Code : 432 3 Hit

جو کسی سامراجی غنڈے کو باج نہ دے اسے ایران کہتے ہیں:فہوی حسین معروف مصری نامہ نگار

لیکن جب کسی شیعہ ملک کا رہبر کسی بھی بڑے سے بڑے سامراجی غنڈے کو باج نہ دے۔ ان سب اقتصادی ،سیاسی مشکلات،8 برس کی تھونپی ہوئی جنگ اور پھر 30 برس کی پئے در پئے پابندیوں کے ہوتے ہوئے بھی اگر وہ دشمن کو سانس لینے کا موقع نہ دے تو وہ ملک ایران کہلاتا ہے۔

ولایت پورٹل: مصر کے ایک معروف نامہ نگار کہ جو عرب قوم پرستی میں اپنی مثال آپ ہیں اور جو اتفاقاً فکری و نظریاتی طور پر ایران کی اسلامی حکومت پر تنقید کرنے والوں میں سے ایک ہیں وہ مصر اور اسلامی ایران کا موازنہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ہم اور ایرانی قوم تقریباً 30 برس پہلے بین الاقوامی سطح پر ایک دوسرے کے مساوی تھے لیکن ایرانی قوم نے سامراجی طاقتوں کے مقابل مقاوت کا راستہ اختیار کیا اور خاص طور پر امریکہ کے سامنے ڈٹے رہے لیکن ہم نے اپنا راستہ بدل کر ان سے سازباز کرنے کو ترجیح دی۔
ہم عربوں کے ساتھ اس خیانت کے عوض ہر سال امریکہ سے 4 ارب ڈالر بلا عوض امداد لینے لگے جبکہ ایرانی قوم نے سانٹھ گانٹھ نہ کرنے کے جرم میں امریکہ و سامراجی طاقتوں کی طرف سے ایک طرفہ سیاسی و اقتصادی پابندیوں کے ساتھ ساتھ اندرون و بیرون ملک کئی بڑی جنگیں لڑیں۔
اس مقاومت کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج ایران ایک علاقائی طاقت سے بڑھ کر ایک عالمی طاقت میں تبدیل ہوچکا ہے اس طرح کہ خطہ اور دنیا کی کوئی مشکل ایران کی رائے کے بغیر حل نہیں ہوسکتی۔
اور مزے کی بات یہ ہے کہ امریکہ پر ایران کا خوف اس حد تک طاری ہے کہ انتخابات لڑنے والا امریکہ کا ہر صدارتی امیدوار تقریباً اپنے ٹی وی لائیوں شو کے دوران تقریباً 65 سے 70 مرتبہ ایران کا نام لیتا ہے گویا پوری دنیا میں امریکہ کا اگر کوئی حریف ہے تو وہ ایران ہے۔
اور دوسری اور اہم بات یہ کہ ایرانی قوم  تمام حیاتی علوم،جیسا کہ ایٹم،فضائیہ،نانو تمثیل اور میڈیکل وغیرہ کے شعبوں میں دنیا کے 10 بڑےممالک میں سے ایک بن چکا ہے۔ اور میزائیل کی صنعت میں دنیا کے 4اہم اور طاقتورممالک کے فہرست میں آتا ہے اور اگر میزائیل میں دقت النظری اور سرعت کو دیکھا جائے تو شاید دنیا کا سب سے برتر ملک ہو۔
ایران آج خطہ میں امن و ثبات کا جزیرہ ہے اور جبکہ ہمارے سر پر امریکہ کا ہاتھ ہے ہم اپنے بہت سے اہل وطن کو ایک وقت کی روٹی دینے سے بھی معذور ہیں!!!!؟؟؟
نتیجہ یہ کہ جب کسی مملکت میں شائستہ اور لائق رہبر و قائد نہ ہو تو اس کا انجام مصر جیسا ہوتا ہے!
اگر کسی ملک میں اتحاد و یکجہتی نہ ہو تو وہ عراق کی طرح بن جاتا ہے۔
جب کسی ملک میں لائق سپہ سالار نہ ہو وہ پاکستان بن جاتا ہے۔
اور جب کسی ملک کا قائد و رہبر بظاہر تو مسلمان ہو لیکن مغرب کے ہاتھوں کا کھیلونہ ہو تو وہ ترکیہ بنتا ہے۔
لیکن جب کسی شیعہ ملک کا رہبر کسی بھی بڑے سے بڑے سامراجی غنڈے کو باج نہ دے۔ ان سب اقتصادی ،سیاسی مشکلات،8 برس کی تھونپی ہوئی جنگ اور پھر 30 برس کی پئے در پئے پابندیوں کے ہوتے ہوئے بھی اگر وہ دشمن کو سانس لینے کا موقع نہ دے تو وہ ملک ایران کہلاتا ہے۔
ایک ایسا ملک جس کے چاروں طرف پورے خطہ میں جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں اور زخمی بھیڑئے ان کی سرحدوں کے پیچھے بے قرار بیٹھے ہیں لیکن  کسی کی یہ مجال نہیں کہ ان کی سرزمین کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھے اور وہ تو کیا ان کی مکھیاں بھی ان کی سرحدوں سے پرواز کرسکتیں۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम