صرف ایران ہی نہیں،پورےاستقامتی محاذ کے خلاف وسیع جنگ

ان دنوں صرف ایران ہی کو فسادات کا سامنا نہیں ہے بلکہ استقامت کے محور کے بعض دوسرے ممالک بھی استقامتی تحریک کے دشمنوں کی اسی حکمت عملی کا نشانہ بن چکے ہیں۔

ولایت پورٹل:مہسا امینی نامی ایرانی لڑکی کی موت کے بہانے اس ملک میں ہونے والے حالیہ فسادات کے بعد ایرانی وزارت اطلاعات نے ایک بیان میں منافقین گروپ کے 49 کارندوں ، کردستان کے تجزیہ طلب گروہ کے 77 کارندوں اور 5 تکفیری دہشتگردوں کی گرفتاری کا اعلان کیا،رپورٹ کے مطابق دہشت گرد گروہوں کے قبضے سے 36 کلو گرام دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے، یہ دہشتگرد اس ملک کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے قتل کی سازش کر رہے تھے۔
 انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ بدنام زمانہ پہلوی حکومت سے تعلق رکھنے والے اور شاہی نظام کے حامی 92 افراد کے علاوہ جرمنی، پولینڈ، اٹلی، فرانس، ہالینڈ، سویڈن وغیرہ کے 9 غیر ملکی شہری بھی گرفتار ہونے والوں میں شامل ہیں۔
بہت سے تجزیہ کاروں کے مطابق ایک دوسرے کے ساتھ شدید اختلافات رکھنے والے انقلاب مخالف گروہوں کا اکٹھا ہونا اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ایک قسم کی مشترکہ جنگ کے منصوبے کی موجودگی کی نشاندہی کرتا ہے،شاید اس مشترکہ جنگ کی ایک اور علامت یہ ہے کہ ایران ہی انتشار کا نشانہ نہیں ہے بلکہ گزشتہ مہینوں میں استقامتی محاذ سے وابستہ بعض دوسرے ممالک بھی انتشار کی لپیٹ میں آچکے ہیں۔
دوسری طرف عراق میں انتخابات کے بعد ہونے والے واقعات اور حکومت بنانے میں ناکامی نے نہ صرف اس ملک میں افراتفری اور انتشار پیدا کیا، بلکہ اس ملک کی سلامتی کو لاحق خطرات کے بارے میں بھی تشویش کا باعث بنا نیز تکفیری دہشت گرد گروہ داعش کے غیر فعال سیل کو بھی فعال بنا دیا،ادھر لبنان نے بھی حالیہ مہینوں میں کئی بحرانوں اور تناؤ کا سامنا کیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دشمن نے پورے استقامتی بلاک کے خلاف مشترکہ جنگ چھیڑ رکھی ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین