Code : 4560 51 Hit

زیارت اربعین کی مختصر شرح

زیارت اربعین ایک وفاداری و محبت کا اظہار و اقرار نامہ ہے اور اس عہد کی تجدید ہے جو ہم نے اپنے آئمہ علیہم السلام سے کیا تھا کہ ہم آپ کے راستے پر چلیں گے، آپ کے دوستوں سے دوستی اور آپ کے دشمنوں سے بیزاری رکھیں گے، آپ کے راستہ میں ثابت قدم رہیں گے چاہے ہمیں موت بھی آجائے، قیام و جہاد کے لئے ہمیشہ تیار رہیں گے۔ اس زیارت کے یہی وہ عالی و بلند مفاہیم و معارف ہیں جن کے سبب آئمہ(ع) نے اسے مؤمن کی علامت قرار دیا ہے ۔

ولایت پورٹل: زیارت اربعین کہ جسے اما عسکری علیہ السلام نے مؤمن کی علامتوں میں سے ایک علامت قرار دیا ہے ،ہر مؤمن ہر شیعہ کی کوشش رہتی ہے کہ وہ اربعین کے روز اس زیارت کو اپنے امام علیہ السلام کے حضور آپکی ضریح مقدس کے نذدیک قرأت کرے۔لیکن ان میں جو افراد کربلا نہیں جا پاتے وہ اس زیارت کو دور ہی سے قرأت کرنے کا شرف حاصل کرتے ہیں لہِذا ضروری ہے کہ زیارت کے مفاھیم کو مختصر طور پر قارئین کی خدمت میں پیش کیا جائے۔تاکہ زیارت کی قرأت میں خلوص مزید ہو  سکے۔
اس سے پہلے کہ زیارت کی شرح شروع کی جائے اس زیارت  کی سند اور راوی  کے بارے مختصر وضاحت ضروری سمجھتے ہیں۔ زیارت اربعین کا جو متن مشہور ہے اسکو امام صادق علیہ السلام نے صفوان بن مہران کہ جو صفوان جمال کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں ، تعلیم فرمایا تھا۔ امام نے فرمایا ای صفوان جب سورج بلند ہو جائے اور دن چڑھ جائے اس زیارت کی قرأت کرنا ۔
سید ابن طاوس نے اپنی اسناد کے ساتھ صفوان سے اقبال الاعمال میں ، المزار الکبیر میں محمد بن جعفر مشھدی نے ،المصباح میں کفعمی نے ، المصباح المتہجد میں شیخ طوسی نے اور بحار الانوار میں علامہ مجلسی نے اور انکے علاوہ دیگر علماء نے اس کے متن کو کم و بیش فرق کے ساتھ نقل کیا ہے۔
متن زیارت اربعین
السَّلامُ عَلَی وَلِی اللهِ وَ حَبِیبِهِ السَّلامُ عَلَی خَلِیلِ اللهِ وَ نَجِیبِهِ السَّلامُ عَلَی صَفِی اللهِ وَ ابْنِ صَفِیهِ السَّلامُ عَلَی الْحُسَینِ الْمَظْلُومِ الشَّهِیدِ السَّلامُ عَلَی أَسِیرِ الْكرُبَاتِ وَ قَتِیلِ الْعَبَرَاتِ اللهُمَّ إِنِّی أَشْهَدُ أَنَّهُ وَلِیك وَ ابْنُ وَلِیك وَ صَفِیك وَ ابْنُ صَفِیك الْفَائِزُ بِكرَامَتِك أَكرَمْتَهُ بِالشَّهَادَةِ وَ حَبَوْتَهُ بِالسَّعَادَةِ وَ اجْتَبَیتَهُ بِطِیبِ الْوِلادَةِ وَ جَعَلْتَهُ سَیدا مِنَ السَّادَةِ وَ قَائِدا مِنَ الْقَادَةِ وَ ذَائِدا مِنَ الذَّادَةِ وَ أَعْطَیتَهُ مَوَارِیثَ الْأَنْبِیاءِ وَ جَعَلْتَهُ حُجَّةً عَلَی خَلْقِك مِنَ الْأَوْصِیاءِ فَأَعْذَرَ فِی الدُّعَاءِ وَ مَنَحَ النُّصْحَ وَ بَذَلَ مُهْجَتَهُ فِیك لِیسْتَنْقِذَ عِبَادَك مِنَ الْجَهَالَةِ وَ حَیرَةِ الضَّلالَةِ وَ قَدْ تَوَازَرَ عَلَیهِ مَنْ غَرَّتْهُ الدُّنْیا وَ بَاعَ حَظَّهُ بِالْأَرْذَلِ الْأَدْنَی وَ شَرَی آخِرَتَهُ بِالثَّمَنِ الْأَوْكسِ وَ تَغَطْرَسَ وَ تَرَدَّی فِی هَوَاهُ وَ أَسْخَطَك وَ أَسْخَطَ نَبِیك، وَ أَطَاعَ مِنْ عِبَادِك أَهْلَ الشِّقَاقِ وَ النِّفَاقِ وَ حَمَلَةَ الْأَوْزَارِ الْمُسْتَوْجِبِینَ النَّارَ [لِلنَّارِ] فَجَاهَدَهُمْ فِیك صَابِرا مُحْتَسِبا حَتَّی سُفِك فِی طَاعَتِك دَمُهُ وَ اسْتُبِیحَ حَرِیمُهُ اللهُمَّ فَالْعَنْهُمْ لَعْنا وَبِیلا وَ عَذِّبْهُمْ عَذَابا أَلِیما السَّلامُ عَلَیك یا ابْنَ رَسُولِ اللهِ السَّلامُ عَلَیك یا ابْنَ سَیدِ الْأَوْصِیاءِ أَشْهَدُ أَنَّك أَمِینُ اللهِ وَ ابْنُ أَمِینِهِ عِشْتَ سَعِیدا وَ مَضَیتَ حَمِیدا وَ مُتَّ فَقِیدا مَظْلُوما شَهِیدا وَ أَشْهَدُ أَنَّ اللهَ مُنْجِزٌ مَا وَعَدَك وَ مُهْلِك مَنْ خَذَلَك وَ مُعَذِّبٌ مَنْ قَتَلَك وَ أَشْهَدُ أَنَّك وَفَیتَ بِعَهْدِ اللهِ وَ جَاهَدْتَ فِی سَبِیلِهِ حَتَّی أَتَاك الْیقِینُ فَلَعَنَ اللهُ مَنْ قَتَلَك وَ لَعَنَ اللهُ مَنْ ظَلَمَك وَ لَعَنَ اللهُ أُمَّةً سَمِعَتْ بِذَلِك فَرَضِیتْ بِهِ، اللهُمَّ إِنِّی أُشْهِدُك أَنِّی وَلِی لِمَنْ وَالاهُ وَ عَدُوٌّ لِمَنْ عَادَاهُ بِأَبِی أَنْتَ وَ أُمِّی یا ابْنَ رَسُولِ اللهِ أَشْهَدُ أَنَّك كنْتَ نُورا فِی الْأَصْلابِ الشَّامِخَةِ وَ الْأَرْحَامِ الْمُطَهَّرَةِ [الطَّاهِرَةِ] لَمْ تُنَجِّسْك الْجَاهِلِیةُ بِأَنْجَاسِهَا وَ لَمْ تُلْبِسْك الْمُدْلَهِمَّاتُ مِنْ ثِیابِهَا وَ أَشْهَدُ أَنَّك مِنْ دَعَائِمِ الدِّینِ وَ أَرْكانِ الْمُسْلِمِینَ وَ مَعْقِلِ الْمُؤْمِنِینَ وَ أَشْهَدُ أَنَّك الْإِمَامُ الْبَرُّ التَّقِی الرَّضِی الزَّكی الْهَادِی الْمَهْدِی وَ أَشْهَدُ أَنَّ الْأَئِمَّةَ مِنْ وُلْدِك كلِمَةُ التَّقْوَی وَ أَعْلامُ الْهُدَی وَ الْعُرْوَةُ الْوُثْقَی وَ الْحُجَّةُ عَلَی أَهْلِ الدُّنْیا وَ أَشْهَدُ أَنِّی بِكمْ مُؤْمِنٌ وَ بِإِیابِكمْ مُوقِنٌ بِشَرَائِعِ دِینِی وَ خَوَاتِیمِ عَمَلِی وَ قَلْبِی لِقَلْبِكمْ سِلْمٌ وَ أَمْرِی لِأَمْرِكمْ مُتَّبِعٌ وَ نُصْرَتِی لَكمْ مُعَدَّةٌ حَتَّی یأْذَنَ اللهُ لَكمْ فَمَعَكمْ مَعَكمْ لا مَعَ عَدُوِّكمْ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَیكمْ وَ عَلَی أَرْوَاحِكمْ وَ أَجْسَادِكمْ [أَجْسَامِكمْ] وَ شَاهِدِكمْ وَ غَائِبِكمْ وَ ظَاهِرِكمْ وَ بَاطِنِكمْ آمِینَ رَبَّ الْعَالَمِینَ۔
۱۔ اہل بیت(ع) سے محبت و تولّی
زیارت کی ابتداء دیگر زیارات کی طرح سلام سے ہوتی جو اہل بیت علیہم السلام سے تولّی اور محبت کی علامت ہے اور اس زیارت میں  یہ تمام سلام، خود امام حسین علیہ السلام کے القاب کے ساتھ نقل ہوئے ہیں جو اباعبداللہ کی شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں جیسے وليّ خدا، حبيب خدا، خليل خدا، منتخب خدا، شهيد مظلوم،گرفتار مصیبت و آلام ،پھر اسکے بعد  امام حسین علیہ السلام کے ولی خدا اور فرزند ولی خدا صفی خدا اور فرزند صفی خدا ہونے کی گواہی موجود ہے۔
۲۔ امام حسین (ع) کے خصوصیات
علیہ السلام ، اوصاف ، کرامات ۔۔ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جیسے :کرامت الِہی کی بنا پر شہادت کے عظیم مرتبہ پر فائز ہونا، اللہ کی خاص سعادت سے مملو ہونا نیز ہر برائی اور نجاست سے پاک وپاکیزہ اور طاھر طینت کا حامل ہونا، سرداروں میں سے ایک سردار ،رہبروں میں سے ایک رہبر اور دین کا دفاع کرنے والوں میں سے ایک مدافع ،انبیاء کے وارث اور تمام مخلوقات پر اللہ کی حجت وغیرہ یہ وہ عناوین ہین جو آپ کی اوصاف کے طور پر بیان ہوئے ہیں۔
۳۔ فلسفہ قیام عاشورہ
بَذَلَ مُهْجَتَهُ فِیك لِیسْتَنْقِذَ عِبَادَك مِنَ الْجَهَالَةِ وَ حَیرَةِ الضَّلالَةِ۔ خدایا ! امام حسین(ع) نے تیری خاطراپنی جان قربان کی تاکہ تیرے بندوں کو نادانی،گمراہی اور پریشانیوں سے نجات دلائیں۔
زیارت اربعین کے اس فقرہ میں لوگوں کی جہالت اور بے بصیرتی ، گمراہی کی طرف اشارہ ہے  اور قیام کا مقصد بیان کیا ہے کہ امام حسین(ع) کے قیام کا مقصد لوگوں کو جہالت سے اور گمراہی سے نجات دینا تھا ۔
۴۔ قاتلوں کے چہرہ سے نقاب برداری
وہ کون تھے اور کیوں امام سے جنگ کرنے کربلا آئے تھے ان کا مقصد کیا تھا جو امام علیہ السلام کے قتل کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا تھا جبکہ حقیقت یہ کہ ان لوگوں کے دلوں میں کینہ تھا جو صدر اسلام سے اہلبیت اطھار کے لئے ان کے دلوں میں پنپ رہا تھا۔ قاتلین امام حسین(ع) کی کچھ دیگر خصوصیات کی طرف اس طرح اشارے ہوئے ہیں:
’’غَرَّتْهُ الدُّنْيا‘‘۔ دنیا سے فریب کھائے ہوئے۔
’’وَشَرى‏ آخِرَتَهُ‘‘۔حقیر دنیا کے بدلہ اپنی آخرت کو بینچنے والے۔
’’وَتَرَدّى‏ فى‏ هَواهُ‘‘ ہوا و ہوس میں ڈوبے ہوئے۔
۵۔ جھاد سے شہادت تک
’’فَجاهَدَهُمْ فيك صابِراً مُحْتَسِباً، حَتّى‏ سُفِك فى‏ طاعَتِك دَمُهُ، وَاسْتُبيحَ حَريمُهُ‘‘۔ زیارت کا یہ فقرہ گویا امام حسین(ع) کے جہاد سے شہادت تک کی منظر کشی کر رہا ہے کہ آپ کس طرح  اللہ کی راہ میں صبر کے ساتھ جہاد ،خلوص کے ساتھ میدان میں ڈٹے رہے اور اس مبارزہ کو شھادت تک جاری رکھا اور یہاں تک کہ شہادت کے بعد آپ کا خاندان اسیر ہوا ،دین کے دشمنوں کے مقابلہ میں آپ نے دین کو زندہ کیا،دین مبین اسلام کے لئے اور پرچم دین و شریعت کو سر بلند رکھنے کی خاطر اپنا سر کٹوانا اور اپنی زندگی کو قربان کر دیا۔
۶ دین کے دشمنوں پر لعن اور تبرا
’’اَللّهُمَّ فَالْعَنْهُمْ لَعْناً وَبيلا  ً وَ عَذِّبْهُمْ عَذَابا أَلِیماً‘‘۔ زیارت کے اس فقرہ میں امام(ع)  اللہ سے دشمانان دین کے لئے لعن اور عذاب کی درخواست کرتے ہیں۔
۷۔ حسین(ع) کا نبوت اور رسالت سے رشتہ
’’أَشْهَدُ أَنَّك أَمِینُ اللهِ وَ ابْنُ أَمِینِهِ‘‘ جب ہم زیارت میں یہ فقرہ  پڑھتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اے فرزند رسول (ص) ، علی و فاطمہ(س) کے دلارے۔،انبیاء کے وارث اولیاء کے وارث ،ائے امین خدا ائے فرزند امین خدا ۔۔ یہ ان لوگوں کے منھ  پر طمانچہ ہے کہ جو امام حسین(ع) کو خاندان عصمت و طہارت سے جدا کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔
۸۔ سعادتمندانہ زندگی
’’عِشْتَ سَعِیدا وَ مَضَیتَ حَمِیداً‘‘۔ آپکی زندگی سعادتمندانہ اور آپکی شھادت عزتمندانہ تھی۔
۹۔ ظالموں اور ظلم پر راضی رہنے والوں سے بیزاری
’’وَلَعَنَ اللهُ اُمَّةً سَمِعَتْ بِذلِك فَرَضِيتْ بِهِ‘‘۔ ان پر اللہ کی لعنت ہو جنہوں نے اہل بیت علیہم السلام پر ظلم کیا یا جو ظلم پر راضی رہے یعنی جنہوں نے ظلم پر احتجاج نہیں کیا یا ظالموں کے کردار اور انکی عادات کو اپنایا ۔
پھر آگے  فرمایا :’’اَللّهُمَّ اِنّى‏ اُشْهِدُك اَنّى‏ وَلِىٌّ لِمَنْ والاهُ، وَعَدُوٌّ لِمَنْ عاداهُ‘‘۔ یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ اس سے محبت کرتا ہے جو اہل بیت(ع) سے محبت کرے اور اسکا دشمن ہے جو اہل بیت (ع)  سے دشمنی رکھے۔
’’بِاَبى‏ اَنْتَ وَاُمّى‏ يا بْنَ‏ رَسُولِ اللهِ‘‘۔ ولایت کو قبول کرنے کی علامت ہے یعنی ائے فرزند رسول! میں نے آپکی ولایت کو اس طرح قبول کیا کہ میں بھی آپ پر قربان ہوں اور والدین بھی آپ پر قربان ہوجائیں۔
۱۰۔ دوبارہ اصلاب کے پاکیزہ ہونے کی گواہی  
’’اَشْهَدُ اَنَّك كنْتَ نُوراً فىِ‏الْأَصْلابِ الشَّامِخَةِ‘‘ یہ فقرہ اس امر کی گواہی اور شھادت ہے  کہ آپ ہمیشہ پاک و پاکیزہ اصلاب میں رہے یعنی حتی دوران جاہلیت میں بھی آپکے اجداد میں سے کوئی الِہی راستے سے منحرف نہیں تھا ۔
۱۱ ۔مقام امامت و آئمہ
’’أَشْهَدُ أَنَّك مِنْ دَعَائِمِ الدِّینِ وَ أَرْكانِ الْمُسْلِمِینَ‘‘۔ امام معصوم نے امامت کو دین کا ستون قرار دیا ہے  اسلام کا بنیادی رکن امامت اور آئمہ علیہم السلام ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امامت اہل بیت(ع) دنیا والوں کے لئے حجت ہے جس کا مطلب یعنی دنیا اگر سعید اور کامیاب ہونا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ آئمہ علیہم السلام کا اتباع کرے ۔
۱۲۔ ایمان ،تسلیم ،تبعیت
ہدایت و سعادت حقیقی پانی کے لئے آئمہ(ع) کے سلسلہ میں یہ تین اصل عوامل ہیں یعنی ہم شیعہ آئمہ پر ایمان رکھتے ہیں ’’مومن بکم‘‘ ، اور انکی تمام سنت اور دینی قوانین کو تسلیم کرتے ہیں  اور قلب کی گہرائیوں سے تسلیم کرتے ہیں اور اتباع کرتے ہیں ،اور ان تین عوامل کے علاوہ نصرت بھی ایک مھم اور اصل عنصر ہے جو آئمہ ہم سے چاہتے ہیں شھداء کربلا  نے اس عنصر کو دل سے قبول کیا اور  امام پر اپنی جان کو قربان کر کے شھادت حاصل کی ۔
۱۳۔  اعلان معیت اور ہمراہی
امام کے ساتھ ہمیشہ ہمراہی اور معیت کا اعلان اس فقرہ سے سمجھ میں آتا ہے:’’فَمَعَكمْ مَعَكمْ لامَعَ عَدُوِّكمْ‘‘ اسکا مطلب یہ ہے کہ  امام حاضر ہوں یا غائب، کسی بھی صورت میں امام کے راستہ کو ترک نہیں کرنا چاہیئے یعنی اگر امام حاضر ہوتے تو آج اس افراتفری کے ماحول میں آپکا موقف عملی کیا ہوتا آج جو سیاسی فتنہ پوری دنیا کو اپنی مٹھی میں جکڑے ہوئے ہیں ان فتنوں کے مقابلہ میں امام کی حکمت عملی کیا ہوتی صیھونیسم ، غرب  اور دوسرے سیاسی معاملات کو آپ کس طرح حل فرماتے ان تمام باتوں پر غور کرنا اور راہ امام کا انتخاب جو یقیناً راہ مرجعیت اور راہ ولایت فقیہ ہے اسکی ہمراہی اور اسکا انتخاب ایک تأمل بر انگیز مرحلہ ہے ۔
۱۴۔ زیارت کا آخری سلام
زیارت مقدسہ کے آخری فقرے یہ ہیں:’’صَلَواتُ اللهِ عَلَيكمْ، وَعلى‏ اَرْواحِكمْ‏ وَاَجْسادِكمْ، وَشاهِدِكمْ وَغآئِبِكمْ، وَظاهِرِكمْ وَباطِنِكمْ، آمينَ رَبَ‏الْعالَمينَ‘‘۔ اس فقرہ میں بیان ہوتا ہے کہ اللہ کادرود و سلام ہو ائے شہدائے کربلا آپ پر ، اسی طرح آپ حضرات کی روحوں اور جسموں پر سلام ۔۔۔۔ یعنی آپکے پورے وجود پر درود اور آپکے ہر فرد پر درود چاہے وہ حاضر ہو یا غائب ۔
نتیجہ:
زیارت اربعین ایک وفاداری و محبت کا اظہار و اقرار نامہ ہے اور  اس عہد کی تجدید ہے جو ہم نے اپنے آئمہ علیہم السلام  سے کیا تھا کہ ہم آپ کے راستے پر چلیں گے، آپ کے دوستوں سے دوستی اور آپ کے دشمنوں سے بیزاری رکھیں گے، آپ کے راستہ میں ثابت قدم رہیں گے چاہے ہمیں موت بھی آجائے، قیام و جہاد کے لئے ہمیشہ تیار رہیں گے۔ اس زیارت کے یہی وہ عالی و بلند مفاہیم و معارف ہیں جن کے سبب آئمہ(ع) نے اسے مؤمن کی علامت قرار دیا ہے ۔
آخر میں دعا گو ہیں اللہ ہمیں اہلبیت علیہم السلام  کے راستہ پر قائم رکھ  اور ولایت کے دامن کو مضبوطی کے ساتھ کہ حقیقت میں حبل متین اور حبل اللہ ہے، تھامے رکھنے کی توفیق عطا فرما آمین ۔
 
 
 







1
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین