خوبصورتی کے پیچھے چھپا فاقوں اور غربت کا شہر

خوبصورت اور دلکش شہر استنبول کا دوسرا رخ غربت اور ایک بہت بڑا معاشی بحران ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا اور اب اس نہج پر پہنچ گیا ہے جس نے لاکھوں گھرانوں کو شدید مالی پریشانی میں ڈال دیا ہے۔

ولایت پورٹل:استنبول دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک ہے، ایشیا اور یورپ کے سنگم پر اور مارمارا کے ساحل پر، یہ خوبصورتی اور شان و شوکت کی دنیا پیش کرتا ہے، یہ تاریخی اور قدیم شہر، جو بازنطینی اور سلجوق-عثمانی ادوار کے اپنے عظیم فن تعمیر اور اپنی قدرتی اور ثقافتی خوبصورتی کے لیے جانا جاتا ہے، ہر سال 14 ملین سے زیادہ سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، اس لحاظ سے یہ 10 شہروں میں سے ایک ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ سفر کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔
 ترکی کے مالیاتی اداروں اور معاشی و سماجی تجزیہ کاروں کی تازہ ترین رپورٹس بتاتی ہیں کہ استنبول کے خوبصورت اور پرکشش شہر میں سکے کا دوسرا رخ غربت اور ایک بہت بڑا معاشی بحران ہے جو اب اس سطح پر پہنچ گیا ہے کہ لاکھوں گھرانوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق استنبول اپنی تمام تر منفرد خوبصورتی کے ساتھ غربت اور بھوک کا شہر بھی ہے، منشیات کی اسمگلنگ اور انسانی اسمگلنگ کے درجنوں مافیا نیٹ ورکس کی سرگرمیوں کا شہر ہے، استنبول بین الاقوامی منظم جرائم کے نیٹ ورکس کا اڈا ہے، ٹریفک اور پسماندگی کا شہر ہے، یہ کچرا اٹھانے والوں کا شہر بھی ہے اور بھوکوں کا شہر بھی۔
رپورٹ کے ابتدائی نتائج میں یہ اعداد و شمار معاشی تجزیہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کراتے ہیں کہ استنبول کے تقریباً 80% لوگ یا تو شدید مالی پریشانی کا شکار ہیں اور وہ اپنی ضرورت کی بنیادی اشیا کا ایک اہم حصہ فراہم نہیں کر پا رہے ہیں، یا پھر صرف اس حد تک زندگی بسر کر رہے ہیں کہ جی سکیں اور کم از کم خوراک حاصل کر سکیں۔
رپورٹ کے مطابق 2022 عیسوی میں استنبول کے 60% شہری غربت کی وجہ سے اپنی مطلوبہ خوراک حاصل نہیں کر سکے جس کے نتیجے میں انہیں یا تو سستی اور کم معیار کی خوراک پر ہی اکتفا کرنا پڑی یا حسرت ہی کرتے رہ گئے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین