Code : 2308 157 Hit

امریکی فوج کے 1000 جوان عراق منتقل؛آخر کیا ہے امریکہ کا ارادہ؟

یاد رہے کہ عراق و شام میں داعش جیسے درندوں کا وجود بھی امریکہ کے رہتے ہی اس ملک میں پنپا ہے اب کیا کہیں کہ داعش زیادہ طاقتور تھی اور امریکہ ان کو نہ روک سکا یا یہ کہا جائے کہ داعشی خود امریکہ کے تابع فرمان تھے لہذا انہیں کے اشارے پر تمام تخریب کاریاں انجام دی گئیں ہیں۔

ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے اپنے مستقبل قریب کے ارادے سے پردہ اٹھاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امریکہ کہ وہ 1000 فوجی جو شام کے شمالی علاقہ جات سے نکالے ہیں انہیں جلد ہی مغربی عراق میں منتقل کردیا جائے گا۔
امریکہ کی وزارت دفاع نے اس سے پہلے شام سے انخلاء کے بعد اپنے فوجیوں کے بارے میں جزئیات نہیں بتائی تھیں لہذا امریکی وزیر جنگ اسپر نے عراقی وزارت دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ 1000 میں سے 700 فوجیوں کی عراق منتقلی کے تمام مقدمات فراہم کرلئے گئے ہیں۔
امریکی وزیر جنگ نے عراق منتقل ہونے والے فوجیوں کی ذمہ داری کے بارے میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی 2 ذمہ داریاں ہونگی پہلی تو یہ کہ وہ عراق کی حفاظت کریں گے اور دوسرے داعش سے مقابلہ کریں گے۔
یاد رہے کہ صدام کے تختہ الٹنے سے لیکر آج تک امریکی فوج عراق میں موجود ہے اور ہر سال اس ملک پر ایک سے بڑھ کر ایک نئی مصیبت آتی ہے لہذا امریکی وزیر جنگ کا یہ کہنا کہ عراق کی حفاظت کریں گے  محض ایک دعویٰ سے بڑھ کر کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔
اور ہاں یہ بھی یاد رہے کہ عراق و شام میں داعش جیسے درندوں کا وجود بھی امریکہ کے رہتے ہی اس ملک میں پنپا ہے اب کیا کہیں کہ داعش زیادہ طاقتور تھی اور امریکہ ان کو نہ روک سکا یا یہ کہا جائے کہ داعشی خود امریکہ کے تابع فرمان تھے لہذا انہیں کے اشارے پر تمام تخریب کاریاں انجام دی گئیں ہیں۔
نیز یہ بات بھی قابل ملاحظہ ہے کہ حال حاضر میں عراق کے اندر 5000 امریکی فوج موجود ہے جبکہ 2011 میں امریکی فوج عراق کو چھوڑ کر چلی گئی تھی لیکن اچانک 2014 میں داعش کو بہانا بنا کر امریکہ نے اپنے 5000 فوجی عراق روانہ کردیئے تھے۔جن کے سبب آج پورا خطہ فتنہ کی لپٹوں کے درمیان ہے۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम