Code : 2795 59 Hit

امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی پر ایک نظر

امام زین العابدین(ع) نے اس خطرہ کو ٹالنے کے لئے دعاکا اسلحہ استعمال کیااور محراب عبادت میں اپنی دعاؤں کو بنیاد بنا کراسلامی تشخص کو لاحق اس عظیم خطرہ کا سد باب کیا جو اسلام کی بنیادوں کو اندر سے کھوکھلا کر کے اس کی اپنی پہچان کو نیست و نابود کردینا چاہتا تھاجس کے نتیجہ میں اسلام کے اصلی پیغام اور اس کی کردار ساز تعلیمات کو بالکل سے ختم کیا جاسکے۔

ولایت پورٹل: امام زین العابدین علیہ السلام،کا اسم گرامی علی ابن حسین علیہماالسلام تھا آپ آئمہ اطہار(ع) کی چوتھی فرد تھے آپ کے جد بزرگوار امیرالمومنین مولائے کائنات حضرت علی ابن ابیطالب(ع)تھے جو پیغمبر اسلام (ص) کے ولی برحق اور آپ کی رسالت پر سب سے پہلے ایمان لانے والے تھے۔ان کی حیثیت اور منزلت پیغمبر اسلام(ص) کے نزدیک وہی تھی جو جناب موسیٰ(ع)کے نزدیک جناب ہارون کی تھی جیسا کہ پیغمبر اسلام (ص)سے مردی صحیح حدیث میں وار د ہوا ہے۔(۱)
امام زین العابدین(ع) کی جدہ ماجدہ بنت رسول جناب فاطمہ زہرا(س)تھیں جن کو پیغمبر اسلام کی زبان حق ترجمان نے اپنی رسالت کا جز،اپنے جگر کا ٹکڑا اورکائنات کی عورتوں کا سردارقرار دیا ہے ۔ آپ کے والد ماجد سرکارسید الشہداء(ع) جوانان جنت کے سردار،باغ گلستان نبوت کے پھول ،نواسہ رسول امام حسین(ع)تھے جن کے بارے میں آپ کے جدا مجد پیغمبراسلام(ص) کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں‘‘۔آپ نے عاشور کے دن کربلا کے میدان میں اسلام اور امت اسلامیہ کی ناموس کا دفاع کرتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا۔
آپ ان بارہ اماموں کے سلسلہ امامت کی ایک کڑی تھے جن کے بارے میں پیغمبر اسلام(ص) نے واضح طور پر یہ اعلان کیا تھا جیسا کہ صحیح مسلم اور صحیح بخاری وغیر ہ میں مذکور ہے ’’الخلفاء بعدی اثنا عشرکلھم من قریش‘‘۔(۲)میرے بعد میرے بارہ خلیفہ ہوں گے جو سب کے سب قریش سے ہوںگے۔
امام زین العابدین علی ابن الحسین علیہماالسلام کی ولادت باسعادت ۳۸ ہجری میں ہوئی اگرچہ ایک قول کے مطابق آپ کی ولادت ۳۸ سے ایک یا دو سال پہلے ہوئی۔
آپ کی عمر مبارک تقریباً ستاون سال تھی۔تقریباً دو سال یا بہ اختلاف روایت چار سال اپنے جد امجد مولائے کائنات امیرالمومنین حضرت علی ابن ابیطالب (ع) کے سایہ تربیت میں بسر کئے اس کے بعد اپنے چچا امام حسن(ع) اور والد گرامی امام حسین(ع) کے زیر سایہ پروان چڑھے اور پیغمبراسلام(ص) کے ان دونوں نواسوں کے ذریعہ آپ کی نورانی تعلیمات سے بہرہ مند ہوکردریائے علوم اہل بیت طاہرین(ع) میں غوطہ زن ہوئے۔
اس طرح آپ کی شخصیت علمی میدان میں دین ودیانت کی امام ،علم ومعرفت کے بلند وبالا منارہ،احکام شریعت اور علوم اسلامی میں مرجع خلائق، زہد و ورع اور عبادت و پرہیز گاری میں نمونے کے طور پر نکھر کر سامنے آئی۔
دنیا کے تمام مسلمان آپ کے علم ،استقامت اور سب سے افضل ہونے کا اعتراف کرتے ہیں اور ان میں سے حقائق کی تلاش میں جد و جہد کرنے والے آپ کی سخاوت و فقاہت اور علمی برتری کے سامنے سرتعظیم خم کرتے ہیں اوردین ودنیا کے تمام مسائل میں آپ کو مرجع خلائق سمجھتے ہیں۔
دنیا کے تمام مسلمانوں کو ہمارے چوتھے امام زین العابدین(ع)سے ایک خاص قسم کا جذباتی لگائواور ایک انتہائی گہراروحانی رابطہ تھا۔ آپ کی کوششوں کے ذریعہ قوم و ملت کی قوم تعلیم و تربیت کے اصول وضوابط سے پوری دنیائے اسلام متعارف تھی اور ہر جگہ آپ کی علمی ہیبت اور وقار کے چرچے تھے جس کا ایک نمونہ حج بیت اللہ کے موقعہ پر اس وقت دیکھنے میں آیا جب آپ حجر اسود کا بوسہ دینے کے لئے آگے بڑھے تو سارا مجمع کائی کی طرح چھٹ گیا۔ اس سال ہشام ابن عبدالملک نے بھی حج کیا تھا وہ یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا ۔(۳)اس زمانے کے افراد اپنے مختلف عقائد ونظریات اور الگ الگ رجحانات کے باوجود آپ پر مکمل اعتماد کرتے تھے اور ان کا یہ اعتماد صرف فقہی یا معنوی جہت سے نہیں تھا بلکہ وہ آپ کے پاکیزہ آباء و اجداد کی طرح آپ کی مرجعیت وقیادت پر ایمان رکھتے تھے اورزندگی میں ہر قسم کے مشکل حالات میں آپ کواپنی پناہ گاہ سمجھتے تھے۔
یہی وجہ ہے کہ عبدالملک ابن مروان نے اسلامی مملکت میں رومی سکہ کے رواج پر درپیش مشکل کو حل کرنے کے لئے آپ کا سہارالیا جس میں رومی حکومت کی طرف سے مسلمانوں کو ذلیل کرنے کی دھمکی دی گئی تھی ۔(۴)
امام زین العابدین(ع) نے اپنے والد بزرگوار سرکار سید الشہداء کی شہادت کے بعد امت اسلامی کی روحانی اور معنوی قیادت کی ذمہ داری سنبھالی اور پہلی صدی ہجری کے دوسرے نصف حصہ میں امت اسلامی کو درپیش تمام مشکل مراحل میں اس ذمہ داری کو بحسن و خوبی انجام دیا۔ تاریخ کا یہ دور ایک انتہائی حساس دورتھا جس میں اس وقت کے اسلامی سماج پر لشکر اسلام کی عظیم فتوحات کے امنڈتے ہوئے سیلاب کا گہرا اثر تھا۔جس سیلاب نے دیکھتے ہی دیکھتے اپنی عظیم ایمانی اور اعتقادی طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے ہر اپنے منظم عسکری نظام کے ساتھ قیصر و کسریٰ جیسی اس وقت کی بڑی استعماری طاقتوں کے تخت و تاج کو مسمار کرکے دنیا کی مختلف طاقتوں کو اسلام کے اس نئے پیغام کے پرچم تلے لاکر کھڑاکردیا تھا اور ان پچاس سالوں میں مسلمان اس وقت کی متمدن دنیا کے ایک بڑے حصہ پر قابض ہوکر اس کی قیادت کی ذمہ داری سنبھال چکے تھے۔
امام زین العابدین(ع)کے زمانے میں اسلامی امت کو دوبڑے خطروں کا سامنا تھا:
پہلا خطرہ:دنیا کی مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کے اسلامی تہذیب و ثقافت میں وارد ہونے کا راستہ ہموار ہوگیا تھا اس لئے کہ دنیا کے دوردرازعلاقوں میں رائج طرح طرح کی تہذیب وثقافت کاسامنا تھاجس سے دین و دیانت کی اس ثقافت کا متأثر ہونا یقینی تھااوراس کے نتیجہ میں اسلامی تہذیب و ثقافت دنیا کی ان مختلف تہذیبوں کو اپنی ذات میں سما کراپنی اصلیت اور پہچان کھوسکتی تھی لہٰذا کسی ایسے علمی اقدام کی ضرورت تھی جس سے مسلمان اپنے اصلی اور فکری عقائد و نظریات کی حفاظت کرکے اپنی اسلامی پہچان کو محفوظ رکھ سکیں اور کتاب و سنت کے مطابق ان کی شرعی حیثیت جو ان کو دوسری امتوں سے ممتاز کرتی تھی باقی رہ جائے۔ اس کے لئے ضروری تھا کہ سب سے پہلے اپنا ذاتی اسلامی تشخص اور پہچان قائم کی جائے جس کاایک ذریعہ یہ تھا کہ لوگوں کے درمیان احکام و ادیان میں اجتہاد کا بیج بویا جائے تاکہ کل اجتہاد کے تناور درخت کے سایہ میں دشمنوں کی طر ف سے چلنے والی بیگانہ تہذیب و ثقافت کی تیزوتند آندھیوں سے اسلامی تہذیب و ثقافت اور اسلامی تشخص کی حفاظت کی جاسکے۔ لہٰذا امام زین العابدین(ع) نے اس اہم کام کا بیڑا اٹھایا اور مدینہ رسول(ص) میں مسجد نبوی میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔اس طرح تمام لوگ آپ کی خدمت میں تفسیر، حدیث، فقہ،اسلامی تربیت اورعرفان جیسے متعدد اسلامی علوم کی تعلیم و تربیت سے فیضیاب ہونے لگے۔ آپ اپنے آباء و اجداد کے پاکیزہ علوم کے دریا بہاتے جن سے تشنگان علوم دین اپنی علمی پیاس بجھا کر آسودگی کا احساس کرتے اور اس طرح آپ کے حلقۂ درس میں شرکت کرنے کے بعد اسلامی فقہاء کی ایک بڑی تعداد نے اسلامی معاشرہ میں قدم رکھا۔امام زین العابدین(ع)کی تعلیم و تدریس کے نتیجہ میں وجود میں آنے والا یہ حلقۂ درس بعد میں فقہ اسلامی کے مختلف مکاتب فکر کے لئے ایک ہموار راستہ کی حیثیت سے ایک خالص پائیدارفقہ کی بنیاد بن گیا۔
دوسراخطرہ:تاریخ کے اس دور میں دوسرا خطرہ سستی، کاہلی،راحت طلبی اور عیاشی کی صورت میں تھا جس کا نتیجہ دنیاوی لذتوں کا شکار ہوکر اعلیٰ اسلامی اقدار کو فراموش کردینا تھا۔
امام زین العابدین(ع) نے اس خطرہ کو ٹالنے کے لئے دعاکا اسلحہ استعمال کیااور محراب عبادت میں اپنی دعاؤں کو بنیاد بنا کراسلامی تشخص کو لاحق اس عظیم خطرہ کا سد باب کیا جو اسلام کی بنیادوں کو اندر سے کھوکھلا کر کے اس کی اپنی پہچان کو نیست و نابود کردینا چاہتا تھاجس کے نتیجہ میں اسلام کے اصلی پیغام اور اس کی کردار ساز تعلیمات کو بالکل سے ختم کیا جاسکے۔
اسی لئے امام زین العابدین(ع)کے دعاؤں کے مجموعہ’’صحیفۂ کاملہ‘‘کواس وقت کے حالات میں ایک عظیم سماجی کارنامہ قرار دیا جاسکتاہے جس کو اس زمانے میں امام(ع) نے اپنا اہم دینی اور اخلاقی فریضہ سمجھ کر انجام دیاتھا اس کے علاوہ یہ ایک انتہائی اہم اورمنفردالٰہی میراث ہے جو ہر زمانے میں جود و سخا کا منبع ،ہدایت کا مرکز،اخلاقی تعلیمات کی درسگاہ اور اسلامی تہذیب و ثقافت کا ذخیرہ ہے۔ دنیائے انسانیت کو پیغمبر اسلام(ص)اور مولائے کائنات حضرت علی ابن ابیطالب(ع)کی عظیم میراث کی سخت ضرورت تھی اور جیسے جیسے شیطان کی طرف سے گمراہیوں اور دنیاوی فتنوں میں اضافہ ہوتا جارہاتھا اس کی ضرورت کا احساس اور زیادہ بڑھتا جارہا تھا۔
امام زین العابدین(ع) کی دعاؤں کے اس مجموعہ’’ صحیفۂ کاملہ‘‘ نے اس ضرورت کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور اسی طرح دعاؤں کے اس ذخیرہ کی صورت میں امت اسلامی کو گویا اپنا کھویا ہوا دیرینہ خزانہ مل گیا۔(۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔اثبات الہدایۃ ،ج۲،ص۳۲۰،حدیث/۱۱۶۔
۲۔اختیارمعرفۃالرجال،/۱۲۹،۱۳۲،ح/۲۰۷،والجاحظ فی البیان والتبین، ج/۱، ص/۳۸۶،الاغانی الاغانی ،ج/۱۴،ص / ۷۵، ح/۱۹،۴۰ و وفیات الاعیان،ج/۲،۳۳۸،طبع ایران۔
۳۔صحیح مسلم،ج/۷،ص/۱۲۱۔
۴۔دراسات وبحوث للعاملی،/۱،۱۲۷تا۱۳۷۔
۵۔شہید محمد باقر الصدر،مقدمہ صحیفہ سجادیہ ۔
                                                                                           

                                                                      تحریر:سید حمیدالحسن زیدی
                                                                     جامعۃ المصطفیٰ الامامیه سیتاپور



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین