Code : 1141 38 Hit

امام سجاد(ع) کا مرتبہ علمائے اہل سنت کی زبانی

شمس الدین ذہبی(متوفی ۷۴۸) کہتے ہیں:’’ آپ(امام سجاد(ع) کو ’’ابن الخیرتین‘‘ بھی کہا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا: اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں کے درمیان سے دو گرہوں کو منتخب کیا ہے۔عرب کے درمیان سے قریش کو اور عجم سے فارس کو،اور چونکہ امام سجاد علیہ السلام کے والد گرامی قرشی اور والدہ ماجدہ فارس سے تھیں لہذا آپ کو دو خیر کا بیٹا کہا جاتا ہے۔اور ذو الثفنات آپ کا دوسرا لقب ہے چونکہ کثرت عبادت اور سجود کے سبب آپ کے اعضائے سجدہ پر گھٹے پڑ گئے تھے جس کے سبب آپ کو روئی باندھ کر نماز پڑھنا پڑتی تھی۔

ولایت پورٹل: امام معصوم کی عمیق شناخت و معرفت ایک حقیقی شیعہ کے فرائض میں سے ہے اور اس چیز کے لئے مخالفین کی طرف بھی مراجعہ کرنا چاہیئے تاکہ اس امام کی عظمت کو بہتر طور پر درک کیا جاسکے۔چنانچہ اگر اہل سنت والجماعت کی معتبر کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوگا کہ ان لوگوں نے امام سجاد(ع) کی تعریف و تمجید میں کیا کہا ہے چنانچہ ہم اس مقالہ میں کچھ اہل سنت کے بزرگ علماء کے اقوال نقل کرنے پر اکتفاء کررہے ہیں:
امام سجاد علیہ السلام سن ۳۸ ہجری میں مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے اور ولید بن عبدالملک کے دور خلافت میں شہادت کے درجہ پر فائز ہوئے اور آپ کو جنت البقیع میں آپ کے چچا امام حسن(ع) کے پہلو میں دفن کردیا گیا۔چنانچہ جس برس آپ کی شہادت ہوئی اس سال کو تاریخ میں’’سَنَةُ الفقهاء‘‘ کہا گیا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ اس سال مدینہ کے بہت سے نامور فقہاء کا انتقال ہوا۔
امام سجاد(ع) کے علم اور حدیثی مقام کو اس چیز سے سمجھا جاسکتا ہے کہ کہ اہل سنت کی صحاح ستہ(صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع الصحیح ترمذی، سنن ابو داود، سنن نسائی، سنن ابن ماجه) اور مسانید نے آپ سے حدیث نقل کی ہیں۔بخاری نے اپنی کتاب کے ابواب تہجد،نماز جمعہ،حج اور کچھ دیگر تاریخی ابواب نیز مسلم نے اپنی کتاب میں کتاب صوم، حج و فرائض، فتن ،ادب اور دیگر تاریخی مسائل میں حدیثیں نقل کی ہیں۔
۱۔ابن شہاب زہری۔امام سجاد(ع) کا ایک شاگرد تھا۔اس نے امام سجاد(ع)کو بہت سی جگہ پر خیر سے آپ کا تذکرہ کیا ہے جیسا کہ’’ لم اُدرِک من اهل البیت افضل من علیّ بن الحسین‘‘۔( میں نے  اہل بیت(ع) کے درمیان علی ابن الحسین(ع) سے افضل کسی کو نہیں پایا)یا ’’ ما رأیت قرشیّاً افضل من علیّ بن الحسین‘‘۔(میں نے کسی قرشی کو علی ابن الحسین(ع) سے زیادہ افضل و مکرم نہیں دیکھا)،’’ کان اکثر مجالستی مع علیّ بن الحسین و ما رأیت احداً کان افقه منه‘‘۔(میں نے علی ابن الحسین(ع) کی بہت ہم نشینی کی ہے اور میں نے کسی کو ان سے بڑا فقیہ نہیں پایا)،’’ما رأیت هاشمیّاً اعبد منه‘‘۔(میں نے ان سے بڑا عابد کسی ہاشمی کو نہیں پایا)،’’ علیّ بن الحسین اعظم الناس علیّ منّةً‘‘۔(علی ابن الحسین(ع) میرے سب سے بڑے محسن ہیں)
۲۔ زید ابن اسلم(متوفی ۱۳۶):’’ما رأیت فیهم مثل علیّ بن الحسین‘‘۔میں نے اہل مدینہ کے درمیان علی ابن الحسین جیسا کسی کو نہیں پایا۔
۳۔مالک بن انس(متوفی ۱۷۹):’’ لم یکن فی اهل بیت رسول اللّه مثله‘‘۔اہل بیت رسول(ص) میں علی ابن الحسین جیسا کوئی نہیں تھا۔
۴۔محمد بن عمر واقدی(متوفی ۲۰۷):’’کان من اورع النّاس و اعبدهم و اتقاهم للّه عزّوجلّ‘‘۔علی بن الحسین(ع) سب سے بڑے پرہیزگار،سب سے بڑے عابد اور سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والے تھے۔
۵۔شمس الدین ذہبی(متوفی ۷۴۸) کہتے ہیں:’’ آپ(امام سجاد(ع) کو ’’ابن الخیرتین‘‘ بھی کہا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا: اللہ تعالٰی نے اپنے بندوں کے درمیان سے دو گرہوں کو منتخب کیا ہے۔عرب کے درمیان سے قریش کو اور عجم سے فارس کو،اور چونکہ امام سجاد علیہ السلام کے والد گرامی قرشی اور والدہ ماجدہ فارس سے تھیں لہذا آپ کو دو خیر کا بیٹا کہا جاتا ہے۔اور ذو الثفنات آپ کا دوسرا لقب ہے چونکہ کثرت عبادت اور سجود کے سبب آپ کے اعضائے سجدہ پر گھٹے پڑ گئے تھے جس کے سبب آپ کو روئی باندھ کر نماز پڑھنا پڑتی تھی۔
قارئین کرام! ہم نے علماء اہل سنت میں سے صرف چند لوگوں کے اقوال کو بیان کیا ہے ورنہ اگر تاریخ کی ورق گردانی کی جائے تو ایک ضخیم کتاب تحریر کی جاسکتی ہے۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम