Code : 1488 38 Hit

گناہ کرنے کے 10 اہم اسباب

انسان کو گناہ کرنے پر وادار کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ خود اس فرد کی جہالت و حماقت کا ہوتا ہے۔ خدا سے نا آشنائی،مقصد تخلیق سے نا آشنائی،خلقت کے اسرار سے بے توجہی،گناہ کے آثار کی عدم معرفت۔جہالت و حماقت ہی آج ہمارے مسلم معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ افسوس دشمن ہمارے عقائد و افکار پر بے رحمانہ طریقے سے ثقافتی شب خون مار رہا ہے جس سے آج ہمارے اکثر جوانوں کا دینی و قومی کردار ختم ہوتا نظر آرہا ہے۔

ولایت پورٹل: کثرت مال و منال اور اولاد و جائداد سے زندگی کامیاب نہیں ہوتی بلکہ گناہ سے بچنا ہی ایک کامیاب زندگی کی علامت ہے اور گناہ سے اسی وقت بچا جاسکتا ہے جب انسان کومکمل طور پر یہ اطلاع اور آگاہی ہو کہ کون کون سی چیزیں انسان سے توفیق سلب کرلیتی ہیں اور کن چیزوں کے ذریعہ صراط مستقیم پر ثابت قدم رہنا مشکل ہوتا ہے۔
اگر ہم گناہ کرنے کے اسباب و عوامل کا جائزہ لیں تو ہمیں ان میں مختلف و متعدد اقسام جیسا کہ ثقافتی،تربیتی گھریلو ،اقتصادی، اجتماعی سیاسی اور ذہنی وغیرہ نظر آئیں گے کہ ان میں سے ہر ایک خاص کمیت، کیفیت اور شرط کے ساتھ گناہ کا مقدمہ بن جاتا ہے۔
1۔جہل و حماقت
انسان کو گناہ کرنے پر وادار کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ خود اس فرد کی جہالت و حماقت کا ہوتا ہے۔ خدا سے نا آشنائی،مقصد تخلیق سے نا آشنائی،خلقت کے اسرار سے بے توجہی،گناہ کے آثار کی عدم معرفت۔جہالت  و حماقت ہی آج ہمارے مسلم معاشرے کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ افسوس دشمن ہمارے عقائد و افکار پر بے رحمانہ طریقے سے ثقافتی شب خون مار رہا ہے جس سے آج ہمارے اکثر جوانوں کا دینی و قومی کردار ختم ہوتا نظر آرہا ہے۔
2۔حرام خوری
گناہ و جرم کو انجام دینے کا ایک اہم سبب حرام لقمہ کھانا بھی ہے۔جب ہم اپنے اطراف کے بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ جو ظاہر میں بہت پڑھے لکھے ہیں،اور معاشرے میں علمی و تدینی لحاظ سے بھی اپنی پہچان رکھتے ہیں لیکن ان سب کے باوجود ان سے عجیب و غریب گناہ سرزد ہوجاتے ہیں بلکہ کبھی کبھی تو وہ ایسے گناہوں کے مرتکب ہوجاتے ہیں جن سے اکثر جاہل افراد بھی پناہ مانگے ہیں۔ طبی تحقیقات اور دینی نقطہ نگاہ سے جس طرح یہ بات مسلم ہے کہ غذا کا اثر انسان کے جسم پر پڑتا ہے اسی طرح کھانے کے اثرات انسان کی روح پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔لہذا علماء نے لقمہ حرام کو  گناہ میں ملوث ہونے کے ایک بنیادی سبب کے طور پر پہچنوایا ہے۔
3۔گھریلو ماحول
انسان کی تربیت کا سب سے اہم اور قوی مرکز اس کا گھر اور خاندان ہوتا ہے۔یہیں سے انسانی معاشرے کی تعمیر کی اکائی  فراہم ہوتی ہے اور یہیں سے کسی معاشرے کی بیخ کنی کے مہلک اسباب بھی فراہم ہوسکتے ہیں۔پس جس طرح اچھے گھرانے اور خاندان کا اچھا دینی ماحول انسان کو نیکیوں کی طرف دعوت دیتا ہے اسی طرح گھر و خاندان کا نامناسب ماحول انسان کو گناہوں پر وادار بھی کرسکتا ہے۔
4۔تربیت کا فقدان
کسی بھی معاشرے کو اسی وقت معتدل اور متوازن معاشرہ کہیں گے جس میں مادی و فیزیکلی ترقی کے ساتھ ساتھ تربیتی ویلوز میں بھی ترقی ہو چنانچہ اگر کسی مجموعے میں ایک چیز میں تو حد درجہ اضافہ ہو لیکن دوسری چیزوں میں رشد نام کی کوئی چیز نہ ہو تو ایسا معاشرہ مفلوج و اپاہج معاشرہ ہوتا ہے۔ آپ اسے ایسے سمجھ سکتے ہیں: کہ اگر کسی انسان کے ایک ہاتھ کی انگلیاں اس کے دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے لمبی ہوں یا اس کے ہاتھ پیر تو لمبے ہوں لیکن اس کا جثہ بہت مختصر سا ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے جسم کا توازن درست نہیں ہے بلکہ متوازن اور معتدل جسم اسے کہتے ہیں کہ جسم انسانی کا ہر حصہ یکساں طور پر نمو نہیں کرے۔ اسی طرح کسی بھی معاشرے میں اخلاقی تربیت کا فقدان بھی اس معاشرے کے برباد ہونے کا سبب بنتا ہے مثال کے طور پر ایک شخص کا جسم تو کامل ہے ، اس کے  حالات بھی اچھے ہیں لیکن اس کے یہاں تربیت کا فقدان ہے تو جب ایسا شخص معاشرے میں جائے گا تو وہ بہت سے گناہوں میں ملوث ہوسکتا ہے لہذا جسم کی پرورش کے ساتھ ساتھ روح کی تربیت بھی ایک ضروری امر ہے۔
5۔ماحول
بے شک گناہ کرنے کے اسباب میں سے ایک فاسد و ناپاک ماحول کا ہونا بھی ہے اور ہر جگہ کا ماحول کمیت و کیفیت میں الگ اثر رکھتا ہے مثال کے طور پر اسکول، کالج، یونیورسٹی، شہر ، گاؤں اور دفتر و کارخانے کا ماحول اور ان میں سے ہر ایک کی انسان کی زندگی پر اپنی الگ چھاپ  اور الگ اثر ہوتاہے لہذا جس جگہ وہ رہتا ہے کام کرتا یا پڑھتا ہے اس جگہ ماحول اگر اچھا ہے تو انسان نیکیاں کرے گا لیکن اگر ماحول فاسد ہے تو اس کا فساد میں ملوث ہوجانا بعید  نہیں ہوتا۔
6۔برے دوست
دوستی انسانی زندگی کا بنیادی مسئلہ ہے کہ جس پر انسان کی دنیا و آخرت اور اس کا مقدر ٹکا ہوتا ہے انسان کا نیک دوست جس طرح اسے باکردار بنانے میں مدد دیتا ہے ویسے ہی بد کردار ساتھی اسے گناہ کی دلدل میں دھکیلنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ اور دوست کی ہمنشینی کا اثر انسان پر اتنا گہرا ہوتا ہے کہ اگر انسان کے گھر کا ماحول بھی اچھا ہو اس کا پڑوس بھی اچھا ہو اور اس نے کبھی مال حرام بھی نہ کھایا تو تب بھی کسی غلط دوست کی ہمنشینی اسے صراط مستقیم سے منحرف کردیتی ہے اور اس کے برخلاف ایسا بھی دیکھنے کو ملا ہے کہ ایک انسان کا گھر ، خاندان اور معاشرہ کا ماحول تو اچھا نہ تھا لیکن ایک اچھے اور پاکیزہ سیرت دوست نے دلدل کے گھڑے میں گرتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لیا اور اسے نجات مل گئی۔
اب ظاہر ہے بہت سے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھائی فلاں شخص(دوست) اگر خراب ہے تو ہونے دیجئے آپ اس کی عادتیں مت اپنائیں کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ پھول ہمیشہ کانٹوں کے درمیان پیدا ہوتا ہے دونوں ازل سے ایک دوسرے کے ساتھی ہیں لیکن نہ پھول نے خوشبو دینا چھوڑی اور نہ کانٹوں نے اپنا مزاج بدلہ؟
قارئین یہ ایک شبہ ہے یہ بسا اوقات اچھے خاصے انسان کو گمراہ کردیتا ہے ۔آپ انسان کو پھول اور کانٹے سے تشبیہہ دیکر اپنی ذمہ داری سے سبکدوسش نہیں ہوسکتے۔ارے انسان اللہ کی ایک با ارادہ مخلوق ہے جسے اپنی تقدیر بنانے کا مکمل اختیار دیا گیا جبکہ پھول اور کانٹے کو فطری جبر کے تقاضوں کے  تحت اپنے کمال و رشد کا مرحلہ طئے کرنا ہوتا ہے۔آپ اچھے و برے دوست کا موازنہ پھول اور کانٹوں کی ہمنشینی سے نہیں کرسکتے بلکہ یہ ایک مسلم امر کہ جس طرح انسان اچھی صحبت و ہمنشینی میں سدھرتا ہے ویسے ہی بری ہمنشینی و صحبت میں بگڑ بھی جاتا ہے۔ اور اصولاً انسان کی استعداد اور قابلیت گہرے، عمیق و صادقانہ ماحول میں پروان چڑھتی ہے پس زندگی میں دوست کا ہونا ایک طرف اور برے دوست کی ہمنشینی سے پرہیز کرنا دوسری طرف انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ دوست بنانے کے اصول پر ایک مرتبہ ضرور غور کرلینا چاہیے اور کسی کو دوست بنانے سے پہلے ایک مرتبہ ضرور مطمئن ہوجانا چاہیئے کہ کہیں اس نے کسی نا اہل کو تو دوست نہیں بنایا ہے؟
7۔سیاسی و اجتمعاعی بصیرت کا فقدان
سیاسی و اجتماعی بصیرت کے نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے زمانہ کے افراد اور تقاضوں سے بے بہرہ ہو اور آنکھیں بندکرکے زندگی گذارنے میں لگا ہوا ہو لہذا ایسا سادہ لوح جلد ہی کسی مکار و  فریبکار دھوکہ میں آکر صراط مستقیم سے بھٹک سکتا ہے اور گناہوں کے گرداب میں پھنس سکتا ہے۔
8۔اندھی تقلید
تقلید یعنی کسی شخص یا گروہ کے نظریات و افکار کی اتباع و پیروی کرنا تقلید کہلاتا ہے۔ تقلید کبھی مثبت چیز ہوتی ہے اور کبھی منفی۔ مثبت تقلید یعنی آپ کسی پڑھے لکھے اور صاحب رائے اور عالم کی پیروی کیجئے تو یہ ایک ممدوح تقلید ہے اور شریعت نے اس کی اجازت دی ہے۔ اس کے برخلاف کسی کی بغیر علم و برہان کے اتباع و پیروی اندھی تقلید کہلاتی ہے جیسا کہ آج کل ہمارے جوان کچھ ایسے لوگوں کو اپنا آئیڈیل اور نمونہ مانتے ہیں جن کا اٹھنا بیٹھنا اور رہنا سہنا غرض زندگی کا کوئی بھی اصول اسلامی تعلیمات سے میل نہیں کھاتا بلکہ سارا کا سارا مغربی کلچر اور تہذیب کا چربہ ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جن لوگوں کی اپنی زندگی دین سے دور ہو تو وہ دوسروں کو اچھی زندگی نہیں دے سکتے۔ایسے لوگوں کی تقلید و اتباع سے بچنا چاہیئے تاکہ گناہ میں گرنے کا خوف نہ رہے۔
9۔غفلت
قرآن و روایات اہل بیت(ع) کے تناظر میں گناہ کی وادی میں گرنے کا ایک سبب غفلت بھی ہے۔ اور غفلت کوئی معمولی شئی نہیں بلکہ یہ دل کی بیماری ہے کہ جس کے سبب مزید بیماریاں انسان کی روح میں پیدا ہوجاتی ہیں۔
اور حقیقت میں وہ دل جو خدا سے دور ہو۔جو معاد کی حقیقت کو نہ سمجھے جس نے نور وحی سے استفادہ نہ کیا ہو ایسا دل قلب غافل کہلاتا ہے اور چونکہ دل تمام اعضاء و جوارح کا سردار ہوتا ہے تو  تمام برے اعمال اور گناہ اسی کی سربراہی میں انسان سے سرزد ہوتے ہیں۔
10۔ہوا و ہوس کی پیروی
انسان میں طرح طرح کے میلان، رغبتیں اور خواہشیں پائی جاتی ہیں اور یہی خواہشیں اور رغبیتں انسان کو متحرک رکھتی ہیں اور انہیں کے سبب انفرادی و اجتماعی سطح پر بڑے بڑے کام انجام پاتے ہیں ۔لیکن ان میں سے کچھ خواہشیں اور رغبتیں الہی ہوتی ہیں کہ جن کی بنیاد نیک کردار ہوتا ہے اور کچھ خواہشیں شیطانی ہوتی ہیں کہ جن کی بنیاد ہوا و ہوس ہوتی ہیں،لہذا شیطانی خواہشیات کو ہی دین کی زبان میں’’نفس امارہ‘‘ کہا جاتا ہے  اور جب بھی ہوا و ہوس کی بات آتی ہے تو اس سے یہی نفس مراد ہوتا ہے۔
ہوا و ہوس حقیقت میں غفلت کا تلخ پھل اور ثمرہ ہوتا ہے اور یہ ٹھیک بالکل خدا پرستی و توحید کے مد مقابل قرار پاتا ہے ۔یا دوسرے الفاظ میں ایسے سمجھ سکتے ہیں کہ ہوا و ہوس کی پیروی اور اتباع کرنا گویا شیطان اور نفس امارہ کی حکومت کو قبول کرنا ہے۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम