16 ملین یمنی بھوک کا شکار ہیں:ورلڈ فوڈ پروگرام

ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے یمن میں صدی کے بدترین قحط کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 16 ملین یمنی بھوک کا شکار ہیں جن میں سے 50 لاکھ قحط کے خطرہ سے دوچار ہیں۔

ولایت پورٹل:اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیوڈ بیزلی نے العربی الجدید کو انٹرویو دیتے ہوئے یمن کے تنازعے پر فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور تنازعہ کا خاتمہ کریں تاکہ ملک بھر میں جنگ اور قحط کی وجہ سے یمنیوں کی مزید ہلاکتوں کو روکا جاسکے، انہوں نے کہاکہ  یمن کی صورتحال تباہ کن ہے اور یہ ملک زمین پر انسانیت کی سب سے بڑی تباہی کا شکار ہے جہاں 16 ملین یمنی بھوک سے دوچار ہیں اور ان میں سے 50 لاکھ قحط کے خطرہ ہیں جبکہ انسانی امداد کے لئے مالی اعانت کا فقدان اور سعودی اتحاد کی جانب سے ایندھن کے ٹینکروں کے الحدیدہ پہنچنے میں رکاوٹوں کی وجہ سے صورتحال میں شدت پیدا ہوگئی ہے۔
بیزلی نے اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں ایک مجازی نیوز کانفرنس کو بتایا کہ اگر فوری طور پر کاروائی نہیں کی گئی تو یمن کو صدی کے بدترین قحط کا سامنا کرنا پڑے گا،تاہم اقوام متحدہ کے عہدیدار نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ پائیدار امن کے حصول کے لئے فریقین کو تنازعہ کی طرف لائے گی کیونکہ صورتحال بہت خراب ہے  خاص طور پر اس وجہ سے کہ ایندھن کو بندرگاہوں تک جانے سے روکا گیاہےجو انسان دوستی کی بنیاد پر کی جانے والی کاروائی کے عمل کو منفی طور پر متاثر کرسکتا ہے اور یمنی منڈیوں میں سامان کی قیمت میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
 ورلڈ فوڈ پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ یمن میں تنازعہ انسان ساختہ ہے اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم کس فریق کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، یہ کشمکش ختم ہونی چاہئے، میں سیاست دانوں کو بھی اس جنگ کے خاتمے کے لئے ضروری اقدامات کرنے پر راضی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں، اب اس جنگ کے خاتمے کا وقت آگیا ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں ہم سب سے بڑی انسانی تباہی دیکھ رہے ہیں، مثال کے طور پر  اگر امداد فراہم نہ کی گئی تو 400000 یمنی بچے مر جائیں گے اس کا مطلب ہے کہ ہر 75 سیکنڈ میں ایک یمنی بچہ فوت ہوجائے گا لہذا ہمارا فرض ہے کہ جنگ ختم کروئیں ، بندوقوں کو نیچے رکھوائیں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین