Code : 1055 5 Hit

یوم الارض کے موقع پر فلسطینیوں کے پر امن واپسی مارج پر صیہونی فوجیوں کی وحشیانہ فائرنگ؛3فلسطینی شہید،200سے زائد زخمی

فلسطینیوں کے واپسی مارچ کی پہلی سالگرہ اور یوم الارض کے موقع پر نکالے گئے فلسطینی باشندوں کے پرامن مارچ پر صیہونی فوج کے حملے میں 3 فلسطینی شہید اور 210 سے زائد زخمی ہوئےہیں۔

ولایت پورٹل:المنار ٹیلی ویژن چینل نے خبر دی ہے کہ صیہونی فوجیوں نے یوم الارض کی مناسبت سے نکالے گئے فلسطینیوں کے حق واپسی مارچ پر وحشیانہ انداز میں فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 3 فلسطینی شہید اور 210سے زائد زخمی ہو گئے،زخمیوں میں 30 فلسطینی ایسے ہیں جنھیں براہ راست طور پر گولی ماری گئی ہے- صیہونی فوجیوں کی فائرنگ میں غزہ کے علاقے البریج میں الاقصی ٹیلی ویژن چینل کا ایک صحافی بھی زخمی ہوا ہے،المیادین ٹیلی ویژن چینل نے بھی خبر دی ہے کہ صیہونی فوجیوں نے غزہ کے مشرق میں ہلال احمر کی ایمبولینسوں پر بھی فائرنگ کی،اطلاعات ہیں کہ حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ بھی فلسطینیوں کے مارچ کے موقع پر غزہ کی سرحد پر واقع ملکہ کیمپ پہنچے تھے، غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں نے غزہ اور مقبوضہ فلسطین کی سرحد پر موجود ہزاروں فلسطینی مظاہرین پر گولیاں برسائیں اور دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا،غزہ سے موصولہ خبروں میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں کے شدید ترین حملوں کے  باوجود فلسطینی نوجوانوں نے جبالیہ کیمپ کے قریب سرحد پر خار دار تاروں کے نزدیک فلسطین کا پرچم لہرایا،اس درمیان عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے سیاسی دفتر کے رکن جمیل مزہرنے کہا ہے کہ یوم الارض اور پرامن واپسی مارچ فلسطینیوں کے اتحاد اور فلسطین کی ارضی سالمیت پر تاکید ہے،انہوں نے پرامن واپسی مارچ میں شرکت کے موقع پر کہا کہ فلسطینی امنگوں اور فلسطینی قوم کے حقوق پر کوئی سودے بازی نہیں ہو گی اور نہ ہی کسی قسم کی سازباز کی جا سکتی ہے،عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین کے سیاسی دفتر کے رکن جمیل مزہر نے کہا فلسطینیوں کا پرامن حق واپسی مارچ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس کے مقاصد پور نہیں ہو جاتے،ان کا کہنا تھا کہ  فلسطینی قیدیوں کا اقدام صیہونی حکومت کے خلاف جد وجہد کے لئے ایک انقلابی اقدام ہے ۔
سحر


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम