Code : 545 90 Hit

نبی(ص) کی بیٹی کو فدک سے کیوں محروم کردیا گیا؟

قارئین کرام! یہاں پر سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعاً و حقیقتاً انبیاء(ع) اپنے وارثوں کے لئے کوئی ورثہ نہیں چھوڑتے تو کیوں خود سرکار رسالتمآب(ص) نے حضرت فاطمہ(س) سے شریعت کے اس قانون اور انبیاء کی اس سیرت کا تذکرہ نہیں فرمایا، اور یہ بات ایک ایسے شخص سے کیوں بتائی جس کا نبی اکرم(ص) کی وراثت سے دور دور کا بھی کوئی واسطہ و مطلب نہیں تھا؟؟؟

ولایت پورٹل: قارئین کرام! جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ رسول خدا(ص) نے اپنی چہیتی بیٹی حضرت فاطمہ(س) کو اپنی ہی زندگی میں یہودیوں سے مصالحت کے نتیجے میں ملنے والے فدک نامی علاقہ اور اس کی در آمد کو ہبہ کردیا تھا اور ساتھ میں ایک نوشتہ بھی تحریر کردیا تھا کہ اب سے یہ فاطمہ(س) کی ملکیت ہے جس پر کسی کا کوئی حق نہیں لیکن ادھر رسول اللہ(ص) کی آنکھ بند ہوئی اور اس کے کچھ ہی دنوں میں وہ ملکیت نبی کونین(ص) کی بیٹی سے چھین لی گئی۔
یہ تاریخ کی وہ حقیقت ہے جس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا چنانچہ اس موضوع پر بہت سے علماء اہل سنت نے کتابیں تحریر کی ہیں اور یہ اقرار و اعتراف کیا ہے کہ خلیفہ اول نے شہزادی کونین سے فدک کو چھینا تھا۔(۱۔تاریخ المدینة المنورة با تحقیق فهیم محمد شلتوت، ج1، ص 199۔ ۲۔الصواعق المحرقة على أهل الرفض والضلال والزندقة، اسم المؤلف: أبو العباس أحمد بن محمد بن علي ابن حجر الهيثمي، دار النشر: مؤسسة الرسالة - لبنان - 1417هـ - 1997م، الطبعة: الأولى، تحقيق: عبد الرحمن بن عبد الله التركي - كامل محمد الخراط؛ ج1، ص 157۔۳۔المبسوط، اسم المؤلف: شمس الدين السرخسي، دار النشر: دار المعرفة - بيروت ج12، ص 29۔۴۔شرح معاني الآثار، اسم المؤلف: أحمد بن محمد بن سلامة بن عبدالملك بن سلمة أبو جعفر الطحاوي، دار النشر: دار الكتب العلمية - بيروت - 1399، الطبعة: الأولى، تحقيق: محمد زهري النجار؛ ج3، ص 308)
اب آئیے یہ مسئلہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اقتدار و مسند پر بیٹھے ہوئے افراد کو ایسی کون سی ضرورت آن پڑی تھی کہ انہوں نے  شہزادی کونین(س) کے پاس یہ ایک مختصر سی ملکیت بھی رہنے نہ دی؟
علماء نے اس سلسلہ میں کئی احتمال بیان کئے ہم ان میں کچھ کو ذیل میں رقم کررہے ہیں:
۱۔حضرت علی علیہ السلام اپنے ایک خط میں جناب عثمان بن حنیف کو تحریر کرتے ہیں:’’ بَلى کانَتْ فى أیْدِینا فَدَک مِنْ کُلِّ ما أَظلّته السَّماءُ، فَشَحَّت عَلَیْها نُفُوسُ قوم وَ سَخَت عَنْها نُفُوسُ قَوم آخَرینَ وَ نِعمَ الحَکَمُ اللّهُ‘‘۔اور ہاں! ان تمام چیزوں میں جن پر آسمان نے سایہ کیا ہوا ہے ہمارے اختیار میں صرف ایک فدک تھا ایک گروہ نے اس پر طمع کیا اور دوسرے گروہ نے اسے سخاوت مندانہ چھوڑ دیا اور اللہ بہترین حاکم و فیصلہ کرنے والا ہے۔( نهج البلاغہ، نامہ 45)
۲۔فدک کی درآمد اور ملکیت اہل بیت(ع) کی قدرت کے ستون کو مضبوط کرسکتی تھی اس طرح چونکہ اس کی رقم معاشرے کے فقراء پر خرچ کرکے ان کی حمایتوں کو  حاصل کیا جاسکتا تھا اور خلافتی مشینری کے خلاف قیام کیا جاسکتا تھا چونکہ ارباب اقتدار فدک کے امتیاز سے آگاہ تھے لہذا انہوں نے سب سے پہلے فدک کو خاندان رسول کے ہاتھوں سے لے لیا۔
۳۔نو خیز اور نو پا خلافت نے اپنے مالی سورسز بڑھانے کے لئے یہ ایک افسانہ گھڑا کہ رسول اللہ (ص) نے اپنی کوئی میراث نہیں چھوڑی لہذا اسے بہانہ بنا کر فدک کو چھین لیا گیا۔
اور ایسی حدیث کو اپنی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا کہ جو قرآن مجید کی صریحی آیات کے خلاف ہے چونکہ جو حدیث پیش کی گئی وہ یہ تھی:’’ نحن معاشر الانبیاء لا نورث ما ترکناه صدقة‘‘۔(ہم انبیاء(ع) کوئی وراثت نہیں چھوڑتے اور جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔
جبکہ یہ رسول اللہ(ص) پر سراسر بہتان تھا کہ آپ نے میراث نہیں چھوڑی اور نہ کسی نبی نے اپنی اولاد کے لئے وراثت چھوڑی ہے جبکہ قرآن مجید میں سابقہ انبیاء کی وراثت کے سلسلہ سے ارشاد ہوتا ہے:’’ وَ وَرِثَ سُلیمانُ داودَ‘‘۔اور سلیمان داؤد کے وارث ہوئے۔
یا ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:’’ فَهَبْ لِی مِنْ لَدُنْکَ وَلِیًّا یَرِثُنِی وَ یَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوبَ وَ اجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا‘‘۔پروردگارا! مجھے ایک پاکیزہ ولی و وارث عطا فرما تاکہ وہ میرا اور آل یعقوب کا وارث قرار پائے اور اسے اپنی مرضی کا حامل قرار دے۔
قارئین کرام! یہاں پر سب سے اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعاً و حقیقتاً انبیاء(ع) اپنے وارثوں کے لئے کوئی ورثہ نہیں چھوڑتے تو کیوں خود سرکار رسالتمآب(ص) نے حضرت فاطمہ(س) سے شریعت کے اس قانون اور انبیاء کی اس سیرت کا تذکرہ نہیں فرمایا، اور یہ بات ایک ایسے شخص سے کیوں بتائی جس کا نبی اکرم(ص) کی وراثت سے دور دور کا بھی کوئی واسطہ و مطلب نہیں تھا؟؟؟
اہل سنت کے مشہور عالم جناب ابن ابی الحدید معتزلی کہتے ہیں کہ ایک دن میں نے اپنے استاد علی فارقی سے سوال کیا: استاد یہ بتائیے کہ کیا فاطمہ(س) اپنے دعوائے فدک میں سچی تھیں؟
انہوں نے جواب دیا:ہاں! میں نے اگلا سوال کیا: کیوں خلیفہ اول نے ان کی ملکیت ان کے حوالے نہیں کی؟
تو میرے استاد نے ایک تبسم کیا اور کہا: اگر اس دن خلیفہ اول فاطمہ(س) کا دعوا سن کر فدک انہیں سونپ دیتے تو وہ اگلے دن اپنے شوہر کے لئے خلافت کا دعوا کردیتیں اور خلیفہ کو مسند سے نیچے اترنے پر مجبور کردیتیں اور چونکہ خلیفہ اول آپ(س) کو سچا مانتے تھے لہذا انہوں نے ان کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔( مناظرات فی العقائد و الاحکام، عبدالله حسن، نشر دلیل ما، قم، ایران، (1386ش، ص144)
شہید مطہری فدک کے سلسلہ سے فرماتے ہیں:
کہ مجھے یاد ہے کہ جب میں بچہ تھا کہ کچھ لوگوں کے لئے یہ مسئلہ ایک شبہ اور اعتراض بن چکا تھا کہ حضرت زہرا(س) تو وہ خاتون ہیں کہ خود بھوکی سو جاتی تھیں اور فاقوں پر فاقے کر لیتی تھیں لیکن ان کے در سے کوئی فقیر و مسکین بھوکا نہیں جاتا تھا تو کیا ضرورت تھی کہ  بی بی چند کھجور کے درختوں کے واسطے مسجد نبوی میں جاکر خطبہ پڑھیں ؟شہزادی کونین(س) کی شأن اس سے کہیں بلند و بالا تھی؟
اصل میں مسئلہ چند کھجور کے درختوں کا نہیں ہے بلکہ ایک غصب شدہ اور چھینے گئے مال کی واپسی کا مطالبہ کرنا ایک الگ مسئلہ ہے اور اسلام میں اس کی بہت اہمیت ہے اسے ایک بلند اسلامی و انسانی قدر(Value) سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بات اگر یہ ہو کہ وہ چند کھجور کے درخت مل جائیں تاکہ ہم اپنا پیٹ بھر لیں پھر تو آپ کا شبہ و اعتراض بجا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ وہ بی بی جس نے  فاقوں پہ فاقے رکھے اور کوئی سائل گھر سے حاجت روائی کئے بغیر واپس نہ بھیجا ہو تو اس سے یہ توقع تو نہیں کی جاسکتی۔
اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ کوئی اپنا سب کچھ دوسروں کو دیدے۔ اصلی مسئلہ یہ ہے کہ کوئی زور زبردستی آپ سے آپ کا مال چھین لے۔ اگر ہم یہاں پر اپنا مال واپس نے لیں یہ خلاف اقدار(Values) ہے۔ پس اپنے حق کی بازیابی کے لئے جانا کوئی عیب نہیں ہے بلکہ نہ جانا عیب ہے۔




0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम