Code : 1157 87 Hit

علی اکبر(ع) کی جوانی سے ملنے والا سبق

آج جناب علی اکبر علیہ السلام کی ولادت کا دن ہے ،اس دن ہم سب کو متوجہ رہنا چاہیے کہ جناب علی اکبر علیہ السلام نے کیوں اپنی جوانی کو دین پر قربان کر دیا ؟ جس علی اکبر علیہ السلام نے دین پر اپنی جوانی کو قربان کر دیا ہم اس دین کے لئے کیا کر رہے ہیں ، کیا ہم سب مل کر اگر اسی مقصد کی طرف گامزن ہوں جس پر جناب علی اکبر علیہ السلام چلے تھے تو دین کے دشمن کبھی اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ بھلا کیسے ممکن ہے کہ کسی قوم کے جوان بیدار ہوں اور اس قوم کو تاراج کر دیا جائے اس پر پژمردگی چھا جائے؟

ولایت پورٹل: 11شعبان جناب علی اکبر علیہ السلام کی ولادت کا دن ہے ،اس دن ہم سب کو متوجہ رہنا چاہیے کہ جناب علی اکبر علیہ السلام نے کیوں اپنی جوانی کو دین پر قربان کر دیا ؟ جس علی اکبر علیہ السلام نے دین پر اپنی جوانی کو قربان کر دیا ہم اس دین کے لئے کیا کر رہے ہیں ، کیا ہم سب مل کر اگر اسی مقصد کی طرف گامزن ہوں جس پر جناب علی اکبر علیہ السلام چلے تھے تو دین کے دشمن کبھی اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ بھلا  کیسے ممکن ہے کہ کسی قوم کے جوان بیدار ہوں اور اس قوم کو تاراج کر دیا جائے اس پر پژمردگی چھا جائے؟
علی اکبر علیہ السلام کی جوانی ہمیں پکار رہی ہے کہ عزم آہنی لیکر اٹھو اور دیکھو کہ دین کو کہاں کس چیز کی ضرورت ہے اپنی جوانیوں کو منحرف راستوں پر چل کر تباہ نہ کرو کہ اللہ نے یہ نعمت دی ہے، ایک جوان کا پورا وجود انرجی سے بھرا ہوتا ہے اب یہ اس کے اوپر ہے کہ  وہ اپنی طاقت اور انرجی کو کہاں صرف کرتا ہے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کچھ لوگ جوانوں کو بہکا دیتے ہیں اور جوان اپنی انرجی کو دین کی مخالفت میں صرف کرنے لگتے ہیں اور کبھی ایسا ہوتا کہ کوئی جوان تمام تر انحرافات سے خود کو بچا کر دین کے لئے محفوظ کرتا ہے اور دین کی راہ میں ترویج دین کے لئے اپنی توانائیوں کو صرف کرتا ہے  یقیناً ایسا جوان جو کہ دین کی راہ میں قدم بڑھاتا ہے جب دنیا میں ترقی کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہوگا او ر حصار دین میں خود کو محفوظ کر کے للہیت کے ساتھ اپنے مقصد کی طرف گامزن ہوتا ہوگا تو جناب علی اکبر علیہ السلام مسکرا کے دیکھتے ہوں گے کہ زندہ باد تونے میرے پیغام کی لاج رکھ لی۔ دنیا کے حصول کے لئے دین کو ترک نہیں کیا بلکہ حصار میں خود کو محفوظ کرتے ہوئے تونے دین ہی کی راہ میں اپنی توانائیوں کو خرچ کیا ، لیکن ایسا جوان جو منحرف ہے اسے نہ دین سے مطلب ہے نہ دینی اقدار سے یقیناً جناب علی اکبر علیہ السلام کے لئے باعث افسوس ہوگا کہ میرا ماننے والا ہے لیکن انحراف اتنا کہ اذان سے رغبت نہیں ، یہ کیسا میرا ماننے والا ہے جو کلبوں میں تو گھنٹوں گھنٹوں تک  رہتا ہے لیکن مسجد میں 20 منٹ ٹہرنا اسے بھاری پڑ جاتا ہے؟یہ کیسا جوان ہے جو نائٹ کلب میں نظر آتا ہے لیکن حسین(ع) کے نام پر سجنے والی مجلسوں میں نہیں دکھتا؟
اگر ہم جناب علی اکبر علیہ السلام سے محبت کرتے ہیں تو ہو نہیں سکتا کہ انکا راستہ کوئی اور ہو اور ہمارا راستہ دوسرا؟ وہ کسی اور راستے پر چلیں اور ہم کسی اور پر؟ یقیناً ان سے محبت ہے تو ہم اسی راستے پر چلیں گے جس پر وہ چلیں ، اگر علی اکبر علیہ السلام کو اذانوں سے پیار تھا تو ہم بھی اذانوں سے عشق کریں گے اگر جناب علی اکبر علیہ السلام کو نماز و ذکر خدا سے لگاؤ تھا تو ہم بھی اس کے شیفتہ ہوں گے  اگر جناب علی اکبر کو حق کی راہ میں رہتے ہوئے موت سے ڈر نہ تھا تو ہم بھی  ہرگز موت سے ڈرنے والے نہیں ہے جناب علی اکبر کا ہم و غم حق پر ہونا تھا تو ہمارا بھی ہم و غم یہی ہونا چاہیے کہ حق کہاں ہے؟ اور زندگی کی بات ہو یا موت کی بعد، ہمارے ذہن میں بس یہی ہونا چاہیے کہ ہم حق پر ہیں یا نہیں؟جیسا کہ جناب علی اکبر علیہ السلام نے کہا تھا کہ بابا کیا ہم حق پر نہیں ہیں اورپھر فرمایا اگر حق پر ہیں تو موت ہم پر آ پڑے یا ہم موت پر، ہمیں کوئی باک نہیں ہے۔(۔ اولسنا علی الحق ابصار العین فی انصار الحسین، مرحوم سماوی ص 21۔)
آج اگر ہمارا جوان حق اور حقانیت کا ساتھ دینے لگے تو معاشرہ کی کایا  ہی پلٹ جائے بعض مقامات پر مسائل اسی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں کہ جوان سوچ لیتے ہیں ہم سے کیا مطلب برزگ جانیں انکا کام جانے۔ لیکن ایسا نہیں ہے بالکل اگر بات حق ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ بزرگوں کو تجربہ ہے وہ اپنے حساب سے مختلف کاموں کو انجام دیں ہم انکا ساتھ دیں گے لیکن اگر کوئی غلط بات ہے تو ہمیں آگے بڑھ کر بولنے کی ضرورت ہے حق کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔
خاص کر موجودہ ملکی شرائط میں جب بعض جوان امید وار میدان میں ہیں اور انکے پاس منصوبہ بندی بھی ہے پوری حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترے ہیں تو ہم انکے پروگرامز کو دیکھیں اور اگر وہ حق پر ہیں تو انکی مدد کرنے کی کوشش کریں ، آج جب انتخابات کے دنگل میں ہر پارٹی جوانوں کو رجھا رہی ہے ہمارے جوان کا شعور اتنا گہرا ہونا چاہیے کہ ہم سمجھ سکیں کہاں پر محض کھوکھلے نعرے ہیں اور کہاں  پر نعروں کے ساتھ منصوبہ بندی بھی موجود ہے ۔انشاء اللہ جناب علی اکبر علیہ السلام کا روز ولادت ہم ایسے منائیں گے کہ  دوسری قوم کے لوگ بھی  اگر دیکھیں تو انہیں لگے کہ حق کے لئے لڑنے اور مر مٹنے کا جذبہ رکھنے والے جوان ایسے ہوتے ہیں جو کسی کی زندگی میں پریشانی کا سبب نہیں بلکہ وطن اور قوم کی ہمت کا انکے حوصلہ کا سبب بنتے ہیں۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम