Code : 514 12 Hit

خودپسندی سے بچنے کا علاج

امام علی علیہ السلام اس بیماری کو ’’ضد الصواب‘‘یعنی حق و حقیقت کا مخالف اور اس کی راہ میں ایک رکاوٹ سمجھتے ہیں۔کیونکہ یہ انسان کو غرور میں مبتلا کردیتی ہے ۔پھر اسے صرف اپنی خوبیاں نظر آتی ہیں ،دوسروں کے یہاں بس نقائص ہی دکھائی دیتے ہیں اور اپنے نقائص و عیوب سے وہ آنکھیں بند کرلیتا ہے۔بلکہ وہ جو بھی کہتا ہے،جو بھی کرتا ہے اسے ہی صحیح سمجھتا ہے اور دوسروں کو کچھ نہیں سمجھتا۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! مولائے متقیان حضرت علی علیہ السلام خود پسندی سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:’’ أَنَّ اَلْإِعْجَابَ ضِدُّ اَلصَّوَابِ وَ آفَةُ اَلْأَلْبَابِ‘‘۔
خودپسندی راہ صواب کے خلاف اور عقلوں کی بیماری ہے۔عُجب اور خود پسندی ہر انسان کے وجود کے اندر پائی جاتی ہے جو کہ ایک اخلاقی بیماری ہے جو انسان کو  صحیح راستے سے دور کرتی ہے ۔خودپسندی شیطان کے لئے ایک بہت بڑا ہتھیار ہے اس لئے اسے کنٹرول کرنا بہت ضروری ہے۔جب انسان کوئی نیک کام کرتا ہے یا کوئی اچھی  عادت اس کے اندر آجاتی ہے تو شیطان اس کے دل میں  وسوسہ ڈالتا ہے کہ تم ایک عظیم اور ممتاز انسان ہو۔مثلاً ایک انسان اگر عبادت گزار ہے تو شیطان اسے وسوسہ کرتا ہے کہ گنہگاروں کے ساتھ اور ان افراد کے ساتھ جو عبادت انجام نہیں دیتے اپنا موازنہ کرو اور دیکھو کہ تم کتنے نیک ہو اور دوسرے کتنے بدبخت اور گنہگار ہیں اور یقیناً تم ان سے ممتاز ہو۔پھر اس سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے اور دوسرے نیک افراد کے ساتھ موازنہ کرواتا ہے کہ ان کی عبادت اور نیک کاموں میں نقص پایا جاتا ہے لیکن تمہاری عبادت اور کاموں میں کوئی کمی نہیں ہے ۔اسی طرح دوسرے کاموں جیسے حصول  علم،تبلیغ دین ،خدمت خلق وغیرہ میں بھی اسی طرح  کے وسوسوں سے  انسان کا دل بھر دیتا ہے اور انسان خود پسندی میں مبتلاہوجاتا ہے اور پھر  دوسروں کو اپنے سامنے حقیر سمجھنے لگتا ہے۔
شیطانی وسوسوں کے مقابلے  میں انسان کا ردعمل دو قسم کا ہوتا ہے:کچھ  لوگ  ایسے وسوسوں کا مقابلہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے جو بھی کیا ہے وہ خدا کی توفیق سے ہواہے ،اگر اس کی توفیق شامل حال نہ ہوتی تو  ہم یہ سب نیکیاں نہیں کرسکتے تھے،اس لئے وہ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں اور مزید نیک اعمال کی توفیق طلب کرتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ بلکہ شاید اکثریت ایسے لوگوں کی ہو کہ  جب وہ اپنے اندر کوئی خوبی دیکھتے ہیں تو پھولے نہیں سماتے،اور ہر جگہ دوسروں پر فخر جتاتے پھرتے  ہیں لہذا وہ اس طرح خود کو دوسروں سے ممتاز سمجھتے ہیں۔
خودپسندی، حق و حقیقت کی مخالف
امام علی علیہ السلام اس بیماری کو ’’ضد الصواب‘‘یعنی حق و حقیقت کا مخالف اور اس کی راہ میں ایک رکاوٹ سمجھتے ہیں۔کیونکہ یہ انسان کو غرور میں مبتلا کردیتی ہے ۔پھر اسے صرف اپنی خوبیاں نظر آتی ہیں ،دوسروں کے یہاں  بس نقائص ہی دکھائی دیتے ہیں  اور اپنے نقائص و عیوب سے وہ آنکھیں  بند کرلیتا ہے۔بلکہ وہ جو بھی کہتا ہے،جو بھی کرتا ہے اسے  ہی صحیح سمجھتا ہے اور دوسروں کو کچھ نہیں سمجھتا۔
خود پسندی عقل کی آفت
اسی طرح امام علی علیہ السلام اسے ’’آفۃ العقل‘‘قرار دیتے ہیں۔عقلمند انسان کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی خوبیوں کو بڑا نہیں سمجھتا  اور ہمیشہ  نقائص کی طرف توجہ رکھتا ہے لیکن جو خود پسندی کا شکار ہوجائے اس کی عقل پر پردہ پڑجاتا ہے،وہ اپنے عیوب کو بھی کمال سمجھتا ہے ۔علامہ جواد مغنیہ(رح)  کے بقول عجب و خودپسندی شراب کی طرح ہے جو انسان کو مست کردیتی ہے،اور مست انسان دیوانوں کی طرح ہوتا ہے۔
آیات و روایات میں اس آفت سے روکا گیا ہے اوراس کے خطرات سے آگاہ کیا گیا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے:’’أَفَمَنْ زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَآهُ حَسَنًا فَإِنَّ اللَّهَ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ‘‘۔(سورہ فاطر:۸)کیا وہ شخص جس کے لئے اس کے برے عمل کو مزین کرکے پیش کیا گیا ہے اور وہ اسے بہت اچھا سمجھتا ہے،کیا حقیقت میں ایسا ہی ہے جیسا کہ اسے نظر آرہا ہے،خدا جسے چاہے(اس کے ارادوں  کی بنیاد پر )گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہے(اس کے ارادوں  کی بنیاد پر ) ہدایت دیتا ہے ۔ نہج البلاغہ میں امیر المومنین علیہ السلام نے خودپسندی کے بارے میں بہت سی تعبیرات استعمال کی ہیں،جیسے:’’اَلعُجبُ آفَة الشَّرَفِ‘‘۔خود پسندی شرف و عزت کے لئے آفت ہے’’آفَة اللُّبِّ العُجبُ‘‘۔عقل کی بیماری خودپسندی ہے۔’’العُجبُ یُفسِدُ العَقلَ‘‘۔ خود پسندی عقل کو زائل کردیتی ہے۔’’ثَمرة العُجبِ البَغضَاءُ‘‘۔ خود پسندی کا نتیجہ یہ ہے کہ لوگ انسان کے دشمن ہوجاتے ہیں ’’ العُجبُ رَاسُ الحِمَاقة‘‘۔خودپسندی حماقت کا سر ہے۔
خودپسندی کا علاج
علمائے اخلاق کی نظر میں خود پسندی اور اس کے نتیجہ میں غرور سے بچنے کا علاج یہ ہے کہ انسان اپنے عیوب و نقائص کی طرف توجہ رکھے۔مور جب اپنے حُسن کو ،رنگوں کو،خوبصورت بناوٹ کو دیکھتا ہے تو پھولے نہیں سماتا اور خوشی سے ناچنے لگتا ہے لیکن جب اس کی نگاہ اپنے کے پیروں پر پڑتی ہے تو اس کا غرور چکنا چور ہوجاتا ہے۔ہر انسان کے اندر جہاں خوبیاں اور کمالات ہوتے ہیں وہیں نقائص و عیوب بھی ہوتے ہیں اس لئے خودپسندی سے محفوظ رہنے کے لئے انسان کو ہمیشہ اپنے عیوب پر نظر رکھنا چاہیے۔امام علی علیہ السلام نہج البلاغہ میں اس نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’مَا لِابْنِ آدَمَ وَ الْفَخْرِ أَوَّلُهُ نُطْفَةٌ وَ آخِرُهُ جِيفَةٌ لَا يَرْزُقُ نَفْسَهُ وَ لَا يَدْفَعُ حَتْفَهُ‘‘۔ انسان کو آخر کس بات  پرفخر  ہوتاہے کہ اس کی ابتداءایک قطرہ نجس اور انجام  ایک نجس مردار کی شکل میں  ہوتا ہے،نہ رزق اس کے ہاتھ ہے اور نہ موت کو روکنا اس کے اختیار میں۔
 

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम