صیہونی حکومت کے ہاتھوں22 سال میں 2500 فلسطینی بچے شہید

بظاہر انسانی حقوق کی حمایت کرنے والے مغربی ممالک کی خاموشی کے ساتھ صیہونی حکومت کے جرائم کا معاملہ روز بروز خوفناک ہوتا جا رہا ہے جبکہ 2000 سے اب تک 2500 فلسطینی بچوں کی شہادت بچوں کی قاتل اس حکومت کے سیاہ کارناموں کا صرف ایک حصہ ہے۔

ولایت پورٹل:کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ اس مقبوضہ ملک کے بے گناہ فلسطینی عوام بالخصوص بچوں اور نوعمروں کے قتل کی خبریں عالمی میڈیا میں شائع نہ ہوتی ہوں،دنیا کے لوگ آج بھی پانچ سالہ آلا کے معصوم چہرے کو نہیں بھولے، یہ اگست کے وسط کی بات ہے جب صہیونی قاتل مشین نے غزہ میں رہنے والی پانچ سالہ بچی" آلا قدوم "  کو نشانہ بنایا جو غزہ شہر کے مشرق میں واقع "ابوسمرہ" مسجد سے متصل شجاعیہ کے محلے میں اپنے گھر کے سامنے کھیل رہی تھی جہاں صیہونیوں نے اس کے بچپن کی دنیا کو تباہ کر دیا اور اس کا خون بہایا۔
اسی مہینے میں بچوں کو قتل کرنے والی صیہونی حکومت کی کرائم فائل میں کئی دوسرے بچوں کے نام درج کیے گئے جن میں 4 سالہ جمیل نجم، 15 سالہ جمیل ایہاب نجم، 17 سالہ محمد صلاح نجم، 16 سالہ حامد حیدر نجم اور 16 سالہ ناظمی فیاض ابو کرش شامل ہیں جو غزہ جنگ کے تیسرے دن صیہونی جنگی تیاروں کی بمباری کی وجہ سے شہید ہوئے جس کے بعد ایک ہفتے کی تردید کے بعد صیہونی حکومت کے فوجی حکام نے بالآخر اعتراف کیا کہ وہ غزہ کی حالیہ جنگ میں پانچ بچوں کی شہادت کے ذمہ دار ہیں۔
واضح رہے کہ  فلوجہ کے قبرستان میں کھیلنے والے بچوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک لمحے بعد وہ اس جگہ ہمیشہ کے لیے آرام کریں گے، یاد رہے کہ غزہ کی پٹی اور مقبوضہ علاقوں کے دیگر حصوں پر تجاوزات کی ہر لہر کے ساتھ، بچوں کو مارنے والی صیہونی حکومت بچوں کو نشانہ بناتی ہے، جس سے ہر سال درجنوں فلسطینی بچے شہید ہوتے ہیں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین