Code : 1586 102 Hit

دعا کی قبولیت میں مانع خصلت؛اور معاشرے کے انحطاط کی علامت

محنت و مشقت کی اہمیت صرف ایک انفرادی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اگر کسی معاشرے کی ہمیت اور محنت کرنے کا معیار نچلی سطح پر ہو تو وہ معاشرہ ایک بدحال،عقب ماندہ اور غیر متحرک معاشرے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔لہذا اگر کسی معاشرہ کے لوگ کسی بھی دین کے پابند اور کسی بھی سالم عقیدہ کے حامل نہ بھی ہوں لیکن دن رات اپنے معاشرے کی ترقی کے لئے محنت کرتے ہوں تو اس عالم کا نظام اور فطرت کا قانون یہ ہے کہ سست سے سست اور بد حال سے بدحال معاشرہ ترقی کی منازل پر فائز نظر آئے گا چونکہ اللہ کا یہ عام قانون ہے جس میں مذہب،دین اور عقیدہ کی کوئی قید نہیں ہے:’’ان لیس للانسان الا ما سعی‘‘۔(سورہ نجم:39) اور انسان کے لئے صرف اتنا ہی ہے جتنی اس نے کوشش کی ہے۔

ولایت پورٹل: اللہ تعالٰی سورہ ذاریات کی 56 ویں آیت میں انسان کی تخلیق کے مقصد و ہدف کو عبادت قرار دیتے ہوئے اس طرح ارشاد فرماتا ہے:’’ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ‘‘۔(سورہ الذاریات:56) اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔
چونکہ کمال تک پہونچنے اور اللہ سے نزدیک ہونے کا اس سے اچھا،معتبر اور پختہ راستہ کوئی دوسرا نہیں ہے۔عبادت کرنے سے انسان کو کمال حاصل ہوتا ہے اور اس کی مادی و معنوی ترقی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں لیکن وہ عبادت کون سی ہے جس کے یہ سب آثار و برکتیں ہوں؟ چونکہ عام طور پر جب ہم اس لفظ’’ عبادت‘‘ کو سنتے ہیں تو ہمیں فوراً رکوع ،سجدے، تشہد اور سلام یاد آجاتے ہیں اور ہمارے ذہن میں فوراً نماز کی تصویر گھومنے لگتی ہے۔دعا و مناجات ہمیں یاد آنے لگتی ہے۔ جبکہ اگر دینی تعلیمات کی رو سے دیکھا جائے تو عبادت ایک وسیع مفہوم کا حامل لفظ ہے جو ان سب کے ساتھ ساتھ دیگر اشیاء پر بھی منطبق و صادق آتا ہے۔ چنانچہ پیغمبر اکرم(ص) کا ارشاد ہے:’’الْعِبَادَةُ سَبْعُونَ جُزْءا، أَفْضَلُهَا طَلَبُ الْحَلَال‘‘۔عبادت 70 اجزاء پر مشتمل ہے اور ان سب میں افضل جزء رزق حلال کا حصول ہے۔(1)
لہذا اس مبارک و مسعود حدیث کی روشنی میں عبادت کو صرف نماز ،روزے اور فروعات میں محدود نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن اکثر لوگوں کے تصورات کے برخلاف کوئی بھی دعا اور نماز، فضیلت و اہمیت کے لحاظ سے اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لئے رزق حلال کمانے اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے سے بڑی عبادت نہیں ہے۔
رزق حلال کے حصول کے لئے محنت مشقت کے افضل ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اگر انسان میں کام کرنے، محنت و مشقت سے رزق کمانے کا حوصلہ و ہمت  نہ ہو تو اس کی جگہ سستی و بے ہمتی لے لیتی ہے اور ایک روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ یہ دونوں چیزیں(سستی اور بے ہمتی) انسان کے لئے دنیا و آخرت کی سعادت تک پہونچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہیں۔(2) اور یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا:’’میری امت کے ایک گروہ کی عائیں قبول نہیں ہوتیں ان میں سے ایک وہ شخص ہے کہ جو گھر میں بیٹھ کر یہ دعا کرتا ہے!پروردگار! مجھے رزق عطا فرما ! اور وہ کسب معاش کے لئے باہر قدم نہ نکالے‘‘۔(3)
کسی بھی معاشرہ میں محنت و مشقت کرنے کی اہمیت
محنت و مشقت کی اہمیت صرف ایک انفرادی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اگر کسی معاشرے کی ہمیت اور محنت کرنے کا معیار نچلی سطح پر ہو تو وہ معاشرہ ایک بدحال،عقب ماندہ اور غیر متحرک معاشرے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔لہذا اگر کسی معاشرہ کے لوگ کسی بھی دین کے پابند اور کسی بھی سالم عقیدہ کے حامل نہ بھی ہوں لیکن دن رات اپنے معاشرے کی ترقی کے لئے محنت کرتے ہوں تو اس عالم کا نظام اور فطرت کا قانون یہ ہے کہ سست سے سست اور بد حال سے بدحال معاشرہ ترقی کی منازل پر فائز نظر آئے گا چونکہ اللہ کا یہ عام قانون ہے جس میں مذہب،دین اور عقیدہ کی کوئی قید نہیں ہے:’’ان لیس للانسان الا ما سعی‘‘۔(سورہ نجم:39) اور انسان کے لئے صرف اتنا ہی ہے جتنی اس نے کوشش کی ہے۔
آج ایک چیز جو ہمارے معاشرے کے لئے ایک بڑے خطرے میں تبدیل ہوچکی ہے وہ یہ ہے کہ لوگ ایسی دولت و ثروت کے انتظار میں تاک لگائے بیٹھے رہتے ہیں جس میں انہیں کسی طرح کی کوئی زحمت و مشقت نہ کرنا پڑے۔بہت سے لوگ بینک میں کچھ پیسہ فکس کرکے بینک سے ملنے والے سود پر اکتفاء کرتے ہیں تو کچھ لوگ سونا خرید کر گھر میں ذخیرہ کرنے اور مہنگا ہونے پر اسے فروخت کرنے کو ہی ہنر سمجھتے ہیں اور چاہتے ہیں کئی سال محنت نہ کرکے ایک ہی دن میں مالدار بن جائیں۔جبکہ دین نے اس طریقہ کار کی مذمت کی ہے چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:’’ انسان نے اپنے بعد مال صامت(نقد پیسہ اور سونا چاندی) سے زیادہ دردناک مال کوئی اور نہیں چھوڑا۔ راوی نے عرض کیا: مولا! پھر کیا کرنا چاہیئے؟ فرمایا: اس پیسہ و مال کو کسی باغ لگانے،یا کاشتکاری کی زمین خریدنے یا گھر کی تعمیر میں استعمال کردینا چاہیئے۔(5)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔اصول کافی،‌ ج5، ص 78
2۔سابق حوالہ، ص 85
3۔سابق حوالہ، ص 67
4۔سورہ نجم: 39
5۔اصول کافی، ج 5، ص 91


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम