہا اور آپ نے موسیٰ بن خزرج کے یہاں قیام فرمایا۔ یہ جگہ شہر قم کے مرکز میں محلہ’’ میدان میر‘‘ کے نام سے معروف ہے اور گھر کے جس گوشہ میں بی بی محو عبادت رہیں آپ کی وفات کے بعد جناب موسٰی بن خزرج نے اسے محراب بنا دیا اور اپنے پورے گھر کو مسجد کے طور پر وقف کردیا، چنانچہ جب سے لیکر آج تک وہ جگہ’’ بیت نور‘‘ کے نام سے معروف ہے اور پوری دنیا سے قم زیارت کو آنے والے زائرین اس جگہ کی بھی زیارت سے مشرف ہوتے ہیں۔
حضرت معصومہ(س) کے فضائل
امت کی شفاعت سب سے بڑا درجہ ہے جس پر سرکار ختمی مرتبت(ص) بالاصالۃ فائز ہیں جسے قرآن نے مقام محمود سے تعبیر کیا ہے۔ اور اس کی وسعت کا اندازہ قرآن مجید کی اس آئیہ کریمہ سے ہوتا ہے:’’ولسوف یعتیک ربک فترضی‘‘۔ اسی طرح خاندان رسالتمآب(ص) کی دیگر معصوم ہستیاں بھی اس عنوان سے کہ وہ امام منصوص من اللہ ہیں وہ اس منصب کے حقدار ہیں لیکن جہاں امت کی شفاعت کرنے والوں میں مردوں کی ایک طویل فہرست ہے وہیں ان میں دو خواتین کے نام بھی اس فہرست میں جگمگاتے نظر آتے ہیں اور اللہ قیامت کے دن ان دونوں مخدوماؤں کی شفاعت بھی امت کے حق میں قبول کرے گا:
1۔ پہلی ذات خاتون محشر حضرت صدیقہ طاہرہ(س) کی ہے۔
2۔ دوسری خاتون شفیعہ روز جزاء  حضرت بی بی معصومہ قم(س) ہیں۔
حضرت فاطمہ زہرا(س) کی شفاعت کے سلسلہ میں تو یہی بس ہے کہ شفاعت آپ کا مہر ہے۔ چنانچہ جب بی بی دو عالم حضرت فاطمہ زہرا(س) کا حضرت امیر(ع) سے عقد مسنون ہوا تو ایک مہر تو وہ تھا جو حضرت امیر(ع) نے اپنی زراہ فروخت کرکے بی بی کو ادا کیا جس سے آپ کا جہیز خریدا گیا اور اس مناسبت پر ایک وہ مہر تھا جسے اللہ نے اپنی طرف سے آپ کا حق مہر قرار دیا چنانچہ بعض روایات میں یہ تصریح و وضاحت ملتی ہے کہ جب بی بی کا مولا(ع) سے عقد ہوا تو جبریل امین اللہ کی جانب سے ایک مکتوب لیکر نازل ہوئے جس پر لکھا ہوا تھا:’’ اللہ تعالیٰ نے حضرت فاطمہ(س) کا مہر امت کے گنہگاروں کی شفاعت کو قرار دیا ہے‘‘۔ چنانچہ یہ حدیث اہل سنت کی بھی کئی کتابوں میں موجود ہے۔
دوسری وہ خاتون جن کے بارے میں متعدد روایات میں شفیعہ روز جزا ہونے کی تصریح ملتی ہے بی بی فاطمہ معصومہ(س) ہیں چنانچہ مصحف ناطق امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:’’تدخل بشفاعتها شیعتنا الجنه باجمعهم‘‘۔
ان کی شفاعت سے ہمارے تمام شیعہ جنت میں داخل ہوجائیں گے۔
حضرت معصومہ(س) کی کرامتیں
محدث قمی فوائد رضویہ میں ملا صدرا(رح) کے حالات زندگی میں تحریر کرتے ہیں:’’ملا صدرا(رح) کو جب ان کے وطن شیراز میں چاروں طرف سے مشکلات نے گھیر لیا تو آپ قم(عش اہل بیت(ع) سے چار فرسخ کے فاصلہ واقع ایک گاؤں ’’کہک‘‘ میں رہنے لگے۔
نوٹ:(جیسا کہ آپ کو معلوم ہے ملاصدرا(رح) عالم اسلام کے ایک گرانقدر فیلسوف اور عارف گذرے ہیں جنہوں  نے فلسفہ کا رخ دیگر تمام چیزوں سے موڑ کر واجب الوجود کی معرفت کی طرف کر دیا ہے
چنانچہ محدث قمی فرماتے ہیں جب ملا صدرا(رح) کی علمی گتھی الجھتی تھی اور وہ کسی مسئلہ کو حل نہیں کرپاتے تھے تو وہ کہک سے بی بی معصومہ قم(س) کی بارگاہ کا رخ کرتے تھے  اور زیارت سے مشرف ہوتے تھے چنانچہ بی بی کے فیض و کرم سے ان کی علمی مشکل حل ہوجایا کرتی تھی۔
اسی طرح کا ایک واقعہ مرحوم حضرت آیت اللہ العظمٰی فاضل لنکرانی(رح) نقل کرتے ہیں وہ اس سلسلہ میں اپنی ایک آپ بیتی بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ یہ بہت سال پہلے کی بات ہے کہ جب جب میرے سامنے آیہ تطہیر:’’إِنَّما یریدُ اللَّهُ لِیذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَیتِ وَ یطَهِّرَکُمْ تَطْهیراً‘‘۔ آتی تھی تو میرے ذہن میں کچھ ایسے سوالات ابھرتے تھے جنہیں ہر چند کوشش کرنے کے باوجود بھی میں سمجھنے سے قاصر رہتا تھا ایک دن میں بی بی سے توسل کرنے کے لئے خاص طور پر آیا زیارت پڑھی اور بی بی کی بارگاہ میں عرض کی: بی بی آج میں آپ کے پاس نہ مال کی حاجت لیکر آیا ہوں اور نہ ہی مکان کی بلکہ آج میری آپ سے یہ حاجت ہے کہ میری فلاں فلاں علمی کتھی الجھی ہوئی ہے آپ کا کرم ہوگا جو میں یہ مسائل سمجھ جاؤں اور میری علمی مشکلات حل ہوجائیں اور میں آئیہ تطہیر کو صحیح طریقے سے سمجھ جاؤں‘‘۔
چنانچہ بی بی معصومہ کا مجھ پر کرم ہوا اور میں گھر آیا اور میں نے مطالعہ کیا اور اس آیت کو سمجھ کر قانع ہوگیا لہذا اگر بی بی کا کرم نہ ہوتا تو میں اگر 50 برس بھی اسی طرح محنت کرتا رہتا تب بھی میرا یہ مسئلہ الجھا ہی رہتا۔

 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین