Code : 1174 74 Hit

اصلی دہشتگرد کون؟دنیا پر امریکی مظالم کی مختصر روداد

اگر تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوجائے گا کہ خود امریکہ کی ۲۴۲ سالہ تاریخ دوسرے ممالک و اقوام پر یلغار،ظلم بربریت اور قتل و غارت گری سے عبارت ہے۔۲۴۲ سالہ امریکی تاریخ میں صرف ۱۶ برس ہی ایسے گذرے ہیں جن میں اس ملک کی جانب سے کسی قوم پر یلغار نہیں کی گئی اور نہ ہی ان برسوں میں اس کے ہاتھوں کوئی ملک تباہ ہوا۔ چنانچہ امریکہ کی جانب سے کسی ملک میں دہشت پھیلانے کا آغاز سن ۱۹۰۱ سے ہوتا ہے۔

ولایت پورٹل: اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح فوج سپاہ پاسداران کو امریکہ کی طرف سے دہشتگردوں کی فہرست میں قرار دیا جانا اور اس سے پہلے خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعہ  ایرانی قوم کو دہشتگرد کہا جانا یہ وہ اسباب ہیں کہ جو ایک محقق کو اس چیز پر وادار کرتے ہیں کہ ذرا تاریخ کے اوراق کو الٹ کر دیکھا جائے اور یہ دریافت کرنے کی کوشش کی جائے کہ اصلی دہشت گرد کون ہے؟
اگر تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوجائے گا کہ خود امریکہ کی ۲۴۲ سالہ تاریخ دوسرے ممالک و اقوام  پر یلغار،ظلم بربریت اور قتل و غارت گری سے عبارت ہے۔
۲۴۲ سالہ  امریکی تاریخ میں صرف ۱۶ برس ہی ایسے گذرے ہیں جن میں اس ملک کی جانب سے کسی قوم پر یلغار نہیں کی گئی اور نہ ہی ان برسوں میں اس کے ہاتھوں کوئی ملک تباہ ہوا۔ چنانچہ امریکہ کی جانب سے کسی ملک میں دہشت پھیلانے کا آغاز سن ۱۹۰۱ سے ہوتا ہے۔
چنانچہ امریکہ نے کولمبیا پر ۱۹۰۱ اور ۱۹۰۲ میں  پاناما اور ہنڈرس میں مداخلت کی اور ان کے انقلاب کو کچلنے کا واقعہ ۱۹۰۵ میں انجام دیا۔
امریکہ کے کالے کارنامے اور بشریت پر اس کی جنایات اور ظلم و تعدی کی داستان کو اس مختصر سی رپورٹ میں بیان نہیں کیا جاسکتا بس ہم اس رپورٹ میں امریکی دہشتگردی کی تاریخ کو فہرست وار بیان کرنے پر اکتفا کررہے ہیں:
ہیروشیما اور ناگاساکی پر بمباری:
دوسری جنگ عظیم تقریباً ختم ہوچکی تھی کہ امریکہ نے جاپان کے دو مشہور شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم کی برسات کردی اور وہ بھی زیادہ فاصلہ سے نہیں بلکہ صرف ۳ دن کے اندر روئے زمین پر وہ ظلم ہوا جس میں ۲۲۰ جاپانی شہری ہلاک ہوئے اور امریکی جنایت کے آثار اتنا عرصہ گذرنے کے بعد بھی آج وہاں پیدا ہونے والے بچوں میں دیکھے جاسکتے ہیں۔  
ویتنام کی جنگ:
یہ جنگ ۱ نومبر سن ۱۹۵۵ سے شروع ہوکر ۳۰ اپریل ۱۹۷۵ تک جاری رہی جس میں امریکہ نے جنوبی ویتنام کو کمیونسٹ حکومت کے تحت لانے کے لئے اس سرزمین پر خون کی ہولی کھیلی اور بڑی مقدار میں کیماوی ہتھیاروں کا استعمال کیا آخر کار  اس جنگ کے طولانی ہونے کے سبب امریکی فوج ایک وبائی مرض میں مبتلا ہوگئی جس کے سبب یہ جنگ بند کرنا پڑی۔اور امریکہ نے کچھ بہانے تلاش کرکے وہاں سے فرار کا راستہ اختیار کیا۔
یہ جنگ بیسویں صدی کی سب سے طولانی جنگ کے نام سے جانی جاتی ہے کہ جس کا آغاز امریکہ نے کیا یہ  ایک ایسی ہولناک جنگ تھی جس میں ۳۰ لاکھ لوگ ہلاک ہوئے اور ساتھ ہی وہتنام کی ساری فصیلیں اور جنگل تباہ ہوگئے۔
اس وقت کے امریکی وزیر دفاع میکن مارا نے اس جنگ کے بعد خود یہ اعتراف کیا تھا کہ: اس جنگ کا سب سے سخت مرحلہ ہمارے لئے وہ تھا کہ جب ہمیں اس ملک سے نکلنا پڑا جس پر ہم نے چڑھائی کی تھی اور وہ بھی اس وقت جب ہم نے اس ملک پر حملہ کرنے کے لئے کچھ جھوٹے بہانے گھڑے تھے۔
باضابطہ طور پر ایران کے خلاف امریکہ کا پہلا آپریشن:
ایہ واقعہ ۴ اپریل سن ۱۹۸۰ کا ہے کہ جب ایران کے دارالحکومت تہران میں یونیورسٹی کے کچھ انقلابی طالب علموں نے امریکی سفارتخانہ سے جاسوسی کی تمام دستاویز حاصل کرکے امریکی سفارتخانے میں تالہ ڈال دیا تو  امریکی فضائیہ کے طیارے ایران کے اسلامی انقلاب کو ختم کرنے کی غرض سے صحرائے طبس میں داخل ہوئے لیکن اسے قسمت کہیئے یا خدائی تدبیر کہ صحرا میں ریت کا ایسا طوفان اٹھا کہ امریکیوں کی ساری آرزؤئیں ریت میں مل گئیں اور انہیں فرار کرنے میں ہی بھلائی نظر آئی۔
ایران کے مسافر بردار طیارے کو مار گرانا:
۳جولائی ۱۹۸۸ میں ایران کا ایک مسافر بردار طیارہ تہران سے اڑا جسے خلیج فارس میں  امریکی بیڑے سے دو میزائیل کے ذریعہ نشانہ بنایا گیا جس میں عورت بچے اور بوڑھوں سمیت ۲۹۰ لوگ جاں بحق ہوئے۔
افغانستان پر حملہ:
۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ میں امریکی ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کو بہانا بنا کر امریکہ القاعدہ سے انتقام لینے کے لئے افغانستان پر حملہ آور ہوا جس میں اب تک  لاکھوں افغانی ہلاک اور بے گھر ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔
امریکی جنایات اجمالی کی فہرست:
۱۹۰۱۔۔۔۔ امریکی فوج کا ڈائریکٹ کولمبیا میں داخل ہونا۔
۱۹۰۲۔۔۔ پناما پر حملہ
۱۹۰۴۔۔۔مغرب و کوریا پر چڑھائی
۱۹۰۵۔۔۔ہنڈورس کے تازہ انقلاب کو کچلنا
۱۹۰۵۔۔۔ میکسیکو کے ڈکٹیٹر کی حمایت میں عوامی انقلاب کو کچلنا۔
۱۹۰۷۔۔۔ نکاراگوا پر حملہ
۱۹۰۷۔۔۔ ڈومینیکن میں مداخلت
۱۹۰۷۔۔۔۔نڈورس اور نکاراگوا کی جنگ کے درمیان شرکت
۱۹۰۸۔۔۔ پناما کے انتخابات میں مداخلت
۱۹۱۰۔۔۔نکاراگوا میں بغاوت کو کچلنا
۱۹۱۱۔۔۔ہنڈرس  میں ریاست کے منتخب صدر کے خلاف  مانوئل ہونیلا کی بغاوت کی حمایت
۱۹۱۱۔۔۔ فلپیین میں امریکی مخالف قیام کو سرکوب کرنا۔
۱۹۱۱۔۔۔۔چین میں مداخلت
۱۹۱۲۔۔۔۔کیوبا پر حملہ اور قبضہ
۱۹۱۲۔۔۔۔ پناما پر حملہ
۱۹۱۲۔۔۔۔ ہنڈورس پر حملہ۔
۱۹۱۲ سے ۱۹۳۳ تک نکارگوا پر قبضہ۔اس مدت میں یہ ملک امریکی جنایات و ظلم کو مرکز بن چکا تھا
۱۹۱۴ سے ۱۹۳۴ تک ہیٹی ۔ اس ملک میں مسلسل حکومت مخالف کئی تحریکوں کے بعد امریکہ داخل ہوا اور مکمل ۱۹ برس تک یہ ملک پر امریکہ کا قبضہ نافذ تھا۔
۱۹۱۶ سے ۱۹۲۴ تک جمہوریہ ڈومینیکن پر ۸ برس تک امریکہ کا قبضہ۔
۱۹۱۷ سے ۱۹۳۳ تک کیوبا پر قبضہ۔
۱۹۱۷ سے ۱۹۱۸ تک پہلی جنگ عظیم میں امریکہ کی بھرپور شرکت۔
۱۹۱۸سے ۱۹۲۲ تک روس میں مداخلت
۱۹۱۸ سے ۱۹۲۰ تک پناما میں امریکی فوجیوں کی درندگی۔
۱۹۱۹۔۔۔۔ کوسٹا ریکا پر فوجی چڑھائی۔
۱۹۱۹۔۔۔۔۔ ہنڈرس پر حملہ۔
۱۹۲۰۔۔۔ گواتیمالا پر حملہ
۱۹۲۱۔۔۔۔ کارلوس گروو کے خلاف مسلح باغیوں کی حمایت
۱۹۲۲۔۔۔ترکی میں مداخلت
۱۹۲۲سے ۱۹۲۷ تک چین میں فوجی مداخلت
۱۹۲۴ سے ۱۹۲۵ تک ہنڈرس پر چڑھائی۔
۱۹۲۵۔۔۔۔ پناما پر ایک بار پھر یلغار
۱۹۲۶۔۔۔ نکاراگوا پر حملہ۔
۱۹۲۷سے ۱۹۳۴ تک چین پر امریکہ کا مکمل قبضہ
۱۹۳۲۔۔۔ ایل سلواڈور پر حملہ
۱۹۳۷۔۔۔ نکاراگوا پر حملہ
۱۹۴۵۔۔۔ ہیروشیما اور ناگاساکی پر بمباری
۱۹۴۷سے ۱۹۴۹ تک یونان پر حملہ
۱۹۴۸ سے ۱۹۵۳ تک فلپین پر حملہ
۱۹۵۰۔۔۔۔پورٹریکوخ پر حملہ
۱۹۵۰ سے ۱۹۵۳ تک کوریا پر حملہ
۱۹۵۸۔۔۔ لبنان پر حملہ
۱۹۵۸۔۔۔ پاناما پر حملہ
۱۹۵۹۔۔۔لاوس میں امریکی فوج کا داخلہ
۱۹۵۹۔۔۔۔ ہیٹی پر حملہ
۱۹۶۰۔۔۔ ایکواڈور پر امریکی فوج کی چڑھائی
۱۹۶۰۔۔۔۔ پاناما پر حملہ
۱۹۶۵سے ۱۹۷۳ تک ویتنام میں خون کی ہولی۔
۱۹۶۶۔۔۔ گواتمالا پر حملہ
۱۹۶۶۔۔۔فلپین کے مقابل انڈونیشیا کی فوجی امداد
۱۹۷۱ سے ۱۹۷۳ تک لاوس پر آن بہ آن بمباری
۱۹۷۳۔۔۔۔ نکاراگوا پر حملہ
۱۹۸۰۔۔۔۔۔ایران کے خلاف طبس میں فوجی آپریشن
۱۹۸۳۔۔۔۔گریناڈا میں فوجی مداخلت
۱۹۸۶۔۔۔۔لیبیا پر حملہ اور بمباری
۱۹۸۸۔۔۔ہنڈرس پر حملہ
۱۹۸۸۔۔۔ ایران کے ایک مسافر بردار طیارے کو مارگرانا
۱۹۸۹۔۔۔الجزائر و ویرجین میں تحریکوں کو کچلنا
۱۹۹۱۔۔۔عراق میں وسیع پیمانہ پر فوجیں اتارنا اور خلیج فارس کی پہلی جنگ کے شعلے بھڑکانا
۱۹۹۲ سے ۱۹۹۴ تک صومالی پر قبضہ اور اس ملک کے باشندوں کے ساتھ ظلم و بربریت کرنا
۱۹۹۸۔۔۔سوڈان پر حملہ
۱۹۹۹۔۔۔۔ امریکہ کی سرکردگیمیں ناٹو فوج نے یوگسلاویا پر جنگ مسلط کی اور ۷۶ دن اس ملک پر بمباری کی گئی جس کے نتیجہ میں یہ ملک تباہ ہوگیا۔
۲۰۰۱۔۔۔۔ دہشتگردوں کے تعاقب کو بہانا بنا کر افغانستان پر حملہ کرنا جس کے نتیجہ میں یہ مسلمان ملک آج تک جل رہا ہے اور بعد میں خود امریکی حکام نے اظہار کیا کہ القاعدہ کو خود انہوں ہی نے بنایا تھا۔
۲۰۰۳۔۔۔۔ اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر عراق پر حملہ و قبضہ کرنا۔
۲۰۱۱۔۔۔ قذافی کی سرنگونی کے بعد اس ملک میں ابھرتے ہوئے انقلاب کو ختم کرکے قابض ہوجانا۔
۲۰۱۱۔۔۔ شام کی منتخب حکومت کے خلاف دہشتگرد گروہوں کو شام بھیجنا اور مالی اور اسلحہ کی امداد کرنا۔
۲۰۱۱۔۔۔ بحرین کی ظالم حکومت کا ساتھ دینا اور انسانی حقوق پر مشتمل عوام کی آواز کو دبانا۔
۲۰۱۵ سے ۲۰۱۸ تک شامی حکومت کو زیر کرنے کے لئے سعودی عرب سمیت کئی ممالک کی علنی طور پر حمایت کرنا۔
۲۰۱۸۔۔۔ شام پر کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال
جس ملک کی پوری تاریخ ظلم و بربریت اور قتل و غارتگری سے عبارت ہو اس کا صدر ٹرمپ اپنا ماضی اور حال سب کچھ بھول کر اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح فوج پاسداران انقلاب کو دہشتگرد کہہ رہا ہے تو تاریخ میں اس سے بڑی مضحکہ خیز بات کیا ہوسکتی ہے ۔بھلا وہ ملک جس نے دنیا میں دہشتگردی کو ایجاد کیا اور دیگر ممالک میں مداخلت کی اور کبھی حملہ کیا اسے کس نے حق دیا ہے کہ وہ کسی ملک کی باضابطہ فوج پر دہشتگردی کا ٹائٹل لگائے؟


1
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम