Code : 1309 81 Hit

روزہ داروں کو آیت اللہ العظمٰی مظاہری کی کچھ نصیحتیں

جو لوگ اس ماہ کی عظمت سے واقف ہیں وہ ابھی سے خوش ہیں کہ اب رمضان آگیا اور ہم روزہ رکھیں گے اور اس جذبہ کے ساتھ سحر کرنا اور افطار کے لئے بیٹھنا لذت بخش ہوتا ہے چاہے وہ سحر میں ایک لقمہ ہی کھائے چونکہ روزہ رکھنے کے لئے سحر کررہا ہے تو اس کی کچھ لذت الگ ہی ہے افطار میں چاہے اس کے دسترخوان پر نمک یا پانی ہی کیوں نہ ہو لیکن اس وقت اس کا یہ کہنا:’’ اللهم لک صمت و علی رزقک أفطرت و علیک توکلت‘‘۔ایسا ہے جیسے اسے ساری دنیا مل گئی ہو۔

ولایت پورٹل: حوزہ علمیہ اصفہان کے زعیم اور معلم اخلاق آیت اللہ العظمٰی مظاہری(دامت برکاتہ) نے اصفہان کی مسجد’’حکیم‘‘ میں روزہ داروں کو کچھ اہم  نصیحتیں کی ہیں جنکو ہم بطور خلاصہ اپنے قارئین کے لئے بھی پیش کرنے کی سعادت کررہے ہیں:
آیت اللہ مظاہری نے روزہ سے حاصل ہونے والے خصوع و خشوع کو بڑی نعمت شمار کرتے ہوئے کہا ہے کہ: روزہ انسان میں خضوع و خشوع کو پروان چڑھاتا ہے۔روزہ دار کی ہر سحر و افطار اور نماز شب کے لئے بستر چھوڑنا اور ماہ مبارک کی مخصوص دعاؤں کو پڑھنے سے اسے خوشی ملتی ہے اور یہ خوشی صرف اس وجہ سے نہیں ملتی کہ ہم نے اپنے اوپر فرض ایک عمل کو انجام دیدیا ہے۔اگرچہ یہ جذبہ بھی بہت محترم ہے۔لیکن لطف اس چیز میں ہے کہ جہاں انسان اللہ یعنی اپنے معشوق سے عشق کی حد تک خضوع کا اظہار کرے۔
اور یہ لطف اور خضوع کی لذت صرف روزے سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ ہر عبادت میں ایسا ہی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی شخص یہ سمجھ کر نماز پڑھ رہا ہے کہ اس کے سر سے ایک واجب اتر جائے گا۔ یہ ایک قابل قدر جذبہ ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص متقی ہو تو یہ اس سے بڑی چیز ہے۔اور اگر کوئی شخص اس جذبہ سے نماز پڑھے کہ یہ میرے رب سے ملاقات و گفتگو کے لمحات ہیں اور وہ اسی جذبہ سے اپنی نماز کو طول دے تو اسی منزل کا نام عشق ہے۔
جو لوگ اس ماہ کی عظمت سے واقف ہیں وہ ابھی سے خوش ہیں کہ اب رمضان آگیا اور ہم روزہ رکھیں گے اور اس جذبہ کے ساتھ سحر کرنا اور افطار کے لئے بیٹھنا لذت بخش ہوتا ہے چاہے وہ سحر میں ایک لقمہ ہی کھائے چونکہ روزہ رکھنے کے لئے سحر کررہا ہے تو اس کی کچھ لذت الگ ہی ہے افطار میں چاہے اس کے دسترخوان پر نمک یا پانی ہی کیوں نہ ہو لیکن اس وقت اس کا یہ کہنا:’’ اللهم لک صمت و علی رزقک أفطرت و علیک توکلت‘‘۔ایسا ہے جیسے اسے ساری دنیا مل گئی ہو۔
حضرت آیت اللہ العظمٰی مظاہری نے لذت عبادت کی ایک عملی نمونہ بیان کرتے ہوئے جناب ابراہیم و اسماعیل(ع) کے واقعہ کا ذکر کیا کہ: حضرت ابراہیم علیہ السلام کے یہاں صرف ایک بیٹا تھا اور وہ ایسا بیٹا جو بڑھاپے میں اللہ نے دیا تھا اور یہ بیٹا جب جوان ہوا تو اللہ نے خطاب کیا کہ میرا گھر بناؤ! اور گھر بنانے میں معمار کا کام تم اور مزدور کا کام تمہارا بیٹا کرے گا۔ جب گھر بن گیا تو کہا اب حج کرو! حج بھی ہوگیا تو حکم آیا ابراہیم ابھی تمہارا حج مکمل نہیں ہوا بیٹے کی قربانی بھی کرو چونکہ یہ اسماعیل تمہاری قربانی ہوگی۔جناب ابراہیم خوشی خوشی اپنے بیٹے کو منٰی تک بھی لے آئے اور چھری بھی چلا دی۔ نہ بیٹے نے مخالفت کی اور نہ ابراہیم دل برداشتہ ہوئے۔ نہ ہاجرہ کو برا لگا۔ چونکہ انہیں اللہ نے لذت عبادت سے آشنا کردیا تھا۔یہ ایک بڑی نعمت ہے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम