برطانیہ میں متعدد محکموں کی ہڑتال

برطانیہ بھر میں پوسٹل ورکرز، اساتذہ اور یونیورسٹی کے عملے نے تنخواہ میں اضافے کے مطالبے کے لیے ہڑتال کی اور کرسمس کے موقع پر مزید کارروائی اور بڑے پیمانے پر خلل ڈالنے کا انتباہ دیا۔

ولایت پورٹل:روئٹرز نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق برطانوی یونیورسٹیوں میں 70000 سے زیادہ عملہ، اسکاٹ لینڈ بھر کے اساتذہ اور رائل میل پوسٹل ورکرز نے بڑھتے ہوئے تنازعات کے درمیان ایسے حالات میں ہڑتال کی ہے جبکہ برطانیہ میں کارکنان اور کاروباری افراد روز مرہ کی اشیا کی بڑھتی قیمتوں کے بحران سے دوچار ہیں۔
 یونیورسٹی اینڈ کالج یونین (یو سی یو) کے جنرل سکریٹری جو گریڈی نے کہا کہ پنشن، کام کے حالات اور تنخواہ کے تنازعہ پر تین روزہ منصوبے برطانوی محکمہ تعلیم کی تاریخ کی سب سے بڑی ہڑتال ہے،ادھر اسکاٹ لینڈ کے اساتذہ نے بھی تقریباً چار دہائیوں میں پہلے دن ہڑتال شروع کی جب اسکاٹش حکومت کے ساتھ تنخواہ کے معاہدے پر اور مقامی حکام کے اسکاٹش کنونشن کے ساتھ بات چیت ناکام ہوئی ۔
درایں اثنا اسکاٹش انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن ٹریڈ یونین نے اپنے اراکین کو اسکاٹ لینڈ کے تمام اسکولوں میں ہڑتال پر بلایا ہے اور تسلی بخش تنخواہ کے لیے مہینوں کے مذاکرات کے بعد کلاسیں بند کر دی گئی ہیں، دوسری طرف برطانیہ بھر میں رائل میل پوسٹل ورکرز نے بھی سالانہ بلیک فرائیڈے کی فروخت سے ہم آہنگ ہونے کے لیے دو دن تک دھرنا دیا۔
یاد رہے کہ پوسٹ اینڈ پیکیجنگ کمپنی اور کمیونیکیشن ورکرز یونین (CWU) کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنخواہوں کا تنازعہ ان بہت سے معاملات میں سے ایک ہے جو ملک بھر میں بھڑک رہا رہے ہیں، جس میں ریل کارکنوں کے ساتھ تنخواہ کا تنازع بھی شامل ہے جنہوں نے دو ماہ سے زائد عرصے سے ہڑتالوں کا اعلان کیا ہے اور کرسمس کے وقفے کے بعد ان کے پاس ایک منصوبہ ہے۔
چیف منسٹر مائیکل گوو نے کہا کہ آجروں اور یونینوں کے درمیان نتیجہ خیز مذاکرات ہونے چاہئیں۔ انہوں نے بی بی سی ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے پہلے ان لوگوں کی فکر ہے جو ہڑتال سے متاثر ہوں گے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین