Code : 3895 36 Hit

ابتدائے شیعیت کی تاریخ کا ایک تحقیقی مطالعہ(2)

مذکورہ تینوں نظریات کے درمیان تاریخ تشیع کی ابتداء کے بارے میں تیسرا نظریہ سب سے زیادہ مستحکم ہے۔کیونکہ تاریخی اور حدیثی شواہد اس بات کے گواہ ہیں کہ عہد رسالت میں بعض لوگ شیعہ کے نام سے پہچانے جاتے تھے،البتہ اس معنی میں نہیں کہ مسلمان دو حصوں میں بٹے ہوئے تھے کچھ لوگ سنی اور کچھ لوگ شیعہ،بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ لوگ حضرت علی(ع) سے اپنی محبت کا اظہار کرتے تھے رسول اکرم(ص) کی رفتار وکردار کو آپ کے رفتار و کرادر میں مجسم دیکھتے تھے اس لئے آپ کو اپنے لئے نمونۂ عمل قرار دیتے تھے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے کل اس عنوان کا پہلا حصہ آپ حضرات کی خدمت میں پیش کیا تھا اور بیان کیا تھا کہ شیعیت کی تاریخ سے متعلق علماء کے تین عمدہ نظریات پائے جاتے ہیں اور آج ہم کچھ دیگر دلائل کے ساتھ ساتھ اس گفتگو کا نتیجہ آپ حضرات کی خدمت میں پیش کریں گے چنانچہ ہمارے گذشتہ آرٹیکل کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے:
ابتدائے شیعیت کی تاریخ کا ایک تحقیقی مطالعہ(1)
گذشتہ سے پیوسہ: مفکر شہید آیت اللہ باقر الصدر(رح) بھی اسی نظریہ کے حامی ہیں۔ شہید صدر تشیع اور شیعہ کے درمیان فرق تسلیم کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تشیع کی بنیاد عہد رسالت (ص) میں خود آنحضرت(ص) کے ہاتھوں پڑ گئی تھی تشیع یعنی یہ عقیدہ کہ پیغمبر اکرم(ص) نے اپنے بعد امت اسلامیہ کی رہبری کے لئے چارہ سازی کی ہے اور ابتداء سے ہی امیر المؤمنین حضرت علی(ع) کو اس اہم ذمہ داری کے لئے آمادہ کرنے کے لئے ہمیشہ اپنی خصوصی تربیت کے زیرسایہ پروان چڑھایا اور دوسری جانب متعدد مواقع پر مختلف انداز میں مسلمانوں کے سامنے اعلان کیا۔اپنے نظریہ کے ثبوت میں شہید صدر(رح) نے دو طرح کے نصوص سے استدلال کیاہے۔ایک وہ نصوص جن سے حضرت علی(ع)کی بہ نسبت پیغمبر اکرم(ص) کے خصوصی تعلق اور نگاہ پیغمبر(ص) میں آپ کی قدر ومنزلت کا اظہار ہوتا ہے۔ دوسرے وہ نصوص جو رحلت پیغمبر(ص) کے بعد علی ؑکی امامت ورہبری پر دلالت کرتی ہیں۔
امیر المؤمنین حضرت علی(ع) کی قدر و منزلت بیان کرنے والی چند نصوص یہ ہیں۔
۱۔حاکم نیشاپوری نے مستدرک میں ابو اسحاق سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا:’’میں نے قاسم بن عباس سے سوال کیا کہ کس دلیل کے باعث علی(ع)پیغمبر(ص)(کے علوم)کے وارث ہوگئے؟انہوں نے جواب دیا:’’اس لئے کہ علی(ع) ہمیشہ دوسرے کے مقابلہ میں زیادہ پیغمبر(ص) کے ساتھ رہے‘‘لانہ اولنابہ لحوقا واشدّنا بہ لزوماً‘‘۔(۱)
۲۔ابو نعیم اصفہانی نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ پیغمبر اسلام(ص) نے ستّر ایسے عہد علی(ع) کے حوالہ کئے جو کسی اور کے حوالہ نہ کئے تھے:’’ان النبی عہد الی علی بسبعین عھداً لم یعھد الی غیرہ‘‘۔(۲)
۳۔نسائی نے حضرت علی(ع)سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:’’پیغمبر(ص) کے نزدیک میرا جو مقام تھاوہ کسی کانہ تھا میں ہر شب پیغمبر(ص) کی خدمت میں حاضر ہوتا۔اگر آپ حالت نماز میں ہوتے تو ’’سبحان اللّٰہ‘‘کہتے میں داخل ہوجاتا اور حالت نماز میں نہ ہوتے تو اذن دخول مرحمت فرمادیتے::۔(۳)
۴۔نسائی نے ہی ایک اور حدیث امیر المؤمنین(ع) سے نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا:’’میرا اور پیغمبر(ص) کا ایسا رابطہ تھاکہ میں جب بھی کوئی سوال کرتا آپ(ص) جواب مرحمت فرماتے تھے اور اگر سوال نہیں کرتا تھاتو آنحضرت خود آغاز سخن فرماتے اور حقائق میرے حوالہ فرماتے‘‘۔(۴)
۵۔نسائی نے  ام سلمہ سے روایت کی ہے کہ ’’خدا کی قسم پیغمبر(ص) سے سب سے زیادہ نزدیک شخص علی(ع) تھے:’’ان اقرب الناس عھدا الی رسول اللہ علیٌ‘‘۔(۵)
۶۔امیر المؤمنین(ع) پیغمبر اکرم(ص) کے ساتھ اپنے رابطہ کے بارے میں خطبۂ قاصعہ میںفرماتے ہیں:’’ولقد کنت اتبعہ اتباع الفصیل لاثر امہ،یرفع بی کل یوم من اخلاقہ علما ویامرنی الاقتداء بہ‘‘۔(۶)میں ان کے ہمراہ اس طرح چلتا تھا جس طرح ناقہ کابچہ اپنی ماں کے ہمراہ چلتا ہے وہ روزانہ میرے لئے اپنے اخلاق کا ایک نشانہ پیش کرتے اور پھر مجھے اس کے اقتدا کرنے کا حکم دیاکرتے تھے۔
مذکورہ نصوص اور ان کے مشابہ دیگر رروایات اس حقیقت کاا علان کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم(ص) کو روز اول سے ہی اپنے بعد امت مسلمہ کی رہبری کا مکمل خیال تھا اور اس منصب کے لئے علی(ع) کو مناسب ترین فرد سمجھتے تھے اسی لئے اس عظیم ذمہ داری کے لئے ان کی تربیت فرمارہے تھے لیکن آپ(ص) نے صرف اسی پر اکتفاء نہیں کی بلکہ مختلف حالات ومواقع پر آپ(ع) کی امامت ورہبری کا اعلان کرتے رہے۔اس سلسلہ میں چند نصوص مثلاً حدیث یوم الدار،حدیث ثقلین،حدیث غدیر بطور نمونہ پیش کئے جا سکتے ہیں ان کے علاوہ بہت سے نصوص نبوی اس پر دلالت کرتے ہیں۔(۷)
اس بنا پر یشیع کوئی ایسی نئی چیز نہیں ہے کہ جو اسلام کے ظاہر ہونے کے بعد مختلف حوادث زمانہ کی بنا پر ظاہر ہوگئی ہو بلکہ یہ ایک ایسا عقیدہ ہے کہ جو اسلام کے ساتھ ساتھ فطری طور پر عالم وجود میں آیا ہے۔
شہید صدر(رح) نے رسول خدا(ص) کے بعد شیعیت اور مسلمانوں کے درمیان ایک گروہ کے عنوان سے اس کی شہرت کے اسباب کا تذکرہ کرنے کے بعد پیغمبر اکرم(ص) کی خلافت وجانشینی کی گفتگو کرتے ہوئے یہ یاد دہانی کی ہے:’’پیغمبر اکرم(ص) کے صحابہ کے درمیان دو قسم کے افکار رائج تھے ایک طرز فکر یہ تھا کہ آنحضرت(ص) کی رفتار و گفتار کے سامنے ہر طرح سے تسلیم رہیں اور اس سلسلہ میں کسی دوسرے کے لئے اظہار خیال کی گنجائش نہیں ہے۔اور دوسرا طرز فکریہ تھا کہ بعض کاموں میں خاص طور سے جن چیزوں کا تعلق مسلمانوں کی اجتماعی اور سماجی زندگی سے ہے نص کے سامنے پوری طرح سر تسلیم خم نہیں کیا جاسکتا ہے بلکہ یہ لوگ اپنے لئے رسول خدا(ص) کی رفتار وگفتار کے بالمقابل اظہار خیال کے قائل تھے اس کے بعد انہوں نے اس طرز تفکر کے کچھ نمونے ذکر کئے ہیں جن کے درمیان عمر بن خطاب سر فہرست تھے اور آخر میں یہ نتیجہ نکالا ہے کہ رسول اکرم(ص) کی رحلت کے بعد اس طرز فکر کانتیجہ یہ ہوا کہ مسئلہ امامت وخلافت کے بارے میں مسلمان دوحصوں میں تقسیم ہو گئے۔  
ایک گروہ اس سلسلہ میں اپنے کو نبوی نصوص کا پابند نہیں سمجھتا تھا ان لوگوں کا تعلق سقیفہ سے تھا اور دوسرا گروہ ان لوگوں کا تھا امامت سے متعلق اپنے کونصوص نبوی کا پابند سمجھتا تھا اور یہی لوگ شیعہ ہیں اس طرح اسلام میں شیعیت کی ابتداء ہوئی۔
تجزیہ اور تحقیق
مذکورہ تینوں نظریات کے درمیان تاریخ تشیع کی ابتداء کے بارے میں تیسرا نظریہ سب سے زیادہ مستحکم ہے،البتہ شہید صدر(رح) کے نظریہ کا یہ حصہ کہ آپ نے صرف تشیع کی پیدائش کو ہی دور رسالت سے قرار دیا ہے اور شیعوں کے نام سے منظرعام پر آنے والے افراد کی تاریخ کو عہد رسالت کے بعد قرار دیا ہے یہ قابل غور بات ہے ،کیونکہ تاریخی اور حدیثی شواہد اس بات کے گواہ ہیں کہ عہد رسالت میں بعض لوگ شیعہ کے نام سے پہچانے جاتے تھے،البتہ اس معنی میں نہیں کہ مسلمان دو حصوں میں بٹے ہوئے تھے کچھ لوگ سنی اور کچھ لوگ شیعہ،بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ کچھ لوگ حضرت علی(ع) سے اپنی محبت کا اظہار کرتے تھے رسول اکرم(ص) کی رفتار وکردار کو آپ کے رفتار و کرادر میں مجسم دیکھتے تھے اس لئے آپ کو اپنے لئے نمونۂ عمل قرار دیتے تھے،استاد محمد کرد علی نے اپنی کتاب’’خطط الشام‘‘ میںاس بارے میں بھی یہ کہا ہے:پیغمبر(ص) کے دور میں ہی کچھ بزرگ صحابہ حضرت علی(ع) کے دوستوں کے عنوان سے پہچانے جاتے تھے جیسے سلمان فارسی جن کا بیان ہے کہ:ہم نے اس بات پر پیغمبر اکرم(ص) کی بیعت کی ہے کہ ہم مسلمانوں کے خیر خواہ رہیں گے اور علی بن ابی طالب(ع) کی اقتداء کریںگے اور ان سے محبت کریں گے یا ابوسعید خدری کہتے تھے کہ لوگوں کو پانچ فرائض کا حکم دیا گیا تھا جس میں سے انہوں نے چار کو انجام دے دیا لیکن ایک کو چھوڑ دیا۔جن چار فریضوں پر عمل کیا ہے وہ یہ ہیں:نماز،زکات،روزہ ماہ رمضان اور خانہ کعبہ کا حج اور ایک فریضہ جسے انہوں نے چھوڑ دیا ہے وہ علی بن ابی طالب(ع) کی ولایت ہے اسی طرح جناب ابوذر غفاری،عمار بن یاسر،حذیفہ یمانی،خزیمہ بن ثابت انصاری ، ابوایوب انصاری،خالد بن سعید اور قیس بن سعد بھی ان ہی لوگوں میں شامل ہیں۔(۸)
ابو حاتم رازی اپنی کتاب ’’الزینہ‘‘ میں تحریر کرتے ہیں کہ ’’شیعہ‘‘ رسول خدا(ص) کے دور میں چار اصحاب کالقب تھا جن کے نام یہ ہیں:سلمان فارسی،ابوذر غفاری،مقداد بن اسود اورعمار یاسر(۹)
فرق الشیعہ کے مولف بھی تحریر کرتے ہیں:سلمان فارسی،ابوذر غفاری،مقداد بن اسود اور عمار بن یاسر وہ پہلے افراد تھے جنہیں’’ شیعہ ‘‘کہا جاتا تھا۔(۱۰)
خلاصۂ کلام یہ کہ شیعیت اوراس کی تاریخ کے بارے میں مندرجہ ذیل باتوں کا استفادہ ہوتا ہے:
۱۔تشیع کے یعنی:حضرت علی(ع) کی بلافصل اور منصوص امامت وخلافت کا عقیدہ۔
۲۔تشیع یعنی حضرت علی(ع)کی محبت کا واجب ماننا۔
۳۔تشیع یعنی حضرت علی(ع) کو دوسرے تمام صحابۂ پیغمبر(ص) سے افضل ماننے کا عقیدہ۔
۴۔رسول اکرم(ص) کے دور میں بعض صحابہ کا شیعۂ علی(ع)کے نام سے معروف ومشہور تھے۔
۵۔رسول اکرم(ص) کی وفات کے بعد آپ کے جانشین اور مسلمانوں کے امام وقائد کے بارے میں صحابہ کے درمیان اختلاف پید اہوا اور بعض مہاجرین وانصار نے حضرت علی(ع) کی حمایت کی جس کے نتیجہ میں شیعہ دنیا میں ایک مذہب کی شکل دنیا کے میں سامنے آیا۔
آخری نکتہ تاریخ کے مسلمات اور قطعی حقائق میںشامل ہے لہٰذا اس کے لئے کسی تاریخی سند اور کتاب کے حوالے کی ضرورت نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔المستدرک علی الصحیحین،۸؍۳،۱۶۳،حدیث ۴۶۳۲،دار الکتاب العلمیۃ،بیروت،خصائص امیر المومنین،۱۶۱۔
۲۔حلیۃ الاولیاء،ج؍۱،ص۶۸،دار الکتاب العربی،بیروت۔
۳۔السنن الکبریٰ ،ج؍۵،ص؍۱۴۰،حدیث ۸۴۹۹،کتاب الخصائص،۱۶۶،۱۶۷۔
۴۔گذشتہ حوالہ،ص؍۱۴۲،کتاب الخصائص،ص؍۱۷۰۔۱۷۱،اس حدیث کو بھی حاکم نے مستدرک میںنقل کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ شیخیں کے شرائط مطابق صحیح ہے۔المستدرک،۳؍۱۳۵،ج؍۱،۴۶۳۰ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ،بیروت  ۱۴۱۱۔
۵۔گذشتہ حوالہ،ص؍۱۵۴،باب۵۴۔
۶۔نہج البلاغہ ڈاکٹر صبحی صالح خطبہ۱۹۲۔
۷۔نشأۃ التشیع والشیعہ،ص؍۶۳۔۷۹ ۔
۸۔خطط الشام،۶؍۲۵۱۔۲۵۲۔۔۔۔۔۔۔۔الامام الصادق والمذاہب الاربعہ،۱؍۲۳۸۔
۹۔اعیان الشیعہ،۱؍۱۸۔۱۹۔
۱۰۔فرق الشیعہ،ص؍۱۷۔۱۸۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین