Code : 3886 30 Hit

ابتدائے شیعیت کی تاریخ کا ایک تحقیقی مطالعہ(1)

علامہ طباطبائی نے اس کے بعد ان احادیث کی طرف اشارہ کیا ہے جن سے حضرت علی(ع)کی امامت، صحابہ کے درمیان آپ کی امتیازی شخصیت اور پیغمبر اکرم(ص) سے آپ کا خصوصی ربط و تعلق واضح ہوتا ہے، پھر علامہ طباطبائی تحریر فرماتے ہیں:’’بدیہی چیز ہے کہ ایسے امتیازی خصوصیات اور متفق علیہ فضائل وکمالات نیز پیغمبر اکرم(ص) کا امیر المومنین سے گہرے محبت آمیز برتاؤ کے باعث فضیلت وحقیقت کے عاشق وفریفتہ اصحاب کو علی(ع)سے محبت کرنے اور اتباع کے ذریعہ آپ کی قربت اختیار کرنے پر آمادہ کرتے تھے اور دوسری جانب یہی فضائل وکمالات کچھ لوگوں کو آپ کی دشمنی اور حسد میں مبتلا کرتے تھے ان تمام باتوں کے علاوہ’’شیعۂ علی‘‘اور ’’شیعہ اہلبیت‘‘کا نام پیغمبر اکرم(ص) کے کلام میں بہت زیادہ نظر آتا ہے‘‘۔

ولایت پورٹل:  شیعہ کی تعریف اور اس کے مختلف معانی سے واقفیت کے بعد اب شیعیت کی تاریخ اور ابتداء کے سلسلہ میں تحقیق کی جائے۔ یہ مسئلہ عام اسلامی مذاہب خصوصاً، شیعہ مذہب کے بارے میں تحقیق کرنے والوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے اور اس سلسلہ میں مختلف نظریات سامنے آئے ہیں۔ ایک نظریہ تویہ ہے کہ شیعیت کی ابتداء عہد رسالتمآب(ص) میں ہی ہوچکی تھی دوسرے نظریہ کے مطابق شیعیت کا آغاز رحلت پیغمبر اکرم(ص) کے بعد ابتدائی ایام سے تعلق رکھتا ہے۔ ان دو نظریات کے علاوہ اور نظریات بھی پائے جاتے ہیں جن کے بارے میں الگ فصل میں گفتگو کی جائے گی۔
پہلا نظریہ
شیعہ مفکرین کے ایک گروہ کا عقیدہ یہ ہے کہ شیعیت کی ابتداء عہد رسالت میں ہی ہوگئی تھی خود پیغمبر اکرم(ص) نے ہی اپنے دست مبارک سے شیعیت کا پودا لگایا اور خود اس کی آبیاری کرکے اسے پروان چڑھایا۔اس نظریہ کی تائید مندرجہ ذیل دلائل پیش کئے جاتے ہیں۔
۱۔پیغمبر اکرم(ص) سے بہت سی روایات منقول ہیں جن میں آنحضرت (ص)نے ایک گروہ کی ’’شیعۂ علی‘‘کے عنوان سے مدح و ستائش کی ہے ۔(۱)ان احادیث کا مضمون یہ ہے کہ اس زمانہ میں کچھ ایسے افراد بھی تھے جو حضرت علی(ع)سے خصوصی ربط رکھتے تھے آپ(ع)سے عقیدت و محبت کا اظہار کرتے اور آپ کے قول و فعل کو نمونۂ عمل قرار دیتے نیز اس کی پیروی میں عمل بھی کرتے تھیکہ آپ(ع)کی رفتار و گفتارکو پیغمبر اکرم(ص)کی نگاہ میں پسندیدگی اور تائید حاصل ہے۔
۲۔بعض تاریخی مدارک و منابع کے مطابق سلمان ، ابوذر ، مقداد اور عمار جیسے صحابہ عہد رسالتمآب(ص) میں شیعہ علی(ع) کے نام سے پہچانے جاتے تھے۔
۳۔پیغمبر(ص)سے منقول حدیث یوم الدار (دعوت ذو العشیرہ )حدیث غدیر، حدیث منزلت ، حدیث ’’علی مع الحق‘‘، ’’انا مدینۃ العلم‘‘جیسی احادیث واضح طور پر حضرت علی(ع)کی خلافت و امامت پر دلالت کرتی ہیں دیگر قرآنی آیات اورعقلی دلائل کے علاوہ یہی احادیث مسئلہ امامت میں شیعوں کے نظریہ کی دلیل ہیں دوسری جانب حضرت علی(ع)کی بلافصل امامت ہی تشیع کی بنیاد اور محور ہے۔
حضرت علی(ع) اور آپ کے شیعوں کی مدح و ستائش سے متعلق احادیث نبوی کی جانب اشارہ کرنے کے بعد علامہ کاشف الغطاء فرماتے ہیں:’’ان احادیث کا مطلب یہ ہے کہ اصحاب پیغمبر(ص) میں کچھ لوگ شیعۂ علی(ع) تھے اور شیعۂ علی (ع)سے مراد یہ نہیں ہے کہ آپ سے محبت کرتے تھے یا آپ سے عداوت نہیں رکھتے تھے۔اس لئے کہ کسی شخص سے محض محبت کرنا یا اس سے نفرت نہ کرنا اس شخص کا شیعہ کہلانے کے لئے کافی نہیں ہے عربی لغت میں شیعہ کے یہ معنی نہیں ہیں بلکہ شیعہ کا مطلب محبت کرنے کے علاوہ اس کی پیروی کرنا ، اس کے نقش قدم پر چلنا ہے۔ اگر لفظ شیعہ کہیں کسی اور معنی میں استعمال ہو تو مجازاً استعمال ہوگا حقیقی معنی میں نہیں ۔اس بنا پر ان روایات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اصحاب پیغمبر(ص) کے درمیان ایسے افراد تھے جو حضرت علی(ع)سے خصوصی نسبت اور خاص ربط رکھتے تھے اور آپ کے قول و فعل کو پیغمبر(ص) کی مراد و مقصود اور آنحضرت (ص)کی تعلیمات کی تفسیر و تشریح مانتے تھے اور ان کا عقیدہ تھا کہ علی(ع) حامل اسرار نبوی(ص) ہیں‘‘۔(۲)
علامہ طباطبائی بھی شیعیت کی ابتداء کے سلسلہ میں فرماتے ہیں:’’تشیع کا آغاز جو ابتداء میں شیعۂ علی(ع)سے مشہور ہوا عہد رسالتمآب (ص)سے تسلیم کرنا چاہئے۔ اسلام کی دعوت کا آغاز اور ۲۳سال پر محیط ارتقاء بہت سے امور کا تقاضا کرتا ہے چنانچہ اصحاب پیغمبر(ص)کے درمیان ایسے گروہ (شیعہ)کا وجود بھی فطری ہے‘‘۔
علامہ طباطبائی نے اس کے بعد ان احادیث کی طرف اشارہ کیا ہے جن سے حضرت علی(ع)کی امامت، صحابہ کے درمیان آپ کی امتیازی شخصیت اور پیغمبر اکرم(ص) سے آپ کا خصوصی ربط و تعلق واضح ہوتا ہے، پھر علامہ طباطبائی تحریر فرماتے ہیں:’’بدیہی چیز ہے کہ ایسے امتیازی خصوصیات اور متفق علیہ فضائل وکمالات نیز پیغمبر اکرم(ص) کا امیر المومنین سے گہرے محبت آمیز برتاؤ کے باعث فضیلت وحقیقت کے عاشق وفریفتہ اصحاب کو علی(ع)سے محبت کرنے اور اتباع کے ذریعہ آپ کی قربت اختیار کرنے پر آمادہ کرتے تھے اور دوسری جانب یہی فضائل وکمالات کچھ لوگوں کو آپ کی دشمنی اور حسد میں مبتلا کرتے تھے ان تمام باتوں کے علاوہ’’شیعۂ علی‘‘اور ’’شیعہ اہلبیت‘‘کا نام پیغمبر اکرم(ص) کے کلام میں بہت زیادہ نظر آتا ہے‘‘۔(۳)
اس نظریہ کے بارے میں غور کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ عہد رسالت میں مسلمانوں کے درمیان امامت کامسئلہ زیر بحث تھا اور ایک گروہ نے حضرت علی(ع) کی امامت کو قبول کرلیا  دوسرے گروہ نے قبول نہیں کیا اس لئے پہلے گروہ کو شیعہ کہا گیا تاکہ یہ کہا جاسکے کہ اس دور میں امامت کامسئلہ اس طرح سے پیش ہی نہیں ہو اتھا اور نہ ہی اس سلسلہ میں کوئی اختلاف رونما ہوا تھا بلکہ اس نظریہ سے مراد یہ ہے کہ اس دور میں بھی ایک ایسا گروہ تھا جو علی(ع)کے بارے میں احادیث نبوی پر توجہ اور پیغمبر(ص) کے نزدیک آپ کی شان و منزلت کو پیش نظر رکھتا تھا اور آپ کو اسرار نبوی کا حامل اور آنحضرت(ص) کے معارف کا شارح سمجھتا تھااور اسی بناء پر آپ سے محبت کرتا اور آپ کی اتباع کو ہی پیغمبر(ص) کی پیروی سمجھتا تھا۔
اسی گروہ کو پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت کے بعد علی ؑکا مخصوص طرفدار اور پیرو شمار کیا جاتا تھا اور اسی گروہ کو پیغمبر(ص) نے’’شیعۂ علی(ع)‘‘ کہا ہے۔(۴)
دوسرا نظریہ
محققین ومورخین کا ایک گروہ شیعیت کی پیدائش کو پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت کے بعد مسئلہ خلافت وامامت کے بارے میں اختلاف یا بہ الفاظ دیگر سقیفۂ بنی ساعدہ کے واقعہ سے منسلک تسلیم کرتاہے۔اس لئے کہ پہلی مرتبہ سقیفۂ بنی ساعدہ میں ہی پیغمبر اکرم(ص) کے جانشین اور مسلمانوں کی رہبری کے سلسلہ میںدونظریے سامنے آئے انصار کے ایک گروہ نے سعد بن عبادہ کانام خلافت ورہبری کے لئے پیش کیا جب کہ مہاجرین کے ایک گروہ نے خلافت کے لئے ابوبکر کے نام کی تائید کی اور دونوں گروہوں کے درمیان گفتگو کے بعد ابوبکر کے حق میں فیصلہ ہوگیا ان کے علاوہ بنی ہاشم اور بعض انصار ومہاجرین پر مشتمل مسلمانوں کا ایک گروہ اور تھا جو علی(ع) کی امامت کا معتقد تھا یہی گروہ ’’شیعۂ علی‘‘ تھا یہیں سے ’’شیعہ ‘‘اسلام میں ایک مذہب کے عنوان سے سامنے آیا۔
تیسرا نظریہ
اس سلسلہ میں تیسرا نظریہ یہ بھی پایا جاتا ہے جو سابقہ دونظریوں پر مشتمل ہے اور ان دونوں کو ایک حقیقت کے دو رخ یادومرحلہ قرار دیتا ہے اس تیسرے نظریہ کی بنیاد پر سابقہ دونوں نظریے ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں بلکہ دونوں نے مسئلہ کو ایک خاص زاویہ نگاہ سے دیکھا ہے اپنے مقام پر دونوں نظریے صحیح اور روائتی وتاریخی شواہد ودلائل سے ہم آھنگ ہیں پہلے نظریہ کا مطلب یہ ہے کہ عقیدۂ تشیع اور شیعی رجحان کا آغاز عہد رسالتمآب(ص) میں ہوگیا تھا۔
سب سے پہلے جس شخص نے یہ نظریہ پیش کیا وہ سرورکائنات حضرت محمد مصطفی(ص) کی ذات گرامی تھی لیکن اس زمانہ میں مسلمان ’’شیعہ‘‘اور ’’غیر شیعہ‘‘ دوفرقوں میں تقسیم نہیں ہوئے تھے۔دوسرے نظریے کا ماحصل یہ ہے کہ خلافت وامامت کے بارے میں ایسا اختلاف جس کے باعث مسلمانوں میں تقسیم ہوگئی اور ایک گروہ نے شیعہ کے عنوان سے علیؑ کی خلافت وامامت کی طرفداری کی جبکہ اس کے مقابلہ میں دوسرے گروہ نے ابوبکر کو پیغمبر(ص) کو بلا فصل خلیفہ منتخب کرلیا ایسا اختلاف رحلت پیغمبر اکرم(ص) کے بعد ہی رونما ہوا لہٰذا مذہب شیعہ کا وجود بھی اسی تاریخ سے وابستہ ہے۔ظاہر ہے کہ ان دونوں نظریات میں کوئی ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہے اور دونوں اپنے اپنے مقام پر درست ہیں۔
بعض محققین نے اس نکتہ کی طرف توجہ کرتے ہوئے ان دونوں نظریات کو ایک مکمل نظریہ اور مسلسل حقیقت کے دو پہلو یا دو مرحلے قرار دیا ہے۔علامہ سید محسن امین نے پہلے یہ بیان فرمانے کے بعد کہ ’’شیعی عقیدہ اور نقطۂ نظرعہد پیغمبر(ص) میں ہی وجود میں آچکا تھا اور اسی دور میں مسلمانوں کے ایک گروہ کو شیعہ کہا جاتا تھا‘‘ فرماتے ہیں کہ مسئلہ خلافت کے سلسلہ میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف کے باعث تشیع کا ظہور ہواہے۔علامہ محسن امین فرماتے ہیں:’’گذشتہ بحث سے معلوم ہوگیاکہ عہد پیغمبر(ص) میںہی مسلمانوں کے ایک گروہ کو ’’شیعۂ علی‘‘شمار کیا جاتا تھا پھر مسئلہ امامت کے بارے میں اختلاف کے نتیجہ میںاس کا ظہور ہوا اس لئے کہ اس گفتگو میں انصار نے مہاجرین سے کہا ‘‘ہم دونوں(انصار و مہاجرین)میں سے رہبر منتخب ہونا چاہیئے لیکن مہاجرین نے اس دلیل کی بنیاد پر کہ ہم پیغمبر(ص) کے قبیلہ کے ہیں اور امامت قریش میں رہنا چاہیئے انصار کی بات قبول نہ کی جبکہ بنی ہاشم اور انصار ومہاجرین کے ایک گروہ نے امامت علی ؑکو تسلیم کرلیا یہ وہی شیعہ تھے‘‘۔(۵)
ہاشم معروف حسنی بھی اس سلسلہ میںفرماتے ہیں’’تشیع کامسلمانوں کے ایک فرقہ کے لحاظ سے رحلت پیغمبر(ص) سے قبل کوئی وجود نہیںتھا لیکن امامت کے بارے میں شیعہ عقیدہ کی بنیاد یعنی امامت کے باب میں نص کی ضرورت اور پیغمبر اکرم(ص) کے ذریعہ اپنے خلیفہ کے عنوان سے علی(ع)کی تعیین، ظہور اسلام کے ساتھ روز اول سے ہی موجود اس کے بعد انہوں نے حضرت علی(ع)کی امامت کے نصوص ذکر کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔
’’تشیع فقہاء ومتکلمین ومحدثین کے نزدیک، اپنے معروف معنی میں،اپنے امتیازی خصوصیات کے ساتھ مذکورہ نصوص کے باعث عہد رسالتمآب(ص) میں ہی وجود میں آچکی تھی اور صحابہ کا ایک گروہ تاریخ اسلام کے پہلے مرحلہ میں وفات پیغمبر(ص) کے بعد اسی عقیدہ پر ثابت قدم رہا خود حضرت علی(ع) نے اسلام و مسلمین کی مصالح کی خاطر اس ماحول میں مصلحت آمیز رویہ اختیار کیا‘‘۔(۶)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:
۱۔اصل و اصول الشیعہ ، ص۱۱۱ تا ۱۱۳، مطبوعہ قاہرہ و ص۱۲۱تا ۱۲۲، مطبوعہ دار الاضواء ؛ علامہ سید محسن امین ،اعیان الشیعہ ، ج۱، ص۲۳؛ شیخ محمد حسین مظفر ، تاریخ الشیعہ ، ص۸،۹؛شیخ جواد مغنیہ ، الشیعہ و التشیع، ص۱۶؛علامہ طباطبائی ،شیعہ در اسلام ، ص۵تا۷؛ استاد سبحانی ،بحوث فی الملل و النحل ج۶، ص۱۰۶تا ۱۱۲؛ اور سید طالب خرسان نے نشأۃ التشیع ،ص۲۴تا۲۹میں اسی نظریہ کو اپنایا ہے۔
۲۔گذشتہ فصل میں ان احادیث کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
۳۔شیعہ در اسلام،۵تا۷۔
۴۔ابن خلدون نے کتاب تاریخ ج؍۳،ص؍۳۶۴،ڈاکٹر ابراہیم حسن نے’’تاریخ اسلام‘‘ج؍۱،ص؍۳۷۱،احمد امین مصری نے ’’ضحی الاسلام‘‘ج؍۳،ص؍۲۰۹ گلدزیر نے’’العقیدۃ والشریعۃ فی الاسلام‘‘ص؍۱۷۴ میں یہی نظریہ اختیار کیا ہے۔ملاحظہ فرمائیں’’نشأۃ التشیع‘‘ص؍۳۱۔۳۲
۵۔اعیان الشیعہ،ج؍۱،ص؍۲۳ ۔
۶۔ہاشم معروف الحسنی’’الشیعۃ بین الاشاعرہ والمعتزلۃ‘‘،ص؍۴۸۔۵۳۔


جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین